سانحہ بلدیہ فیکٹری: رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 265 بار سزائے موت کی سزا

Share this story

سانحہ بلدیہ فيکٹری کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت کا حکم سناتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنماء رؤف صدیقی کو بری کر دیا۔

پاک جرگہ (ویب ڈیسک) منگل 22 ستمبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کیس کا مؤخر کیا گیا فیصلہ سنایا۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی جس میں رحمان بولا، زبیر چریا اور رؤف صدیقی سمیت دیگر ملزم پیش ہوئے۔ عدالت نے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنائی جب کہ رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی سمیت 4ملزمان کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا۔

عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں دیگر 4 ملزمان علی محمد، ارشد محمود، فضل اور شاہ رُخ کو سہولت کاری کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی جب کہ بری ہونے والوں میں ادیب خانم، علی حسن قادری اور عبد الستار شامل ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 3 سال 7 ماہ بعد کارروائی مکمل ہونے پر 2 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 17 ستمبر کو سنایا جانا تھا تاہم عدالت نے فیصلہ سنائے بغیر سماعت 22 ستمبر تک موخر کردی تھی۔

خیال رہے 11 ستمبر 2012 کو کراچی کی بلدیہ فیکٹری کو کیمیکل ڈال کر آگ لگا دی گئی، جس میں ڈھائی سو سے زائد مزدور زندہ جل گئے، 50 سے زائد افراد جھلسنے سے زخمی ہوئے۔ سائٹ پولیس نے 24 گھنٹے بعد مقدمہ درج کیا، فیکٹری مالکان شاہد بھائلہ اور ارشد بھائلہ نے سندھ ہائیکورٹ لاڑکانہ سے حفاظتی ضمانت حاصل کرلی۔

بعد میں ایڈیشنل ڈسرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ عبداللہ چنہ نے فیکٹری مالکان کی ضمانت مسترد کر دی، پولیس نے مقدمے کا چالان پیش کیا تو گواہوں کی تعداد 15 سو تھی، لگتا تھا کہ پولیس مقدمہ کا فیصلہ نہیں چاہتی۔

اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما رؤف صدیقی نے کہا کہ باعزت بری ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ سانحہ کے وقت میں نے احتجاجاً وزارت سے استعفیٰ دیا اور سال 2017 میں رضا کارانہ طور پر خود عدالت میں پیش ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں اس مقدمے میں 200 پیشیاں بھگت چکا ہوں، سانحہ بلدیہ میں جاں بحق افراد کا خون رائیگاں نہیں جائے گا میں عدالت میں ہر پیشی پر لواحقین کی چیخیں نہیں بھول سکتا۔

رؤف صدیقی نے کہا کہ کیس کا فیصلہ لواحقین کے لیے اچھی خبر ہے، کیس کی پیروی کرتے ہوئے میرے وکلا نے دن رات محنت کی۔

فیکٹری مالکان نے آتشزدگی کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیا تھا۔ فروری2017 میں ایم کیو ایم رہنما روف صدیقی، رحمان بھولا، زبیر چریا اور دیگر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ کیس میں ملزمان کے خلاف 400عینی شاہدین اور دیگر نے اپنے بیان ریکارڈ کرائے تھے۔

گیارہ ستمبر2012 کو ہونے والے سانحہ بلدیہ  ٹاون میں259افراد جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔ آگ لگانےکی اہم وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا 20کروڑ روپے کا بھتہ تھا۔ ملزم  کی جے آئی ٹی رپورٹ  کے مطابق حماد صدیقی نے بھتہ نہ دینے پر رحمان عرف بھولا کو آگ لگانے کا حکم دیا جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر آگ لگائی۔ 2015 میں  ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں  جے آئی ٹی بنائی گئی جس نے دبئی میں جاکر فیکٹری مالکان سے تفتیش کی جنہوں نے  اقرار کیا کہ ان سے بھتہ مانگا گیا تھا۔

سنہ 2016 میں جے آئی ٹی پر چالان ہوا۔ اسی سال دسمبر میں  رحمان بھولا کو  بینکاک سے گرفتارکیا گیا۔ کیس کا مقدمہ پہلے سٹی کورٹ میں چلا اور پھر سپریم کورٹ کی ہدایات پرکیس کو انسداد دہشتگردی میں چلایا گیا۔

استغاثہ نے سات سو اڑسٹھ گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کرائی تھی۔ چارسو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے، تین سو چونسٹھ گواہوں کے نام نکال دیئے گئے۔ مقدمہ میں تاخیر کی وجہ مرکزی ملزم حماد صدیقی کی عدم گرفتاری، جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل درآمد نہ ہونے اور ملزموں کے تاخیری حربے رہے۔ المناک سانحے کے مقدمے نے 8 برسوں میں بڑے نشیب وفراز اور رکاوٹوں کو عبور کیا ہے۔

Share this story

Leave a Reply