زمین کھود کر تو دیکھیں کے پودا اب کہاں تک ہے

Share this story

زمین کھود کر تو دیکھیں کے پودا اب کہاں تک ہے

اسداللہ خان

 

مان لیا کے دو سال میں تبدیلی کے نئے پودے نہیں اُگے، نئی کونپلیں اور پتے نہیں نکلے لیکن کوئی زمین کھود کر تو دیکھے بیج پھوٹا بھی ہے یا نہیں۔

کیا اپوزیشن عمران خان کی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے؟ اس کا سادہ سا جواب ہے “نہیں ـ” اور اس سادہ جواب کی وجوہات بھی اتنی ہی سادہ ہیں۔ مسلم لیگ ن کی اسمبلی میں 85 نشستیں ہیں اور پیپلز پارٹی کی 56 نشستوں کے علاوہ سندھ میں حکومت بھی ہے۔ دوبارہ الیکشنز ہوں تو پیپلز پارٹی اس سے زیادہ کچھ حاصل نہیں کر سکتی اور مسلم لیگ ن قیادت کے ایسے شدید بحران کا شکار ہے کہ ابھی الیکشن کا بگل بجا تو نواز شریف، مریم نواز، حمزہ اور یہاں تک کہ شہباز شریف بھی پوری طرح قیادت کے لیے دستیاب نہ ہوں گے۔ لہذا نتیجہ اس سے بڑھ کر نہ نکلے گا جو ابھی قرطاس پر موجود ہے۔ اپوزیشن کو اس کا پورا ادراک ہے۔

یہ سادہ سا تجزیہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے پاس موجود نہ ہو یہ ممکن نہیں۔ لیکن اس کے نتیجے میں اگر پارٹی مطمئن ہو کر بیٹھی ہے تو اس سے بڑی سیاسی غفلت کوئی ہو نہیں سکتی۔ وہ روایتی سیاستدان جو دوسری پارٹیوں سے تحریک انصاف میں آئے ہیں، جن کا خیال ہے کہ ان کی آبائی نشست کسی بھی ٹکٹ کے ساتھ جیتی جا سکتا ہے، ان کا معاملہ دوسرا ہے مگر وہ جو خالصتا پی ٹی آئی کے ہیں اور بلے کے نشان پر ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں ان کی پریشانی جواز رکھتی ہے۔

پی ٹی آئی کے لیے حقیقی پریشانی کی بات یہ نہیں ہے کہ وہ اب تک تبدیلی نہیں لا پائی، اصل پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ تبدیلی کے عمل کا آغاز تک نہ ہو سکا۔ مختلف اداروں کے نظام میں جو ریفارمز لانے کا وعدہ کیا گیا تھا، اس کے لیے اب تک منصوبے کاغذ پر بھی مرتب نہیں کیے جا سکے۔ پچھلی حکومت کی جانب سے بنائے گئے الٹے سیدھے نظام کو رواں رکھناموجودہ حکومت کا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ حکومت کی پہلی کوشش یہ بن کے رہ گئی ہے کہ کیسے ماضی کی حکومت کے ادھورے منصوبے مکمل کیے جائیں، کیسے کم از کم وہ تمام کام بطریق احسن انجام کو پہنچائے جائیں جو پچھلی حکومت کیا کرتی تھی۔ پہلا مرحلہ طے ہو گا تو اگلے مرحلے کی باری آئے گی جسے ہم تبدیلی کے نام سے جانتے ہیں۔ فواد چودھری بالکل ٹھیک کہتے ہیں کہ اس حکومت کو ہلکے پھلکے نٹ بولٹ ٹھیک کرنے کے لئے منتخب نہیں کیا گیا، تبدیلی لانے کے لیے کیا گیا ہے، لہذا اگر پچھلی حکومت کے منصوبوں کو محض رواں رکھنے کو ہی کامیابی سمجھ لیا گیا تو یہ سب سے بڑی سیاسی خود فریبی ہو گی جس کے انتخابی نتائج ہرگز مثبت نہ نکلیں گے۔

