ایک اور عرب ملک کے ‘اگلے ایک یا دو دن میں’ اسرائیل-عرب معاہدہ میں شامل ہونے کا امکان

Share this story

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل-عرب امن معاہدہ ‘اگلے ایک دو دن میں‘ ممکن ہے

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی سفیر Kelly Craft نے بدھ کے روز العربیہ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک اور عرب ریاست چند دنوں میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرسکتی ہے۔

کیلی کرافٹ  نے العربیہ نیوز نیوز کو بتایا کہ “ہمارا منصوبہ ہے کہ بہت سے ممالک کو اس میں شامل کریں گے، جس کے بارے میں بہت جلد اعلان کیا جائے گا۔”شاید اگلے ایک یا دو دن میں ایک ہوسکتا ہے۔”

انہوں نے اس ماہ کے شروع میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ اسرائیل کے معاہدوں کو ایران کے خلاف اپنی حکت عملی کے طور پر ظاہر کیا۔

“ظاہر ہے،  اگلے ملک کے طور پر ہم سعودی عرب کے آنے کا خیرمقدم کریں گے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم معاہدے پر توجہ دیں اور ہم [ایران] کو بحرین ، متحدہ عرب امارات یا اسرائیل کی خیر سگالی کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اسرائیل نے 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کی ایک تقریب میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل امن معاہدہ اور بحرین کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا تھا۔ اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں کا بار بار کہنا ہے کہ دوسری عرب ریاستیں بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے پر عمل کریں گی۔

اس سے قبل عرب ریاستوں میں صرف مصر اور اردن  کے اسرائیل کے ساتھ سرکاری تعلقات تھے۔

سوڈان، جس کی امید کی جارہی تھی، نے امریکی عہدیداروں سے متحدہ عرب امارات میں بدھ کے روز مزاکرات کیے جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے اور بغیر کسی پیشرفت کے اپنے اختتام کو پہنچ گئے۔ البتہ سوڈانی حکام  نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ یہ مذاکرات “تعمیری” تھے۔

سوڈان کے علاوہ عمان اور مراکش کے ساتھ بھی مستقبل قریب میں اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کی بھی کوشش جاری ہیں۔

ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کے بعد کہا تھا کہ انھیں توقع ہے کہ “سعودی عرب سمیت 7 یا 8 یا 9 ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں شامل ہو جائیں گے”۔

Photo courtesy U.S. Embassy & Consulates in Turkey/AP

Share this story

Leave a Reply