فرانسیسی صدر کا حضرت محمدﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کی مذمت سے انکار

Share this story

فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کی مذمت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں آزادی اظہار رائے کا حق ہے، جمہوریہ کے کسی صدر کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا کہ وہ صحافی یا نیوز روم کے ادارتی انتخاب کے بارے میں فیصلہ دے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے پیغمبر اسلام ﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے تازہ بیان نے کروڑوں مسلمانوں کی جذبات کو نہ صرف مجروح کیا ہے بلکہ ان کے غم و غصے میں بھی اضافہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کی مذمت نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے ملک میں آزادی اظہار رائے کا سب کو حق ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق اس سے قبل لبنان کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میکرون کا کہا تھا کہ فرانسیسی شہریوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے تہذیب اور احترام کا مظاہرہ کریں اور “نفرت انگیز گفتگو” سے اجتناب کریں۔

واضح رہے کہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو نے ایک مرتبہ پھر حضرت محمدﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا شرمناک اعلان کر دیا ہے۔ میگزین کے دفتر پر ہوئے حملے میں ملوث ملزمان کے ٹرائل کے آغاز سے قبل دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلم ممالک کی جانب سے اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی۔

اس متعلق مزید بتایا گیا ہے کہ 2015ء میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے اقدام کے بعد میگزین کے دفتر پر ہوئے حملے میں ملوث ملزمان کا ٹرائل شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، ایسے میں فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو نے اعلان کیا ہے کہ حضرت محمدﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکے دوبارہ سے شائع کیے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

جبکہ چارلی ہیبدو میگزین کے اس اعلان پر پاکستان کی جانب سے بھی شدید ردعمل دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کا گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کا اعلان

ترجمان دفتر خارجہ نے اس حوالے سے جاری بیان میں چارلی ہیبدو کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ اقدام جان بوجھ کر کروڑوں مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی ایک کوشش ہے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یہاں واضح رہے کہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد 2015 میں فرانس میں فسادات پھوٹنے کے علاوہ میگزین کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ ان واقعات کے نتیجے میں 17 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ جبکہ اب 5 سال بعد حملوں میں ملوث ملزمان کا ٹرائل شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
 

Share this story

Leave a Reply