آئندہ مالی سال کیلئے 72کھرب94ارب روپے کے وفاقی بجٹ کااعلان

Share this story

آئندہ مالی سال کے لئے 72 کھرب 94 ارب نوے کروڑ روپے مالیت کے ٹیکس فری اور سہولت پر مبنی بجٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

صنعتوں اور پیداوار کے وزیر حماد اظہر نے جمعہ کی شام قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویزپیش کیں۔

وفاقی وزیر نے بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے غریب اور نادار طبقوں کی امداد حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اس مقصد کے لئے ایک مخصوص نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت تمام متعلقہ اداروں کو نئے تشکیل کردہ غربت کے خاتمے اور سماجی سکیورٹی ڈویژن میں ضم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے لئے بجٹ موجودہ 187 ارب روپے سے بڑھا کر 208 ارب روپے کیا گیا ہے۔

توانائی، خوراک اور دیگر شعبوں میں اعانت کی فراہمی کیلئے 179 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں
کورونا وائرس کے باعث صحت کے شعبے میں درپیش چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ حکومت نے کورونا وائرس کی وبا اور دیگر ناگہانی آفات کے منفی اثرات سے بچنے اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے ستر ارب روپے مالیت کا خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے اداروں کی استعداد بڑھانے اور صحت سے متعلقہ ساز و سامان کی تیاری میں اضافے کے لئے 20 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ صوبائی حکومتیں بھی کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کریں گی۔

تعلیم کے شعبے کے بارے میں حماداظہر نے کہا کہ اس شعبے میں اصلاحات کے لئے پانچ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم اور امتحانات کا معیاری نظام متعارف کروانے ، سمارٹ سکولز کے قیام اور مدارس کو قومی دھارے میں لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کیلئے مختص رقم انسٹھ ارب سے بڑھا کر چونسٹھ ارب روپے کردی ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ حکومت نے نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کو تیس ارب روپے فراہم کئے ہیں تاکہ عوام کو کم لاگت مکانات فراہم کئے جاسکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

ا نہوں نے کہا کہ اس سال حکومت پانی سے متعلق منصوبوں پر خصوصی توجہ دے گی اور اس سلسلے میں انہتر ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

دیامر بھاشا ، مہمند اور داسو جیسے بڑے منصوبوں کے لئے کافی وسائل مختص کئے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کی تجویز پر آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کی رقم کی پچیس کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کے مغربی روٹ سمیت اس سے متعلق منصوبوں کے لئے خاطرخواہ وسائل مختص کئے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ایک سو اٹھارہ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

حماداظہر نے کہا کہ گرانٹ کے تحت آزادکشمیر کے لئے 55 ارب روپے اور گلگت بلتستان کے لئے 32 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لئے مجموعی طور پر چھپن ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ سندھ کو نو ارب روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کی گئی ہے اور بلوچستان کو دس ارب روپے کی خصوصی گرانٹ جاری کی گئی ہے جو قومی مالیاتی کمیشن میں ان کے حصے کے علاوہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ترسیلات زر میں اضافہ کرنے کے اقدامات کے تحت پچیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ زرعی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے اور ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے دس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

حماداظہر نے ٹیکس تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے پیش نظرعام آدمی اور دکانداروں کو سہولتیں فراہم کرنے کی غرض سے سیلز ٹیکس کی شرح 14 سے کم کر کے 12 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہوٹل انڈسٹری پر کم سے کم ٹیکس کی شرح ایک اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کر کے اعشاریہ پانچ فیصد کی گئی ہے جس کا اطلاق اپریل سے ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کی سہولت کیلئے ایک موبائل ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرا سکیں گے۔

وفاقی وزیر نے سہولت پر مبنی اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ کے بغیر خریداری کی زیادہ سے زیادہ حد پچاس ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طبی مقاصد کے لئے صحت بخش خوراک کی درآمد پر سیلزٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ طبی سامان کی درآمد پر سیلزٹیکس پر استثنیٰ میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ درآمد کئے جانیوالے سگریٹ اور تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر سوفیصد کی جا رہی ہے جبکہ ای۔ سگریٹس اور تمباکو کی متبادل اشیاء بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

کیفین سے بنے توانائی سے بھرپور مشروبات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ غیرملکی ترسیلات زر کی رقم نکلوانے یا دیگر بینکوں کو منتقل کرنے پر ٹیکس عائد نہ کرنے کی تجویز ہے۔

حماداظہر نے کہا کہ دوسو سی سی تک کے آٹورکشہ، موٹرسائیکل رکشہ اور موٹرسائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ تمام بینکوں کے پاس مختلف افراد کو وصول ہونے والے منافع پر ٹیکس کاٹنے کا نظام موجود نہیں اس لئے ان پر 15فیصد کا یکساں ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مخصوص اداروں کو شرائط و ضوابط کے ساتھ دیئے جانے والے عطیات پر استثنیٰ دینے کی تجویز ہے تاکہ ان کی نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔

حماداظہر نے کہا کہ غیرمنقولہ جائیداد کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کی مدت موجودہ پانچ سال سے کم کر کے چار سال کرنے کی تجویز ہے۔

بعد میں ایوان کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

Share this story

Leave a Reply