انشاءاللہ کشمیر ضرور آزاد ہوگا، کشمیری بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے: صدر

Share this story

 صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ، انتظامیہ ، عدلیہ ، مسلح افواج اور ذرائع ابلاغ سمیت تمام اداروں کا سماجی واقتصادی انصاف کی فراہمی، بدعنوانی کے خاتمے اور قومی ترقی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے حوالے سے یکساں موقف ہے ۔

وہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ایوان کے دوسرے پارلیمانی سال پر تمام اراکین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، آج مجھے تیسری مرتبہ یہاں خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان درحقیقت ایک ایسے مقام پرپہنچ چکا ہے جہاں سے وہ ترقی کے راستے پر گامزن ہوگا انہوں نے کہاکہ آج پاکستان کا ایسا روشن مستقبل نظر آرہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھاگیا۔انہوں نے نوجوانوں پرزوردیا کہ وہ قوم کی خدمت کیلئے مذہبی ، ثقافتی اور سماجی اقدار کی پیروی کریں۔

مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ کشمیر پالیسی پر وزیراعظم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جنرل اسمبلی میں تقریر اور اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آنا جیت ہے۔ بھارت نے ہر جنیوا کنونشن، شملہ معاہدے اور اقوام متحدہ قراردادوں کی خلاف ورزی کی۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہو رہا۔ بھارت میں تناؤ ہمارے لیے بھی اچھا نہیں ہوگا۔ انشاء اللہ جلد کشمیر آزاد ہوگا، ہندوتوا فاشسٹ حکومت چل نہیں سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اسرائیل کے معاملے پر دو ٹوک بیان دیا۔ انہوں نے کلیئر کر دیا کہ فلسطینیوں کو حقوق ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اسرائیل کے بارے میں قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی پر قائم ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین کے دو ریاستی حل کے حامی ہیں۔ پاک سعودیہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ دوستی بڑی مستحکم ہے اور رہے گی۔

صدر نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق پارلیمنٹ کی طرف سے پاس کیے گئے بلوں کو سراہا اور کہاکہ ایوان کو قوم کے بہترین مفاد میں قانون سازی کے حوالے سے اپنا کردارجاری رکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مکمل لاک ڈائون کے نفاذ کے دبائو کے باوجود حکومت نے سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی اپنائی جس سے لوگوں کی زندگیاں اور روزگار بچانے میں مدد ملی ۔ انہوں نے کہاکہ یہ دانشمندانہ اور دور اندیش سوچ سراہے جانے کی مستحق ہے ۔

انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کی ہماری پالیسی کوجاپان اور فلپائن سمیت عالمی برادری نے بھی سراہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ انہتر لاکھ خاندانوں کو بارہ ہزار روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی ۔

معاشی صورتحال کا ذکرکرتے ہوئے صدر نے اطمینان ظاہر کیا کہ کورونا وائرس کے باوجود معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد عالمی مالیاتی اداروں نے بھی پاکستان کی مثبت معاشی صورتحال کو تسلیم کیا ہے۔

معاشی محاذ پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ذکرکرتے ہوئے صدر نے کہا کہ حسابات جاریہ کا خسارہ بیس ارب ڈالر سے کم ہو کر تین ارب ڈالر رہ گیا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر ساڑھے بارہ ارب تک پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعت کیلئے حکومت کی مراعات سے برآمدات بڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کے مہینے میں برآمدات ایک ارب نوے کروڑ سے بڑھ گئی ہیں جو کہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد زائد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر بیس ارب ڈالر سے بڑھ کر تئیس ارب ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی میں ترسیلات زر میں چھتیس اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران زرعی شعبے میں مثبت ترقی دیکھی گئی اور انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس شعبے کو دو سو اسی ارب روپے کا ایک بڑا پیکج دیا جس کے تحت کسانوں کو ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی اعانتی نرخوں پر فراہم کی جائے گی۔

صدرنے کہا کہ حکومت نے تعمیراتی شعبے کیلئے تاریخی پیکج کا اعلان کیا جس سے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ ملک کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ ثابت ہو گا جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمگلنگ اور گردشی قرضے کے مسائل پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

صدر نے کہا کہ حکومت یکساں تعلیمی نصاب لانے کیلئے کوششیں کر رہی ہے جو معاشرے میں ہم آہنگی اور یگانگت کے فروغ اور قوم کی تعمیر میں مددگار ثابت ہو گا۔

خطاب شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شور شرابہ اور احتجاج شروع کر دیا، خواجہ آصف سمیت دیگر اپوزیشن اراکین اپنی نششتوں پر کھڑے ہو گئے۔ جمعیت علمائے اسلام، پی کے میپ، پیپلز پارٹی اور ن لیگی ارکان واک آؤٹ کرکے ایوان سے چلے گئے۔

اس پر صدر مملکت نے کہا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں سمجھتا تھا کہ اس مرتبہ خاموشی سے تقریر سنیں گے۔ 

Share this story

Leave a Reply