اقلیتوں کے لیے خطرناک بھارت

Share this story

اقلیتوں کے لیے خطرناک بھارت

صابر شاکر

 

مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضے کو خودساختہ “قانونی”جواز بخشنے کے لیے انتہا پسند مودی سرکار نے مزید ناجائز اقدامات کے ذریعے گزشتہ برس اگست میں مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے وادی کو ازخود انڈیا میں ضم کرنے کا اعلان کردیا اور اَسی لاکھ کی آبادی کو گھروں میں محبوس کردیا، جسے لاک ڈاؤن کا نام دیاگیا۔ گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیاگیا اور آج تک ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کرکے بھارت کے مختلف شہروں کے قید خانوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ سینکڑوں کشمیریوں کو شہید کیاجاچکا ہے، خواتین کی آبروریزی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

انتہا پسند ہندو ریاست بھارت کے فاشسٹ ہندوؤں کا خیال تھا کہ چھ ماہ کے کرفیو، لاک ڈاؤن اور ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں کشمیری ہتھیار ڈال دیں گے اور یوں کشمیر کا قضیہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے گا، لیکن نو ماہ ہونے کو ہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بہتری تو درکنار، حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اور تمام تر ظالمانہ اور ریاستی دہشت گردی کے حربوں کے باوجود کشمیریوں کو ڈرایا جاسکا ہے اور نہ ہی دبایا جاسکا ہے۔ وادی میں مزاحمت پہلے سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے۔ اس کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ جیسے ہی کشمیر میں حالات بھارتی فوج کے قابو سے باہر نکلتے ہیں اور مزاحمتی جدوجہد زور پکڑجاتی ہے تو بھارت لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کردیتا ہے اور پاکستان کے ساتھ محدود جنگ شروع کردیتا ہے، جس میں وہ ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے۔ آزاد کشمیر کی سول آبادیوں کو نشانہ بناتا ہے اور الزام تراشی کا عمل شروع کردیتا ہے۔ بھارتی جارحیت کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی نظروں سے مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والی بھارتی دہشت گردی کو اوجھل رکھا جاسکے، لیکن گزشتہ سال اٹھائے گئے بھارتی اقدامات کو ابھی عالمی سطح پر بھی کھل کر پزیرائی نہیں مل سکی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دورۂ پاکستان کے دوران اور دیگر مواقع پر بھی اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ کشمیر متنازع مسئلہ ہے اور کوئی بھی ملک یک طرفہ طور پر اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، جبکہ مختلف عالمی تنظیموں اور خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور جینوسائڈ واچ نے بھی اپنی رپورٹس میں عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کی کافی کوشش کی اور بھارت کے ظلم وستم سے آگاہ کیا، لیکن معاملہ چونکہ صرف کشمیری مسلمانوں تک محدود تھا اور اسے ہندو مسلم تنازعہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس لیے بھارت نے اس دباؤ کو درخوراعتنا نہ سمجھا۔ دوسری وجہ بھارت کا دیگر ممالک کے لیے بڑی اقتصادی منڈی ہونا ہے۔ ایران کے تو ہمیشہ سے بھارت کے ساتھ تعلقات رہے ہیں لیکن سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے بھی بھارت میں لگ بھگ ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے بھارت کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے ان ملکوں نے اقتصادی و معاشی مفادات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔

