امریکی صدارتی دوڑ آخری مراحل میں، دس کروڑ سے زیادہ ووٹ ڈالے جا چکے ہیں

Share this story

امریکہ کے 59ویں صدارتی انتخاب کے سلسلے میں امریکی عوام رپبلکن امیدوار اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن میں سے کسی ایک کو اپنا اگلا صدر منتخب کرنے والے ہیں۔ دس کروڑ ووٹ پہلے ہی ڈالے جا چکے ہیں اور عوامی جائزوں کے مطابق بائیڈن کو صدر ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس انتخاب میں بڑی تعداد میں امریکی عوام ووٹ دیں گے اور یہ ممکنہ طور پر ایک صدی میں سب سے بڑی تعداد ہو سکتی ہے۔

بی بی سی کے مطابق کروڑوں امریکی شہری تین نومبر کو 59ویں صدارتی انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں جبکہ نو کروڑ امریکی انتخاب کے دن سے پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔

امریکہ میں کووڈ 19 کی وبا کے باعث بڑی تعداد میں امریکی عوام نے قبل از انتخاب ووٹ ڈالنے کو ترجیح دی ہے اور توقع ہے کہ ایک صدی میں ووٹ ڈالنے والوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہوگی۔

امریکہ میں ہونے والی قومی انتخابی جائزوں کے اعداد وشمار کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار، 77 سالہ جو بائیڈن کو موجودہ صدر اور رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔

74 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش ہوگی کہ وہ جارج بش سینیئر کی تقلید نہ کریں۔ سنہ 1992 میں جارج بش سینئیر آخری امریکی صدر تھے جو صرف ایک دور کے لیے صدر بنے۔

یہ انتخاب ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے روزانہ ہزار سے زیادہ افراد کی موت ہو رہی ہے اور ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ تیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

ووٹنگ کا سلسلہ امریکہ میں منگل کی صبح شروع ہوگا اور ملک کے مشرقی حصے میں گرینچ ٹائم کے مطابق رات 11 بجے تک ووٹنگ بند ہو جائے گی جبکہ الاسکا میں گرینچ وقت کے مطابق بدھ کی صبح چھ بجے تک ووٹنگ کا وقت ہے۔

Share this story

Leave a Reply