آذربائیجان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد آرمینیا میں مارشل لا نافذ

Share this story

ویب ڈیسک — آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشینيان نے آذربائیجان کے ساتھ متنازع علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ملک میں مارشل لا نافذ کرتے ہوئے اپنی افواج کو متحرک کر دیا ہے۔

وزیراعظم نکول پاشینيان کا سماجی رابطوں کی سائٹ ‘فیس بک’ پر فوج کے نام پیغام میں کہنا تھا کہ وہ اپنے عظیم وطن کے دفاع کے لیے تیار ہو جائیں۔

آرمینیا اور آذربائیجان کی افواج کے درمیان ناگورنو کاراباخ کے اطراف میں اتوار کی صبح سے جھڑپوں کو سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

ناگورنو کاراباخ کا علاقہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ماضی میں بھی جھڑپوں کی وجہ بنتا رہا ہے جب کہ اس مسئلے پر دونوں ملکوں کے درمیان میں ایک جنگ بھی ہو چکی ہے۔ چھ سال تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 35 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

متنازع علاقے میں آرمینیا سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت آباد ہے تاہم یہ علاقہ مکمل طور پر آذربائیجان کی حدود میں واقع ہے۔

آرمینیا نے آذربائیجان پر الزام لگایا ہے کہ اس کی طرف سے متنازع علاقے میں آباد عام لوگوں کی بستیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

آرمینیا کے وزیر دفاع کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں ان کا ردعمل مناسب ہو گا اور آذربائیجان کی عسکری اور سیاسی قیادت اس صورت حال کی ذمہ دار ہو گی۔

آرمینیا کے حکام نے دعویٰ کیا کہ آذربائیجان کی فورسز کی طرف سے کیے جانے والے حملوں کے جواب میں ان کے دو ملٹری ہیلی کاپٹرز اور تین ڈرونز مار گرائے ہیں۔

ایک ہیلی کوپٹر مار گرائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ عملہ محفوظ ہے۔

تاہم آذربائیجان کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر ملٹری آپریشن شروع کیا ہے تاکہ اپنی آبادی کو محفوظ کیا جاسکے۔

ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے آذربائیجان کے حکام کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں عملہ محفوظ رہا۔

خیال رہے کہ آرمینیا سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں خونی جنگ کے بعد ناگورنو کاراباخ کے علاقے پر قبضہ کیا تھا۔

آرمینی اکثریت والے اس علاقے نے 1988 میں آزادی کا اعلان کر دیا تھا جس کے نتیجے میں آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی، جو چھ سال جاری رہی۔

یہ جنگ 1994 میں ختم ہوئی اور اس کے بعد بین الاقوامی برادری کی امن قائم کرنے کی بارہا کوششیں ناکام رہی ہیں۔

This article originally appeared on VOA Urdu

Share this story

Leave a Reply