ترقی

Share this story

ترقی

ہارون الرشید

 

ساری کی ساری سائنسی ترقی دھری کی دھری رہ گئی اور پرندوں کی طرح آدمی گھروں کے پنجروں میں قید ہیں۔ کیا انسان کی آنکھ کھلے گی یا بگٹٹ وہ تباہی کی طرف بھاگتا چلا جائے گا؟ روز افزوں ترقی بجا مگر آدمیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟

سرکشی بڑھتی چلی جاتی ہے تو فطرت آدمی کو صدمہ پہنچاتی ہے۔ سب تضادات آشکار کر دیتی ہے۔ زمین ظلم اور گندگی سے بھر گئی۔ آدمی کا طرزِ حیات ایسا ہو گیا تھا کہ عالمی قوتوں اور سماج کے طاقتوروں کو بہیمیت پر عملاً کوئی اعتراض نہ رہا۔ کتنی ہی قومیں یلغار کی زد میں ہیں۔ فلسطین، وینزویلا، روہنگیا، یمن، شام، کشمیر اور بھارت کے مسلمان۔ فلسطین میں پون صدی سے ظلم کی چکّی چل رہی ہے۔ یمن میں لوگ بموں سے مرتے ہیں اور بچّے بھوک سے۔ کوئی دل نہیں پسیجتا، کوئی آنکھ نہیں بھیگتی۔

کشمیر میں مودی کا تازہ ترین فرمان یہ ہے کہ اعلیٰ ملازمتیں بھارتیوں کی اور ادنیٰ کشمیریوں کے لیے۔ دوسری اقوام کو شہریت ملے گی لیکن مسلمانوں کو ہرگز نہیں۔ کشمیر میں جائیداد خریدنے کا حق بھارتیوں کو دے دیا گیا ہے کہ اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔ وادیء جنت نظیر کو ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کا خواب، عام آدمی، جہاں سسکتا اور بلکتا رہے اور صاحبِ ثروت رنگ رلیاں منایا کریں۔ یہ اسرائیل کا پڑھایا ہوا آموختہ ہے۔ وہ پیلٹ گنیں بھی اسرائیل سے آئی تھیں، جو چہروں کو نشانہ کرتی ہیں۔ آنکھیں چلی جاتی ہیں اورزندگی ہمیشہ کے لیے تاریک۔ میانمار میں فوج نے گھیرا ڈال کر روہنگیا مسلمانوں کی بستیوں کو جلایا۔ یہ کارنامہ اس خاتون نے انجام دیا، جو نوبل انعام یافتہ ہے۔ دکھ درد کے مارے لوگ ہجرت کر کے بنگلہ دیش آئے تو ان سے جانوروں کا سا برتا ؤ کیا گیا۔ کشمیر کی کنٹرول لائن پر بمباری ہوتی رہتی ہے اور بے گناہ چرواہے تڑپ تڑپ کر مرتے ہیں۔ پاکستانی فوج نے مزاحمت کی۔ بھارتیوں کو لاشیں اٹھانا پڑیں تو مودی نے امریکہ سے فریاد کی۔ واشنگٹن نے پاکستان کی عسکری قیادت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ طاقتور اقوام گویا پاگل ہو چکیں۔

شام کا حال تو ایسا دردناک ہے کہ بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ آدھی سے زیادہ آبادی اجڑ گئی۔ بستیاں کھنڈر ہیں۔ امریکہ اور بشار الاسد کے عرب مخالفین نے داعش کے وحشیوں کی سرپرستی کی۔ صرف ترکی میں پناہ گزین شامی مہاجرین پر چالیس ارب ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔ یورپ نے اپنے دروازے ان پہ بند کر دیے۔ پھر بشار الاسد کی حمایت کے لیے روس میدان میں کود پڑا کہ امریکہ بازی نہ لے جائے۔ وہ بشار الاسد جو ایک چھوٹی سی علوی اقلیت کا نمائندہ ہے۔ اس کی بلا سے، اکثریت خواہ مٹ جائے، اقتدار باقی رہنا چاہئیے۔ صحراؤں اور میدانوں کو پار کرتے ہوئے شامی خاندان ناقابلِ بیان کرب و بلا سے گزرے ہیں۔ کتنے ہی واقعات ہیں کہ ماں باپ، بہن بھائی قتل ہو گئے اور چار پانچ سال کی ایک چھوٹی سی بچّی بچ رہی۔ ایسی ہی ایک بچّی کے پاس فقط ماں باپ کے ملبوس تھے۔ چہار سو بھوک نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ ایک ننھی بچّی نے مرتے ہوئے کہا: مجھے اللہ کے پاس جانے دو تاکہ میں پیٹ بھر کے کھانا کھا سکوں۔ مرتے ہوئے ایک دوسرے بچّے نے کہا: میں اللہ کو سب کچھ بتا دوں گا۔

