بھارت کو کلبھوشن یادیو کے لیے وکیل مقرر کرنے کی دوبارہ پیشکش کی جائے، عدالت کا حکم

Share this story

 اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کوحکم دیا ہے کہ بھارت کو کلبھوشن یادیو کے لیے وکیل مقرر کرنے کی دوبارہ پیشکش کی جائے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم تیار ہیں دفتر خارجہ کے ذریعے دوبارہ بھارت سے رابطہ کریں گے۔

اے آر وائی نیوز  کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل اورنگزیب نے بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادوکیلئے سرکاری وکیل مقرر کرنے کی درخواست پرسماعت کی۔

سماعت سے قبل ہائی کورٹ کے اطراف اضافی سیکیورٹی تعینات کی گئی جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے عدالت کو کلیئر قرار دیا تھا اورچیف جسٹس کےکورٹ روم میں داخلے کے لئے 2 وال تھرو گیٹ نصب کئے گئے تھے۔

 وفاق کی جانب سےاٹارنی جنرل خالد جاوید خان عدالت میں پیش ہوئے، اٹارنی جنرل نے بتایا 2016کوکلبھوشن یادیوپاکستان سےگرفتارہوا، مجسٹریٹ کےسامنے کلبھوشن نےجرم قبول کیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت نےویاناکنونشن رول 36کےتحت عالمی عدالت سےرجوع کیا اور عالمی عدالت انصاف نے قونصلر رسائی کا حکم دیا تھا، 7جون 2020 کو کلبھوشن نےنظرثانی کیلئے معذرت کی، قونصلر رسائی کے معاملے پر بھارت کو بھی خط لکھا گیا، بیرسٹرشاہنواز سے رابطہ کیا گیا مگر دستاویز فراہم نہیں کی گئیں۔

ٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بھارت کلبھوشن کیس میں نقائص تلاش کرکے ریلیف لینا چاہتا ہے، بھارت نے یہ تاثر دیا کہ کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی نہیں دی گئی، عالمی عدالت انصاف نے سزائے موت پر حکم امتناع جاری کیا جو آج بھی موجود ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے آرڈیننس جاری کر کے سزا کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرنے کا موقع دیا گیا۔

خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرتا ہے، کلبھوشن سے رحم کی درخواست کا کہا گیا مگر کلبھوشن نےمعذرت کی، کلبھوشن یادیو کومجرم پایا گیا، بھارت کی استدعاعالمی عدالت نےمستردکی اور عالمی عدالت کے احکامات پرسزائے موت روک دی گئی، کلبھوشن یادیو صحت مند ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کیایہ بہتر نہیں ہو گاکہ بھارتی سفارت خانےکوبلایاجائے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت خوش ہو گی اگر بھارتی حکومت اپنامؤقف دے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ بھارت اور کلبھوشن یادیو کو ایک بار پھر قانونی نمائندہ مقرر کرنے کی پیشکش کریں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم تیار ہیں بھارت اور کلبھوشن کو وکیل کی پیشکش کریں گے، ہم دفتر خارجہ کے ذریعے دوبارہ بھارت سے رابطہ کریں گے۔

چیف جسٹس اطہرمن نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا آپ کو کتنا وقت چائیے، اےجی نے بتایا 2سے3 ہفتےچاہییں، وفاقی حکومت کو ہائی کمیشن سے رابطے کے لیے، جس پر چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے کہا شفاف ٹرائل سب کا حق ہے۔

بعد ازاں اسلام آبادہائی کورٹ نے بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادوکیلئے سرکاری وکیل مقرر کرنے کی درخواست پرسماعت 3ستمبرتک ملتوی کر دی۔

یاد رہے وزارت قانون نےا سلام آبادہائی کورٹ میں کلبھوشن کا قانونی نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، درخواست میں وفاق کو بذریعہ سیکریٹری دفاع اور جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ جی ایچ کیو کو فریق بنایا گیا ہے۔

حکومت کی عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ بھارتی جاسوس نے سزا کے خلاف درخواست دائر کرنے سے انکار کیا، وہ بھارت کی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقرر نہیں کرسکتا، بھارت بھی آرڈینینس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت اس حوالے سے حکم صادر کرے تاکہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق پاکستان کی ذمہ داری پوری ہو سکے۔

خیال رہے فوجی عدالت نے کلبھوشن کوجاسوسی کے الزام میں سزائےموت سنارکھی ہے ، 17جولائی2019کوعالمی عدالت انصاف نے پاکستان کو فیصلے پر نظرثانی اور کلبھوشن یادیوکوقونصلررسائی کا حکم دیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کلبھوشن یادیو کو فیصلہ اور سزا کے خلاف موئثر جائزہ اور دوبارہ غور کا حق دینے کا پابند ہے جو کہ ویانا کنونشن کی شق 36میں حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے اس کے حق کو یقینی بناتاہے جبکہ فیصلہ کا پیرانمبر 139، 145اور146 اسی تناظر میں ہے۔

Share this story

Leave a Reply