بھارت کی پاکستان میں دہشتگردی، معید یوسف نے نئے ثبوت پیش کر دیئے

Share this story

پاک جرگہ (ویب ڈیسک) قومی سلامتی امور کے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا علمبردار ہے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں معاونت کو ترک کرنے، کشمیریوں کو مذاکرات میں اصولی حق کے طور پر فریق بنانے اور غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرتسلط جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی زندگی کو معمول پر لانے کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کا خیرمقدم کرے گا۔

بھارتی میڈیا کے معروف صحافی کرن تھاپر کے ساتھ اپنے پہلے انٹرویو میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان دوقدم آگے بڑھے گا۔

ڈاکٹرمعیدیوسف نے بھارت کے ساتھ کسی بھی بات چیت کے لئے ضروری شرائط کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو چاہئے کہ وہ کوئی بھی مذاکرات شروع ہونے سے قبل غیرقانونی طور پر زیرتسلط کشمیر میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔فوجی محاصرہ ختم کرے، ڈومیسائل بل واپس لے اور کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیاں ختم کرے۔

ڈاکٹر معیدیوسف نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے امن پر یقین رکھتا ہے تاہم کشمیریوں کے حوالے سے بھارت کے کالے قوانین نے مذاکرات کو ناممکن بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر معید یوسف نے گلگت بلتستان اور مسئلہ کشمیر پر بھارت کے حالیہ پراپیگنڈے کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حامی ہے جو تنازعہ کو حل کرنے کیلئے آگے بڑھنے کا ذریعہ ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان ملک اور خطے میں خوشحالی کیلئے امن، اقتصادی سلامتی اور روابط کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاہم بھارت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندوتوا نظریے اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کی پیروی کررہا ہے۔

معاون خصوصی نے پاکستان میں بھارت کے تعاون سے دہشتگردی پر مضبوط موقف اختیار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ راء نے بھارتی سفارتخانے کے ذریعے تحریک طالبان پاکستان کو لاکھوں ڈالر ادا کئے اور پاکستان جلد ہی ایک جامع دستاویز کے ذریعے تفصیلی تحقیقات کے نتائج جلد دنیا کے سامنے لائے گا۔

ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کے پاس آرمی پبلک سکول پشاور پر گھناؤنے حملے سے قبل بھارت کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کوکی گئی آٹھ ٹیلی فون کالز کا ریکارڈ موجود ہے جس میں ایک سو سے زائد معصوم بچے شہید ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک میں موجود بھارت کے خفیہ اداروں کے سہولت کاروں نے کراچی میں چینی قونصل خانے، گوادر میں پرل کانٹینٹل ہوٹل اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملوں کی ہدایت دی۔

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کس طرح بلوچ لبریشن آرمی کے دہشتگردوں کا نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں علاج کیا جارہا ہے۔

Share this story

Leave a Reply