اسرائیل فلسطین مسئلہ نازک موڑ کی حیثیت اختیار کر لے گا: اقوامِ متحدہ

Share this story

واشنگٹن ڈی سی — اسرائیل نے مغربی کنارے کے کچھ حصوں کے انضمام کا جو اعلان کیا ہے اس پر یکم جولائی سے عملدرآمد ہونا ہے۔ تاہم، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے انتباہ کیا ہے کہ انضمام سے متعلق اسرائیل کا منصوبہ، اسرائیل فلسطین مسئلے کے حوالے سے ایک نازک موڑ کی حیثیت اختیار کرلے گا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ عمل درآمد کی صورت میں انضمام کی کارروائی بین الاقوامی قانون کی نہایت سنگین خلاف ورزی ہوگی اور اس سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے اسرائیلی حکومت سے کہا کہ وہ انضمام کی اپنے منصوبے کو ترک کردے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو اسرائیل میں ضم کردیا جائے گا اور اس پر یکم جولائی سے عملدرآمد ہوگا۔ تاہم، دوسری جانب یہودی آبادکاروں میں اس فیصلے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

فلسطینی قیادت پہلے ہی اسرائیلی وزیر اعظم کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے رد کر چکی ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کہتے ہیں کہ منصوبے کے تحت 130 سے زیادہ یہودی بستیوں پر اسرائیل کا اقتدار اعلیٰ نافذ کردیا جائے گا۔

بیشتر یہودی آبادکار اس کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن، بہت سے یہودیوں کی منطق ہے کہ اس کے نتیجے میں اس حصے میں ایک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آسکتا ہے جسے ضم نہیں کیا جائے گا۔

وائس آف امریکہ کے لئے نامہ نگار لنڈا گریڈسٹائین نے بتایا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس میں اسرائیل کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ مغربی کنارے کے تیس فیصد تک کے حصے کا انضمام عمل لایا جاسکتا ہے۔ تاہم، ابھی تک کوئی ایسا نقشہ سامنے نہیں آیا کہ خاص طور پر کن علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔

افرات کی یہیودی بستی کے میئر اودید ریواوی کا موقف ہے کہ ٹرمپ کا معاہدہ ایک بہت بڑا موقع ہے، ایک ایسا موقع جسے، بقول ان کے، ضائع نہیں کیا جاسکتا۔

فلسطینیوں نے انتباہ کیا ہے کہ انضمام کے منصوبے پر عملدرآمد سے تشدد جنم لے گا۔ اس لئے کہ، ان کے مطابق، اس کے بعد ایک فلسطینی ریاست کا قیام ناممکن ہوجائے گا۔

دوسری طرف، افرات کی یہودی بستی کے مکینوں کا خیال ہے کہ انضمام کا منصوبہ ایک اسٹریٹجک غلطی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے صرف اسرائیلی وزیر اعظم کے ذاتی مفادات کو فائدہ پہنچے گا جن پر بدعنوانی کے الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

ایک یہودی مذہبی رہنما ربائی ہیرزویل ہفٹر کا تجزیہ ہے کہ ان کے خیال میں اسرائیلی وزیر اعظم کو اس کا ادراک نہیں کہ اس سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات، اردن کے ساتھ امن معاہدے، متحدہ امارات سے فروغ پاتے ہوئے رشتوں اور امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی اور ساتھ ہی جرمنی اور فرانس کے ساتھ بندھن کو صرف اس لئے وہ خطرے سے دوچار کرنا چاہتے ہیں کہ جیل جانے سے بچ سکیں۔

افرات میں بہت سے یہودی آبادکار ایسے بھی ہیں جو اسرائیلی قانون کی چھتری تلے رہنے کے خواہش مند ہیں۔ ان کی سوچ کے مطابق، اس سے ان کے روزمرہ کے معمولات پر مثبت اثر پڑے گا۔ تاہم، بعض دوسرے علاقوں کے یہودی آبادکار مختلف وجوہ کی بنا پر انضمام کے فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں۔ انھیں اس بات کی پریشانی ہے کہ مغربی کنارے کا ستر فیصد حصہ جو امریکی منصوبے کے مطابق ضم نہیں کیا جائے گا، وہ آخرکار ایک فلسطینی ریاست کی شکل اختیار کرلے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس منظرنامے میں بہرحال یہ اندیشہ عمومی طور پر پایا جاتا ہے کہ اگر انضمام کے منصوبے پر عمل ہوگیا تو اس سے تشدد پھوٹ پڑسکتا ہے اور یقینی طور پر عدم استحکام کی ایسی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے، جو ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

This article originally appeared on VOA Urdu

Share this story

Leave a Reply