آپ چند اُن اداروں کا جائزہ لیں جس میں آنے والی تبدیلی معاشرے پر انداز ہو سکتی ہے۔ پھر حکومت کے تبدیلی کے دعووں کا تجزیہ کریں، حقیقت کافی حد تک سامنے آ جائے گی۔

میں چند سوال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ کیا پولیس میں رشوت کا کلچر ختم ہو گیا ہے اور پولیس غریب مظلوم کی حمایت میں ظالم کے خلاف کھڑی ہونے لگی ہے؟ کیاایف بی آر میں رشوت لیے بغیر آڈٹ نمٹائے جانے لگے ہیں؟ کیا فیکٹریوں میں ٹائر جلانے والوں سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر فضا کو آلودہ کرنے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے؟ کیا اب جعلی ادویات نہیں بن رہیں؟ کیا بھینسوں سے زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لیے ٹیکے نہیں لگائے جا رہے؟ کیا سرکاری سکولوں کی حالت سنور رہی ہے؟ کیا نئے اسپتال بن رہے ہیں؟ کیا یونیورسٹیوں میں کرپشن، اقربا پروری اور جعلی بھرتیوں کا سلسلہ رک گیا ہے؟ کیا بیوروکریسی عوام کی خادم بن گئی ہے؟ کیا غریبوں کے پلاٹوں پر قبضے نہیں ہو رہے؟ نہیں جناب پولیس کا نظام جوں کا توں ہے، ہر سطح پر جعل سازی عروج پر ہے، یونیورسٹیوں کا نظام تباہ حال ہے، اسپتالوں کی حالت بھی دگر گوں ہے کہیں تبدیلی کے عمل کا آغاز ہوا ہے تو بتائیں۔

گزشتہ روز علی محمد خان ٹاک شو میں بڑے فخر سے کہہ رہے تھے ہم نے اپوزیشن کے لیے عرصۂ حیات تنگ کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ اپوزیشن کو اتنا کمزور کر دو اس میں اگلا الیکشن لڑنے کی سکت نہ رہے، اگر یہ حکمت عملی ہے تو معذرت کے ساتھ یہ فارمولہ نہیں چلے گا۔ اگر پی ٹی آئی اس خوش فہمی میں ہے کہ دو ہزار تئیس تک آصف زرداری اور نواز شریف تو مائنس ہو ہی چکے ہوں گے، شہباز شریف اور حمزہ بھی کیسز میں الجھے ہوئے ہوں گے اور مریم نواز بھی سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو کر یونہی خاموش بیٹھی ہوں گی، نتیجے میں عوام کے پاس پی ٹی آئی کے سوا کوئی آپشن نہ بچے گا تو یہ نہایت ہی کمزور سیاسی حکمت عملی ہے جو اول تو نتائج دے گی نہیں، دے بھی دے تووہ اتنے کمزور ہوں گے کہ تبدیلی کا خواب پھر شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔

ذہن میں رہے کہ تحریک انصاف اگلا الیکشن لڑنے جائے گی تو کیا سوال ہوں گے۔ لوگ پوچھیں گے کیا ہوا ان کا جن کے احتساب کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لوگ پوچھیں گے باہر کے بینکوں میں رکھے گئے کتنے پیسے واپس آئے؟ عوام کا سوال ہو گا وہ تبدیلی کہاں ہے جو زمین پر نظر آئے؟ عوام پوچھیں گے نوکریاں، کاروبار اور گھر کہاں ہیں؟ عوام سوال کریں گے مہنگائی کم ہوئی یا زیادہ؟ ان کی قوت خرید میں اضافہ ہوا یا کمی؟ کیا تحریک انصاف ان سوالوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہے؟ اور ہاں اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ باقی بچ رہے تین سال بہت ہوتے ہیں تو یہ ایک اور طرح کی خام خیالی ہے۔

مان لیا کے دو سال میں تبدیلی کے نئے پودے نہیں اُگے، نئی کونپلیں اور پتے نہیں نکلے لیکن کوئی زمین کھود کر تو دیکھے بیج پھوٹا بھی ہے یا نہیں۔

Share this story

Leave a Reply