ترکی کے مغربی ساحل اور یونان میں زلزلہ، 12 افراد جاں بحق، پاکستان کا اظہار افسوس

Share this story

ازمیر میں 6.6 شدت کے زلزلے نے ترکی کے مغربی ساحل کو ہلا کر رکھ دیا

استنبول (پاک جرگہ، 30 اکتوبر، 2020) ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) کے مطابق ، جمعہ کے روز مغربی صوبہ ازمیر کے Seferihisar ضلع کے ساحل پر 6.6 شدت کا زلزلہ آیا۔ زلزلوں کا مرکز بحیرہ ایجیئن میں 16.5 کلومیٹر (10.3 میل) کی گہرائی پر تھا لیکن یہ ترکی کے تیسرے سب سے بڑے شہر کے علاوہ استنبول کے شمال تک محسوس کیے گئے۔

ازمیر ترکی کا تیسرا بڑا شہر اور یہاں استنبول کے بعد دوسری بڑی بندرگاہ ہے۔ یہ شہر صوبہ ازمیر کا دار الحکومت بھی ہے۔ ازمیر کے لوگ زلزلوں سے آشنا ہیں۔ یہاں ماضی کے زلزلوں میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

وزیر صحت نے کہا ہے کہ اب تک 12 افراد جاں بحق اور 400 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔زمین بوس عمارتوں سے اب تک 4 افراد کو زخمی حالت میں نکالا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کا کہنا ہے کہ ازمیر کے مختلف اضلاع میں چھ عمارتیں گرنے کی اطلاع ملی ہے جبکہ ازمیر کے میئر کے مطابق مہندم عمارتوں کی تعداد 20 تک ہے۔

زلزلے کے فوری بعد صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ متاثرہ لوگوں کی مدد کے لئے تمام سرکاری ادارے متحرک کردیئے گئے ہیں۔ ہم زلزلے سے متاثرہ اپنے تمام شہریوں کے ساتھ ہر ممکن حد تک کھڑے ہیں۔ تمام متعلقہ اداروں اور وزراء کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

زلزلہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے لوگوں کو تباہ شدہ عمارتوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایک ممکنہ آفٹرشاک مزید تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق 5.8 شدت کے آفٹر شاکس آسکتے ہیں اور جھٹکے پہلے سے متاثرہ عمارتوں کو مکمل گراسکتے ہیں۔

یہ زلزلہ یونان کے مشرقی جزیروں اور یہاں تک کہ یونانی دارالحکومت ایتھنز میں بھی محسوس کیا گیا۔ یونانی میڈیا کے مطابق بعض جزیروں پر زلزلے کی شدت کے باعث لوگ گھروں سے بھاگ نکلے اور پہاڑی تودے بھی گرے ہیں۔

ازمیر مغربی اناطولیہ میں ترکی کا ایک صوبہ ہے۔ ازمیر کے مجموعی 29 اضلاع ہیں جن میں 11 اضلاع پر مشتمل میٹروپولٹن سٹی ساحل سمندر پر واقع ہے اور یہی میٹروپولٹن سٹی ازمیر صوبے کا دارالحکومت بھی ہے۔ جو علاقے ساحل کے قریب ہیں وہاں زلزلے کے بعد سونامی بھی برپا ہوگیا ہے۔

ترک میڈیا اور شہریوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر تصویریں اور ویڈیوز شیئر کی ہیں جں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملبے کے نیچے گاڑیاں دب گئی ہیں۔ ایک شہری نے کثیرالمنزلہ عمارت کی گرتے ہوئے ویڈیو ریکارڈ کی ہے۔ ساحلی علاقوں میں گھروں کے اندر کئی فٹ پانی بھر چکا ہے جکہ سڑکیں اور گلی کوچے دریا کا منظر پیش کر رہے ہیں جن میں گھریلو اشیا بہہ گئے ہیں۔

ان علاقوں نے ماضی میں تباہ کن زلزلے دیکھے ہیں۔ قبل ازیں 1999 کے زلزلے میں یہاں 17 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے جبکہ آخری زلزلہ یہاں رواں سال جنوری میں آیا تھا جس میں 41 افراد جاں بحق اور ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

ترکی اور یونان کے مابین حالیہ دنوں میں کشیدگی بڑھ گئی تھی مگر اس کے باوجود یونانی وزیر خارجہ نے ترک وزیر خارجہہ کو فون کرکے یکجہتی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مشکل وقت میں باہمی تعاون کا یقین دلایا اور رابطہ برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

اس کے فوری بعد یونان کے وزیراعظم نے بھی ترک صدر کو فون کرکے جانی نقصان پر تعزیت کی۔ یونانی وزیراعظم نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ابھی صدر اردوان کو فون کرکے زلزلے سے ہونے والے نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ہمارے جو بھی اختلافات ہوں مگر یہ موقع ایسا ہے کہ دونوں ممالک کے لوگوں کو ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ ترک صدر نے یونانی وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی اور ترک عوام کی طرف سے یونان کے لوگوں تعزیت کرتا ہوں۔ ہم یونان کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے ہمیشہ تیار ہیں۔ اردوان نے واضح کیا کہ مشکل وقت میں دو ہمسایوں کا اظہار یکجہتی دیگر چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔

دوسری طرف پاکستان نے ترکی کے صوبے ازمیر میں شدید زلزلے کا سن کر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح پاکستانی عوام اپنے ترک بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں متاثرین کے ساتھ ہیں۔

Share this story

Leave a Reply