ایں خیال است و محال است و جنوں

Share this story

ایں خیال است و محال است و جنوں

ہارون الرشید

 

واقعہ یہ ہے کہ بہت پہلے ہمارے ہیرو نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ شکست میدانِ جنگ میں بعد ازاں واقعہ ہوتی ہے۔ دل کے دیار میں بہت پہلے۔ باتیں جتنی مرضی بنائے، اپنے دل میں وہ ہار چکا ہے۔

علیم خاں سے بات ہوئی تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ بتایا کہ لگ بھگ پانچ سو فلور ملوں میں سے اڑھائی سوبند اور بے کار پڑی رہتی ہیں۔ سرکاری گوداموں سے 1400 روپے من کے حساب سے گیہوں وصول کرتی، 400 روپے منافع پر بازار میں بیچ دیتی ہیں۔ بیٹھے بٹھائے28 فیصد منافع۔ کیا یہ بجلی اور شوگر ملوں سے بھی بڑا گھپلا نہیں؟ اس پر کبھی کوئی کمیشن کیوں نہ بنا؟

ایک ذمہ دار سرکاری شخصیت سے پوچھا کہ جعل ساز ی کرنے والی فلور مل سال بھر میں کتنا منافع کما لیتی ہوگی۔ کیا ڈیڑھ دو کروڑ روپے؟ جواب یہ تھا: اتنے پیسے تو محکمہ خوراک کے اہلکار لے اڑتے ہیں۔ معلوم نہیں، کب سے یہ شعار چلا آتا ہے۔ یہ تو آشکار ہے کہ اربوں روپے سالانہ کا گھپلا ہے اور کبھی کسی حکومت کو اس کی پرواہ نہ تھی۔ آٹے کا بحران پیدا نہ ہوتا تو بحث کا آغاز ہی نہ ہوتا۔ نقب زنی اسی طرح جاری رہتی او رغریب آدمی کا خون پینے کا سلسلہ بھی۔ ایک دوبار نہیں، سینکڑوں مرتبہ سوال اٹھا کہ سال کے اختتام تک آٹے کی قیمت لگ بھگ دو گنا کیسے ہو جاتی ہے۔ جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔

سینکڑوں برس گزرے، یہ سوال ایک بادشاہ کے ذہن میں بھی پیدا ہوا تھا۔ اس کا نام علاؤالدین خلجی تھا۔ عالمِ اسلام کا واحد حکمران، تاتاریوں کی یلغار کو جس نے روک دیا تھا۔ وسطی ایشیا، ایران اور عراق کو روندتے ہوئے جو دمشق جا پہنچے تھے۔ صدیوں سے چلی آتی عباسی حکومت کو جنہوں نے گھوڑوں کے پاؤں تلے روند ڈالا۔ ایک کروڑ مسلمانوں کو قتل کر ڈالا اور ان کی ہیبت سے زمین تہہ و بالا تھی۔

خلجی کی سلطنت میں وہ کیوں داخل نہ ہو سکے۔ کچھ زیادہ تفصیلات مہیا نہیں لیکن یہ تو واضح ہے کہ قومی دفاع اس کی اوّلین ترجیح تھا۔ ذہنی طور پر وہ پہلے سے تیار بیٹھا تھا۔ جب کبھی وحشیوں کے لشکر طورخم کے ادھر نمودار ہوئے، ہر بار انہیں پسپا ہونا پڑا۔ دنیا کا ہر فاتح جانتا ہے کہ پہاڑوں سے ٹکرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایران سہل تھا؛ چنانچہ وہ دوسری طرف چل نکلے؛حتیٰ کہ دمشق جا پہنچے۔

یہ اسی شب کا واقعہ ہے کہ رسولِ اکرمؐ کی دعاؤں کا مجموعہ حصنِ حصین مرتب کرنے والے امام ابن الجزری ؒنے آپ ؐ کو خواب میں دیکھا۔ آپ ؐنے انہیں تشفی دی۔ چنگیزی لشکر اگلی صبح واپس چلا گیا۔ کبھی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ایسا کیوں ہوا؟ قرآنِ کریم سے پوچھیے تو اس سوال کاایک جواب ملتاہے “اللہ کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا” اور یہ کہ “ہر ذی روح کو اس نے ماتھے سے تھام رکھا ہے”۔ کوئی خیال انسانی ذہن پہ نازل ہوتا اور غالب آجاتاہے۔ ظاہر ہے کہ تاتاری کسی نادیدہ خوف کا شکار ہوئے۔

علاؤ الدین خلجی کا قصہ بیچ میں رہ گیا۔ اسے بھی آٹے کی گرانی کا چیلنج درپیش تھا۔ گیہوں کی برداشت کا موسم شروع ہونے سے پہلے دس گیارہ ماہ کے اندر قیمتیں دو گنا ہو جاتیں۔ ایک دن اس حال میں اسے دیکھا گیا کہ سرجھکائے بیٹھا ہے، اپنے خیالات میں مستغرق۔ ایسا گہرا او رشدید انہماک کہ گھنٹوں نظر اٹھا کر نہ دیکھا۔ کوئی آداب بجا لانے کے لیے حاضر ہو ا تو اس کے قدموں کی چاپ کیا، آواز بھی سن نہ سکا۔ پریشان ہو کر ایک درباری سلطان کے ایک ذاتی دوست کے پاس جاپہنچا۔