دل پتھر ہو گئے ہیں بلکہ پتھروں سے بھی بدتر۔ نصف صدی ہوتی ہے، اس عظیم سیاسی مدبر ڈیگال نے کہا تھا: امریکہ اب دنیا کے ہر ملک کا پڑوسی ہے۔ عالمِ عرب میں پڑوسی نہیں بلکہ وہ سرپرست ہے۔ کس فخریہ لہجے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے برس کہا کہ عرب حکمران اس کی مرضی کے بغیر ایک ہفتہ بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔ عرب سرزمینیں امریکی شہریوں کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ عرب حکمرانوں میں اب ایسے بزرجمہر بھی ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ یہودی ان کے عم زاد ہیں۔ بے حمیتی نہیں تو یہ اور کیا ہے؟ کسی قاتل کے قدموں میں جب کوئی سر ڈال دیتا ہے تو انسانیت اور آزادی کی آخری رمق بھی رخصت ہوتی ہے۔ اللہ نے آدمی کو اشرف المخلوقات بنایا تھا۔ اسے عزت و توقیر بخشی تھی۔ نائجیریا اور افغانستان سمیت کتنے ہی ملک ہیں، جہاں اشرافیہ نے استعمار سے مفاہمت کر لی اور انسانی زندگی حیوانوں سے بھی بدتر ہو گئیں۔

جنگل نہیں، یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ درندے کا پیٹ بھر جائے تو وہ آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھتا۔ چرند پرند اس کے گرد کلیلیں کرتے پھرتے ہیں مگر آدمی کی وحشت کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ خدا بننے کی کوشش میں وہ شیطان بن جاتا ہے۔ نائجیریا میں عالم یہ ہوا کہ بارسوخ اور ثروت مند لوگوں نے اپنے گھروں کی دیواریں اونچی کر لیں۔ گاڑیوں کے قافلے گھروں سے باہر نکلتے ہیں۔ خدا کی باقی مخلوق کا حال کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر۔ لشکروں کے قدموں تلے جو کچلے جاتے ہوں۔

دنیا پر غلبے کی جنگ مکروہ ترین شکل اختیار کر گئی۔ چین کا رسوخ روکنے کے لیے امریکیوں نے بھارت سے گٹھ جوڑ کیا تو کشمیر کو روند ڈالا گیا۔ بھارت میں اس شبہے پر کسی بھی مسلمان کو وحشیانہ طریقے سے ہلاک کر دیا جاتا ہے کہ اس کے گھر میں گائے کا گوشت ہے۔ ٹرک میں سوار گائے اور بیل لے جانے والے کسی بھی آدمی کو ہجوم گھیر لیتا ہے۔ ڈنڈوں اور پتھروں سے، بے رحمی کے ساتھ وہ موت کے گھاٹ اتار دیا جاتاہے۔ آدمی اب آدمی کہاں رہ گیا۔ یہ کوئی اور ہی مخلوق ہے۔

مغربی پریس میں تنقیدی تجزیے چھپتے ہیں لیکن لہجے میں کوئی درد ہے، احتجاج اور نہ واویلا۔ بنی نوع انسان کا نہیں، گویا کسی دوسرے سیارے، کسی دوسری مخلوق کا ذکر ہو۔ کمزور اقوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ غلبے کی انسانی جبلت ان حدود کو چھو رہی ہے کہ گاہے آدمیت کی ایک رمق بھی انسانی روّیوں میں نظر نہیں آتی۔

خدا کی زمین کتنی اجلی اجلی تھی۔ ساری دنیا میں صاف پانی کے چشمے بہا کرتے۔ آدم زاد بکری کا دودھ پیتا، گھڑ سواری کرتا، جو اور گندم کھاتا، شہد اور زیتون کے تیل پر بسر کرتا۔ دنیا بھر کا پانی اب آلودہ ہے اور ہوا بھی۔ کرونا کی وبا پھیلنے سے پہلے شہرِ لاہور میں آلودگی کی شرح 451 یونٹ تک جا پہنچی تھی، اب 51 ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں خوراک کے نام پر زہر بیچتی ہیں۔ حکومتیں ان کی سرپرست ہیں اور میڈیا ان کا غلام۔ بوتل بند مشروبات اور پیزا، چینی اور میدہ۔ پاکستانی بازاروں میں بکنے والا 86 فیصد آٹا انسانی استعمال کے قابل نہیں۔ اناج ذخیرہ کر لیا جاتاہے۔ ذخیرہ اندوزی سے قیمتیں دو تین گنا تک بڑھا دی جاتی ہیں۔ زرق برق لباس ہیں لیکن طہارت سے آدمی محروم ہے۔ خوشبو اور میک اپ کی صنعت کھربوں ڈالر کماتی ہے لیکن بدن گندے اور روحیں غلیظ۔ بعض اقوام میں حلال اور حرام کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ چمگادڑوں اور دوسرے جانوروں کے ذریعے چار وائرس پھیلنے کے بعد چین میں اب کتے اور بندر کھانے پر پابندی لگی ہے۔

ساری کی ساری سائنسی ترقی دھری کی دھری رہ گئی اور پرندوں کی طرح آدمی گھروں کے پنجروں میں قید ہیں۔ کیا انسان کی آنکھ کھلے گی یا بگٹٹ وہ تباہی کی طرف بھاگتا چلا جائے گا؟ روز افزوں ترقی بجامگر آدمیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟

Share this story

Leave a Reply