بیروت دھماکے: لبنان کے دارالحکومت میں مہلک دھماکے پر دنیا کا رد عمل

Share this story

دارالحکومت بیروت میں ایک بڑے دھماکے کے بعد عالمی رہنماؤں نے لبنان کو مدد کی پیش کش کی ہے جس میں کم از کم 73 افراد ہلاک اور 3،700 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی ہے۔ لبنان کی داخلی سیکیورٹی کے سربراہ عباس ابراہیم  نے بتایا کہ شہر  کی  بندرگاہ کے علاقے میں دھماکے کے مقام پر انتہائی دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔

دھماکے سے پورے شہر میں جھٹکے محسوس کیے گئے ، جبکہ بندرگاہ سے متصل بیشتر علاقہ زمیں بوس ہوگیا ، دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا اور مشروم جیسا  ایک بڑا بادل آسمان کی جانب اڑتا ہوا دکھا گیا۔

دھماکے کے کچھ گھنٹوں بعد ، ایمبولینسوں نے زخمیوں کو لے جانے کا کام شرو کیا اور فوج کے ہیلی کاپٹروں نے بندرگاہ پر آگ بجھانے میں مدد کی۔ حکام کی توقع ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

دنیا نے اس پر کیا ردعمل ظاہر کیا:

فرانس

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے لبنان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس دھماکے کی جگہ پر وسائل بھیج رہا ہے۔

“میں دھماکے پر  لبنانیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں جہاں آج شام بہت سے لوگ متاثر ہوئے  اور شدید نقصان ہوا۔ فرانس ہمیشہ لبنان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے”۔ میکرون نے ٹویٹر پر لکھا کہ ، [دھماکے کے] موقع پر فرانسیسی امداد اور وسائل پہنچائے جارہے ہیں۔

وزیر خارجہ Jean-Yves Le Drian  نے بھی لبنان کی حمایت کا پیغام بھجوایا ، انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ “لبنانی حکام جس ضرورت کا اظہار کریں   گے فرانس ان  کی کسی بھی مدد کے لئے تیار ہے”۔

ایران

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ تہران کسی بھی طرح سے مدد کرنے کے لئے تیار ہے اور لبنان پر زور دیا کہ وہ “مستحکم رہیں”۔

ظریف نے ٹویٹر پر لکھا ، “ہمارے دل اور دعائیں لبنان کے عظیم اور بہادر لوگوں کے ساتھ ہیں۔”

“ہمیشہ کی طرح ، ایران کسی بھی طرح سے ضروری امداد فراہم کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ مضبوط رہو ، لبنان۔ “

اسرائیل 

اسرائیل نے کہا کہ کیونکہ ہمارے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اس لیے اس نے لبنان کو غیر ملکی چینلز کے توسط سے انسانی ہمدردی کی پیش کش کی ہے۔

گینٹز نے ٹویٹر پر لکھا کہ “وزیر دفاع بینی گینٹز اور وزیر برائے امور خارجہ گبی اشکنازی کی ہدایت پر اسرائیل نے لبنان کو بین الاقوامی دفاعی اور سفارتی چینلز کے ذریعے لبنانی حکومت سے  انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

برطانیہ 
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے لبنان کی ہر ممکن مدد کرنے کے لئے تیار ہونے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج رات بیروت کی تصاویر اور ویڈیوز تکلیف دہ  ہیں۔ میرے تمام احساسات اور دعائیں اس خوفناک واقعے میں متاثر ہونے والوں کے ساتھ ہیں”۔ جانسن نے ٹویٹر پر لکھا کہ “برطانیہ متاثرہ برطانوی شہریوں سمیت سب متاثرین کی ہر طرح سے مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔

قطر

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی  نے صدر مشیل آؤن کو فون کیا۔ قطر  نے کہا ہے کہ وہ لبنان کی طبی امداد کے لئے فیلڈ ہسپتال بھیجے گا۔