جہاں پناہ کی خدمت میں وہ حاضر ہوا اور جسارت کی تو خلجی نے کہا: یہ خیال مجھے اذیت پہنچاتا ہے کہ ایک چیز کی قیمت سال بھر میں دو گنا کیسے ہو جاتی ہے؛چنانچہ اس نے گودام تعمیر کرنے اور سرکاری طور پر گندم خریدنے کا حکم دیا۔ علاؤالدین کے صدیوں بعد خوردنی اشیا کی قیمتوں میں غیرمعمولی استحکام اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں آیا۔ تب حیرت سے لوگ کہا کرتے: ایسا لگتا ہے کہ خلجی کا دور لوٹ آیا ہو۔ ہر کامیاب حکمران لٹیروں کو آہنی ہاتھ سے نمٹاتا ہے۔

عمران خاں کے دعوے اگر درست تھے کہ خلقِ خدا کو وہ اشرافیہ سے آزاد کرائے گا تو ڈیڑھ برس بعد نہیں، فلور ملوں کا قصہ پہلے دن ہی اسے معلوم ہونا چاہئیے تھا۔ دشمن کا راستہ روکنے والی افواج کے سپہ سالار برسوں ریاضت کرتے ہیں۔ تاتاریوں کو شکست دینے والے رکن الدین بیبرس کی پشت پہ امام ابنِ تیمیہؒ بھی کھڑے تھے۔ سامنے کی حقیقت مگر یہ ہے کہ لازمی فوجی خدمات کا قانون اس شدت سے اس نے نافذ کیا کہ جنگلوں اور صحراؤں میں بسے دور دراز دیہات اور شاہی خاندان کو بھی استثنا حاصل نہ رہا۔

پوچھنے والوں کو یہ سوال پوچھنا چاہئیے کہ فلور ملوں کے ضمن میں حقائق آشکار ہونے کا آغاز ڈیڑھ برس بعد کیوں ہوا؟ پہلے سے کیوں معلوم نہ تھا؟ اس لیے کہ دعویٰ ایک چیزہے اور عمل دوسری۔ عام آدمی کی بھلائی مقصود ہوتی تو کسی عثمان بزدار اور کسی فردوس عاشق اعوان کو ایوانِ اقتدار میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملتی۔ لائق اور اہل لوگ ڈھونڈے جاتے اور ذمہ داریاں ان کے سپرد کی جاتیں۔ قائدِ اعظمؓ نے اقتدار سنبھالا توان کے اوّلین بیانات میں سے ایک یہ تھا: سفارش اور چور بازاری سب سے بڑی لعنت ہے۔ وہ دانا جو معاشرے کے امراض سے واقف تھا۔ جس کے سینے میں ایک زندہ آدمی کا دل تھا۔ افتادگانِ خاک کے لیے دھڑکتا دل۔ جس نے اپنی پوری زندگی قوم کی خدمت کے لیے وقف کر دی اور خون پسینے کی کمائی بھی۔

قیس سا پھر نہ اٹھا کوئی بنی عامر میں

فخر ہوتا ہے قبیلے کا سدا ایک ہی شخص

عمر فاروق اعظمؓ سے منسوب یہ جملہ آئے دن دہرایا جاتاہے: دریائے فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھوک سے مر گیا تو عمر اس کا ذمہ دار ہوگا۔ آپؓ ہی کا ایک اور جملہ یہ ہے: عراق کے دلدلی راستوں پر اگر کوئی خچر پھسل کے گر پڑ ا تو مجھے اندیشہ ہے کہ عمر سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی آدھی اسی دن مر گئی تھی، جب یہ فلسفہ کپتان نے قبول کر لیا تھا کہ روایتی سیاسی خاندانوں کے بغیر حکومت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ رہی سہی کسر اس دن پوری ہو گئی، جب خود ٹکٹ جاری کرنے کی بجائے اس نے دوسروں پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا۔ برسرِ اقتدار وہ اس لیے ہے کہ شریف اور زرداری خاندانوں کی لوٹ مار سے خلقِ خدا بیزار ہو چکی تھی اور اپنی وجوہ سے اسٹیبلشمنٹ بھی۔ کوئی کارنامہ مگر وہ انجام نہیں دے سکتا۔

ایں خیال است و محال است و جنوں

واقعہ یہ ہے کہ بہت پہلے ہمارے ہیرو نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ شکست میدانِ جنگ میں بعد ازاں واقعہ ہوتی ہے۔ دل کے دیار میں بہت پہلے۔ باتیں جتنی مرضی بنائے، اپنے دل میں وہ ہار چکا ہے۔

Share this story

Leave a Reply