اصول حکمرانی

Share this story

اصول حکمرانی

ارشاد احمد عارف

 

امیر تیمور گرگانی کی شہرت ایک تُنک مزاج، ترش رو، سخت گیر اور ظالم انسان کی ہے، ایک حد تک یہ درست بھی ہے لیکن تزک تیموری میں اس کی دور اندیشی، دانائی، رعایا پروری کا تاثر نمایاں ہے، اہل علم و دانش، تاجروں، اہل صنعت و حرفہ، شاعروں کے قدر دان اس شخص نے حکمرانی کے لئے صدیوں قبل جو اُصول وضع کئے وہ اب بھی قابل غور اور لائق تقلید ہیں۔ تیمور لکھتا ہے…:”میں نے امور ملک گیری و حکمرانی اور دشمن کی شکست اور دشمن کو اپنے دام میں لا کر مخالفوں کو دوست بنا لینے اور دوستوں اور دشمنوں سے میل جول اور برتائو کی تدبیر و رائے یہ قرار دی کہ بغیر سوچے اور مشورہ کئے ہوئے کوئی کام نہ کروں۔ کیوں کہ میرے پیر نے مجھے تحریر کیا تھا کہ”ابو المنصور تیمور! تم کاروبار سلطنت میں چار باتوں کو ہمیشہ لازم کر لینا۔ باہمی مشورہ، ذاتی رائے، دور اندیشی اور بیدار مغزی۔ کیونکہ جو سلطنت بادشاہ کی زبردست ذاتی رائے اور مشیروں کی نیک صلاح سے خالی ہو وہ بالکل اس جاہل شخص کے مشابہ ہے جس کے تمام افعال و اقوال سراپا غلط ہوتے ہیں اور اس کی باتیں اور اس کے کام از اول تا آخر پشیمانی اور ندامت ہی کا سبب سنتے ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ اپنی سلطنت کے کاروبار کو چلانے میں دانا لوگوں کے مشورے اور اپنی تدبیر پر عمل کرو تاکہ آخر میں پچھتانا نہ پڑے۔ خوب یاد رہے کہ سلطنت کے کاموں میں ایک حصّہ برداشت اور تحمل کا ہے اور دوسرا حصہ جاننے اور سمجھنے کے بعد فاضل او رنادان بننے کا، مگر پختہ ارادہ، صبر، پامردی و استقلال، دور اندیشی اور انجام بینی کے ذریعہ سارے کام سدھر جاتے ہیں۔”والسلام!!یہ خط گویا ایک رہنما تھا جس نے مجھے راہ راست دکھائی اور بتا دیا کہ سلطنت کے کاموں میں نو حصے تدبیر و مشورہ کے ذریعہ ہوتے ہیں اور صرف ایک حصہ تلوار کے وسیلہ سے۔ دانائوں کا مقولہ ہے کہ “ایک ہی عمدہ تدبیر سے ایسے ملک فتح کئے جا سکتے ہیں اور اس قسم کی فوجوں کو شکست دی جا سکتی ہے جو سینکڑوں لشکروں کی تلواروں سے بھی قابو میں نہ آ سکیں “۔ مجھے تجربہ ہوا کہ ایک آزمودہ کار، بہادر جواں مرد، صاحب عزم و تدبیر اور دور اندیش آدمی ہزار بے تدبیر اور غیر دور اندیش آدمیوں سے کہیں بڑھ کر اچھا اور مفید ہوتا ہے کیوں کہ ایک ایک زیرک و دانائے کار آدمی ہزار ہزار آدمیوں سے اپنے ماتحت کام لیتا ہے۔”بارہ چیزوں کو میں نے اپنا شعار بنایا تاکہ بااستقلال تمام تخت و سلطنت پر متمکن رہوں اور مجھے اس کا تجربہ ہو گیا ہے کہ جو بادشاہ ان بارہ چیزوں سے عاری ہو سلطنت سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا۔ 1۔ اولاً چاہیے کہ قول و فعل خود اس کا اپنا ہو، یعنی سپاہ و رعیت جانتی رہے کہ جو کچھ بادشاہ کہتا اور کرتا ہے خود کہتا ہے اور کرتا ہے کسی دوسرے کو اس میں دخل نہیں۔ پس لازم ہے کہ بادشاہ دوسروں کے قول و فعل پر اس طریق سے عمل نہ کرے کہ وہ مرتبہ سلطنت میں شریک ہو جائیں۔ اگرچہ یہ لازم ہے کہ تمام اشخاص کی اچھی باتوں کو خوب سن لیا کرے۔ مگر نہ اس طور سے کہ وہ قول و فعل سے امور سلطنت میں شریک و غالب ہو جائیں۔ 2۔ دوم، سلطان کو لازم ہے کہ ہر امر میں عدالت سے کام لے اور وزرائے منصف و عادل کو اپنی خدمت میں مامور کرے کیوں کہ اگر بادشاہ ظالم ہو تو وزیر عادل اس کا تدارک کر لیتا ہے لیکن اگر وزیر ظالم ہو تو جلد خانہ سلطنت خراب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ امیر حسین کا ایک وزیر تھا بڑا ظالم جو حق و ناحق سپاہ و رعیت سے جرمانے وصول کرتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اس بے انصاف وزیر کے ظلم سے امیر حسین کی سلطنت خراب ہو گئی۔ 3۔ سوم، ہر امرو نہی میں استقلال سے کام لے اور بذات خود حکم دے تاکہ کسی دوسرے کو اس حکم میں دخل دینے اور اسے بدلنے کی تاب ہی نہ رہے۔ 4۔ چہارم، اپنے ارادہ پر پکار ہے اور جب کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے توڑے نہیں اور جب تک اسے اتمام تک نہ پہنچائے اس سے باز نہ آئے۔ 5۔ پانچواں امر اجرائے احکام ہے۔ جو حکم دے چاہیے کہ وہ جاری بھی ہو جائے اور کسی کو اس حکم کے رد کرنے کی جرأت نہ ہو خواہ اس حکم سے ضروری متصور ہو چنانچہ میں نے سنا ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے ایک پتھر کی نسبت حکم دیا کہ غزنی کے میدان میں ڈال دیا جائے اس پتھر سے لوگوں کے گھوڑے بدک جاتے تھے۔ مگر ہر چند لوگوں نے عرض کیا اس پتھر کو راستہ سے اٹھوا دیا جائے یہی جواب دیتا کہ میں نے حکم دیا ہے اپنے حکم سے نہیں ہٹ سکتا اور اس کے خلاف حکم نہیں دے سکتا۔ 6۔ ششم، اپنی سلطنت کے امور کو مستقل طور پر کسی دوسرے کے سپرد نہ کرے اور اور عنان اختیار دوسرے کے ہاتھ میں نہ دے کیونکہ دنیا غدار ہے اور اس کے بے شمار عاشق ہیں زیادہ عرصہ نہ گزرے گا کہ وہ شخص جسے اختیار دیا گیا ہے سلطنت پر مائل ہو کر مرتبہ سلطنت پر متصرف ہو جائے گا جیسا کہ سلطان محمود (تغلق) سے اس کے وزراء نے کیا اور اسے مرتبہ سلطنت سے برطرف کر کے خود متصرف و قابض ہو گئے۔ پس لازم ہے کہ امور سلطنت کو چند معتبر و معتمد اشخاص کے تابع کر دے تاکہ ہر شخص اپنے اپنے کام میں مشغول رہے اور سلطنت کے قبضہ کی طمع نہ کر سکے۔ 7۔ ہفتم، امور سلطنت میں ہر شخص کی بات سنے جو اچھی معلوم ہو اسے خزینہ دل میں محفوظ رکھ کر مناسب وقت پر کام میں لائے۔ 8۔ ہشتم، امور سلطنت اور معاملات سپاہ و رعیت میں ہر شخص کے قول و فعل پر عمل نہ کرے، امرا، وزراء میں سے اگر کوئی کسی شخص کے حق میں کوئی بات اچھی یا بری کہے تو اسے سن ضرور لے مگر جب تک حقیقت حال ظاہر نہ ہو جائے اس پر عمل نہ کرے۔ 9۔ نہم، اپنی سلطنت کا رعب سپاہ و رعایا کے دلوں میں اس طور سے بٹھا دے کہ کسی کو اس کے احکام سے سرتابی کا یارا نہ رہ جائے اور اس کی تابعداری و متابعت سے سرکشی نہ کر سکے۔ 10۔ دہم، جو کچھ کرے اپنی ذات سے کرے اور جو کچھ کہے اس پر راسخ رہے کیونکہ بادشاہ کے پاس حکم فرمائی کے اعزاز کے سوا درحقیقت اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ خزانہ، لشکر، رعیت جو کچھ ہو بادشاہوں کے لئے ان کا یہی حکم ہوتا ہے۔ 11۔ گیارہویں، امور سلطنت اور اپنے احکام کے اجرا میں اپنے آپ کو بے شریک ہو جانے اور کسی کو سلطنت میں شریک نہ بنائے۔ 12۔ بارہویں، اپنی مجلس کے لوگوں کے حالات سے باخبر رہے اور ہوشیاری برتے کیونکہ اکثر عیوب کے متلاشی رہتے ہیں اور باہر خبریں پہنچا دیتے ہیں اور بادشاہ کی گفتار و کردار سے امراء وزراء کو مطلع کر دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ صورت مجھے بھی پیش آئی کیونکہ میری مجلس خاص کے چند آدمی امراء وزراء کے جاسوس ثابت ہوئے۔”

Share this story

Leave a Reply