افغان حکومت اور طالبان کے درمیان تاریخی امن مذاکرات دوحہ میں شروع

Share this story

پاک جرگہ (ویب ڈیسک) افغان حکومت اور طالبان کے درمیان تاریخی امن مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوہا میں شروع ہو گئے ہیں تاکہ افغانستان میں دودہائیوں سے جاری جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے جس میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔

افغانستان کے متحارب دھڑوں کے مذاکرات سے قبل مختلف ممالک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کا اعلان کریں اور معاہدے کو حتمی شکل دیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے مذاکرات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ جامع امن معاہدے کو یقنی بنانے کے لئے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس امر کو تسلیم کریں کہ مستقبل میں کئی چیلنجز کا سامنا ہو گا۔

افغانستان کی امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ دونوں فریقین تمام نکات پر متفق نہ بھی ہوں تو انہیں سمجھوتہ کرنا چاہئے۔

طالبان وفد کے سربراہ ملا برادر اخوند نے کہا کہ افغانستان میں اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئے جہاں تمام قبائل اور نسلی گروہوں کو بلاتفریق امن و آشتی سے زندگی گزارنے کی آزادی ہو۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ مذاکرات میں مشکلات ہو سکتی ہیں لیکن انہیں صبروتحمل سے آگے بڑھنا چاہئے۔

اس موقعے پر بات چیت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگٹریس نے کہا کہ ایسا امن عمل جس میں خواتین، نوجوان اور جنگ سے متاثرہ افراد کو بامعنی نمائندگی حاصل ہو پائیدار حل کی بہترین امید دلاتا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ امن کی جانب پیشرفت سے لاکھوں افغان مہاجرین گھروں کی واپسی ممکن ہوسکے گی۔

چین کے وزیر خارجہ Wang Yi نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کا خاتمہ اور پائیدار امن تین کروڑ ستر لاکھ سے زائد افغان عوام کی شدید خواہش اور خطے کے ملکوں اور بین الاقوامی برادری کی مشترکہ توقع ہے۔

ترک وزیرخارجہ Mevlut Cavusolgu نے کہا کہ ابتدا میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ جنگ اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے ادوار کی میزبانی سمیت ہر ممکنہ طریقے سے اس عمل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Share this story

Leave a Reply