کیو این اے کے مطابق ، شیخ تمیم نے “زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے امید ظاہر کی ، انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے لبنانی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی  کا اظہار کرتے ہیں اور ہر قسم کی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں”۔

امریکہ 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے دھماکے میں مارے جانے والے ہزاروں افراد اور ہزاروں زخمیوں کے لیے اپنی ہمدردیاں بھیجی ہیں، اور امریکی مدد کی پیش کش کی۔ ٹرمپ نے اس واقعے کے لیے attack کا لفظ منتخب کیا-

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں کہا کہ “امریکہ لبنان کی مدد کے لئے تیار ہے۔ ہم مدد کے لئے موجود ہونگے۔ یہ ایک خوفناک حملے کی طرح لگتا ہے”۔

سکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے دھماکے کو “المیہ” قرار دیتے ہوئے لبنان کو امریکی امداد کی پیش کش کی۔

پومپیو نے ٹویٹر پر لکھا ، “ہم صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور لبنان کے عوام کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں، وہ اس خوفناک سانحہ کے اثرات سے باہر آرہے ہیں۔”

اے ایف پی کے مطابق لبنانی دارالحکومت بیروت دو بڑے دھماکوں سے لرز اٹھا ، جس میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے ، عمارتیں لرز گئیں اور بڑے پیمانے پر دھوئیں کے بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ لیا-

پومپیو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ دھماکے کی وجہ سے متعلق لبنانی حکام کی تفتیش مکمل ہونے کا انتظار کرے گا۔

ترکی

ترکی کے وزیر خارجہ میلوت کیوسوگلو  نے لبنانی عوام سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ “ہر طرح سے” مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔

کاوسوگلو نے کہا کہ “بیروت کی بندرگاہ میں ہونے والے دھماکے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں پر اللہ کی رحمت ہو، لبنان کے برادر اور دوستانہ لوگوں سے تعزیت۔ امید کرتے ہوئے کہ مزید نقصان نہیں ہوگا۔ ہم لبنانی بھائیوں اور بہنوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کے لئے تیار ہیں”

ترک صدر اردگان نے بھی اپنے لبنانی ہم منصب مشیل آؤن کے ساتھ فون پر گفتگو میں انسانی امداد کی پیش کش کی۔

سعودی عرب

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ، سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ بیروت کے بندرگاہ دھماکے کے نتائج کو بڑی تشویش سے دیکھ رہا ہے۔

بیان میں لبنانی عوام کے ساتھ ریاست کی مکمل حمایت اور یکجہتی کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

جرمنی

جرمن وزارت خارجہ نے بتایا کہ دھماکے میں جرمن سفارت خانے کا عملہ زخمی ہوا ہے۔

وزارت خارجہ  نے بتایا کہ “زخمیوں میں سفارت خانے کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ “ہم اس وقت جرمن شہریوں کے زخمی یا ہلاک ہونے  کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے”۔

وزارت خارجہ کے مطابق ، جرمن سفارت خانے کی عمارت ، جو بندرگاہ سے بہت دور واقع ہے ، کو نقصان پہنچا تھا لیکن “ابھی تک نقصان کی سنگینی کا تعین نہیں کیا جاسکتا”۔

چانسلر انگیلا میرکل نے اپنی ترجمان کے ذریعے کہا کہ وہ اس واقعے سے پریشان ہیں اور لبنان کے لئے امداد کا وعدہ کیا ہے۔

اٹلی

اطالوی وزیر خارجہ لوگی دی مایو نے سوشل میڈیا پر دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کی امید کی۔

اس اذیت ناک لمحے میں اٹلی لبنانی دوستوں کے ساتھ ہے۔ ہمارے جذبات متاثرین کے لواحقین کے ساتھ ہیں ، جن سے ہم گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں ، اور زخمی لوگوں سے ، جن کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہیں۔

Share this story

Leave a Reply