اس دوران انتہا پسند ہندو ریاست اپنی دوسری اقلیت سکھوں کا قتل عام بھی کرچکی ہے اور دنیا اس وحشیانہ قتل عام اور ریاستی دہشت گردی پر بھی خاموش رہی۔ معاملہ صرف مقبوضہ وادی تک اور مسلمانوں اور سکھوں تک تھا تو ہندو انتہا پسند ریاست کے ظلم وستم پر مغرب خاموش رہا، لیکن اب دہشت گرد ہندوؤں نے ایک قدم بڑھایا ہے اور اپنے خفیہ اور دیرینہ ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے پیش قدمی شروع کی تو دنیا بھر کی عیسائی ریاستوں کی پہلی بار آنکھ کھلی، بلکہ انہیں بھی ایک جھٹکا لگا کہ بھارت کو ہندوتوا ایجنڈے کی طرف لے جایا جارہا ہے، یعنی بھارت صرف ہندوؤں کے لیے ہے، باقی تمام مذاہب کے لوگوں کا بھارت پر کوئی حق نہیں اور جینوسائڈ واچ کی وہ رپورٹ سچ ثابت ہوتی نظر آئی کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد دیگر اقلیتوں کی نسل کشی کی طرف بڑھے گا اور اس میں عیسائی اقلیت بھی شامل ہے۔ یہ خفیہ ایجنڈا اس وقت منظرعام پر آیا جب مودی سرکار نے ہندوستان کے شہریوں کی ازسرِ نو شہریت کی تصدیق کے لیے شہریت ترمیمی ایکٹ منظور کیا اور اقلیتوں کو حکم دیاگیا کہ وہ اپنے ہندوستانی ہونے کے ثبوت لے کر آئیں اور جو ثبوت نہیں لائے گا، اسے حراستی مراکز میں رکھا جائے گا۔ اس دوران انتہا پسند بی جے پی اور آر ایس ایس کے دہشت گرد پورے بھارت میں دندناتے ہوئے نظر آتے، جو مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کی خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں ہندو مت قبول کرنے پر اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہوا تو اس کالے قانون کے خلاف اعتدال پسند ہندو بھی میدان میں آگئے، لیکن ہندوستان میں ہندوتوا کو غلبہ دینے کے لیے وہاں کی فوج، پولیس اور ریاستی مشینری بھی دہشت گرد ہندوؤں کی پشت پناہی کرتی نظر آئی۔ دہلی میں مسلمانوں کا ایک بار پھر قتلِ عام کیا گیا ان کی املاک جلادی گئیں اور گجرات کے مسلم نسل کشی اور قتلِ عام کے عمل کو دہرایا گیا۔ عیسائیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایک اور خبر جو لیک ہوئی یہ تھی کہ بھارتی فوج سے غیر ہندؤوں کو بتدریج نکال دیا جائے گا اور بھارتی فوج میں مزید بھرتیوں میں بھی ہندوؤں کو پہلی ترجیح قرار دیاگیا ہے۔ سکھ، عیسائی، مسلمان اقلیتوں کی خاص طور پر حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔ شہریت ترمیمی ایکٹ اور شہریوں کی نئی رجسٹریشن قانون کے پس پردہ عوامل اور اس کے خلاف ملک گیر تحریک کو کچلنے کے لیے جس طرح کے وحشیانہ مناظر بھارت میں دیکھے گئے ان سب کو دہلی میں موجود غیرملکی سفارتخانوں اور دیگر شہروں میں قائم غیرملکی قونصل خانوں نے بھی مانیٹر کیا اور جو رپورٹس اپنے اپنے ملکوں کو ارسال کیں وہ مودی سرکار کے لیے کافی تکلیف دہ تھیں۔ ان رپورٹس کی روشنی میں ہی امریکہ نے بھارت کو اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیا ہے۔ بابری مسجد پر بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی مایوس کن قرار دیا گیا ہے اور لگ بھگ ساڑھے تین سو سے زائد ایسے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں غیر ہندؤوں کے ساتھ مستقبل میں کیسا سلوک ہو گا۔ اس طرح بلیک لسٹ کی تلوار بھارت پر لٹکنا شروع ہوگئی ہے۔ امریکی حکام نے بھارت وزیراعظم اور صدرکے ٹویٹر اکاؤنٹ کو اَن فالو کردیا ہے، اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اقتصادی شعبے میں بھی بھارت کا خاص درجہ ختم کردیا تھا۔ اس امریکی رپورٹ میں بھارت کے برعکس پاکستان کی ستائش کی گئی ہے اور اقلیتوں کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہا گیاہے۔ مودی سرکار نے امریکی رپورٹ کو رکوانے کیلئے بیک ڈور چینل پر کافی تگ و دو کی، یہاں تک کہ چند ہفتے قبل یہ اعلان کیا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ پر عملدرآمد فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔ مودی سرکار نے اس فیصلے سے اقوامِ متحدہ کو بھی باضابطہ تحریری طور پر آگاہ کردیا تھا، لیکن باوجود کوشش کے وہ رپورٹ کو نہیں رکوا سکے۔

بھارتی ہندو اسٹیبلشمنٹ کی دیرینہ خواہش ہے کہ ہندوؤں اور صرف ہندؤوں کی اپنی ایک ریاست ہونی چاہیے، جس میں ان کے سوا کوئی اور نہ ہو۔ ہندو یہودیوں کی ریاست، مسلم ریاستوں خاص طور پر مسلمانوں کی واحد ایٹمی قوت پاکستان نیز متعددعیسائی ریاستوں کو رشک سے دیکھتے ہیں اور وہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ وہ ایک ارب کی آبادی ہونے کے باوجود ایک بے شناخت ریاست ہیں، اس حسد بھری حسرت میں کئی سو سالوں سے وہ جل رہے ہیں، نریندر مودی کے ذریعے وہ اپنی اس منزل کو پانے کی کوشش میں ہیں، مودی بھارت کی انتہا پسند اسٹیبلشمنٹ کا ایک مہرہ ہیں، اسے وہ زیادہ سے زیادہ استعمال کریں گے اور اگر وہ اپنی ہندوریاست کی منزل کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو پھر ساری ناکامی کا ملبہ مودی پر ڈال کر اس کی قربانی دے دیں گے، کیونکہ آئندہ الیکشن میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ پریانکا گاندھی کو سافٹ امیج کے طور پر میدانِ سیاست میں اتارنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بہرکیف فیٹف میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرتے کرتے بھارت خود مصیبت کا شکار ہو چکا ہے۔ 

Share this story

Leave a Reply