فوک گلوکاروں اورروایتی دستکاروں کے فن کی تجارتی سطح پرپذیرائی ضروری ہے، ڈاکٹر عارف علوی

Share this story

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہاہے کہ ملک کے ثقافتی ورثہ کوفروغ دینے کے ساتھ ساتھ فوک گلوکاروں اورروایتی دستکاروں کے فن کی تجارتی سطح پرپذیرائی ضروری ہے کیونکہ فوک گلوکاروں اورروایتی دستکاروں نے ہماری ثقافت کو زندہ رکھا ہے۔

صدرمملکت نے یہ بات اتوار کویہاں لوک ورثہ میں 10 روزہ لوک میلہ کے اختتام پرفوک گلوکاروں، دستکاروں اورہنرمندوں میں انعامات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پرخاتون اول ثمینہ علوی ، سیکرٹری قومی ورثہ وثقافتی ڈویژن نوشین جاوید، لوک ورثہ کے ایگزیکٹوڈائریکٹرطلحہ علی خان، صوبائی محکمہ ہائے ثقافت کے نمائندوں اورملک بھر سے آئے ہوئے ہنرمندوں اورفن کاروں کی ایک بڑی تعداد بھی موجودتھی۔

صدرمملکت نے کہاکہ پاکستان ثقافتی ورثہ بالخصوص بدہ مت کے نوادرات اورآثارکے حوالہ سے متنوع حیثیت کا حامل ملک ہے۔انہوں نے کہاکہ فوک ثقافت، ثقافتی ورثہ اورثقافتی نمونے سیاحوں کوراغب کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے، سیاح کسی بھی قوم کی تاریخ اورترقی کو ماپنے کیلئے عمارات اورثقافتی مقامات کی سیرکوترجیح دیتے ہیں، صدرمملکت نے اس ضمن میں شرکا کو اپنے تجربات سے بھی آگاہ کیا۔صدرمملکت نے کہاکہ عقیدہ کی بنیادپرتصویرکشی کی پابندیوں کی وجہ سے مسلمان ہنرمندوں نے جیومیٹرک آرٹ کو فروغ دیا جواسلامی فن تعمیرکا طرہ امتیازبن گیا، گنبدوں اوربڑی عمارات کو سہارادینے والی مینارسلامی فن تعمیرکی انفرادیت رہی۔

صدرمملکت نے کہاکہ صوفیاکرام اور محمد بن قاسم جیسے فاتحین کی آمد نے اس خطے کے مقامی ثقافت اورتنوع میں اضافہ کیا۔ صدرنے کہ کہاکہ لوک ورثہ میں دستیاب جگہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوک میلہ جیسی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا چاہئیے اس سے نہ صرف فوک گلوکاروں اورہنرمندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ انہیں مالی فوائد بھی پہنچیں گے۔

صدرمملکت نے آرٹ ورک کی نمائش کیلئے ایوان صدرکی لابی فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی جہاں اعلیٰ ملکی اورغیرملکی شخصیات دورہ کرتے ہیں۔صدرمملکت نے کہاکہ آرٹ اورثقافت کے فروغ اکیلے حکومت نہیں کرسکتی اس مقصد کیلئے نمائشیں اورثقافتی میلوں کاانعقاد بھی ضروری ہے۔

قبل ازیں سیکرٹری نیشنل ہیریٹیج نوشین جاوید امجد نے کہاکہ گزشتہ چاردہائیوں سے سالانہ بنیادوں پریہ میلہ جاری ہے اوراس کے ذریعہ فوک گلوکاروں اورروایتی دستکاروں کی پذیرائی کی جارہی ہے، انہوں نے کہاکہ میلہ میں مقامی دستکاروں کو ان کی تیارکردہ اشیا کو فروخت کرنے کا موقع مل رہاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس لوک میلہ کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں مقامی افراد کے علاوہ دارلحکومت میں مقیم سفارت کاربھی گہری دلچسپی لیتے ہیں ۔

10 روزہ میلہ منی پاکستان کی تصویرکشی کرتا ہے۔ لوک ورثہ کے ایگزیکٹوڈائریکٹر نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے کہاکہ مقامی ثقافت اورثقافتی تنوع کو فروغ دیناوقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ثقافت اورثقافتی تنوع کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی ضرورت پرزوردیا اورکہاکہ آنیوالی نسلوں کوبیرونی ثقافتی یلغارسے بچانے کیلئے ایساکرنا ناگزیرہے۔

اس موقع پرفن کاروں نے روایتی ملبوسات میں موسیقی کے ذریعہ پاکستان کے متنوع ثقافت کا شاندارمظاہرہ پیش کیا جسے حاضرین نے سراہا۔صدرمملکت نے فن کاروں اورہنرمندوں میں انعامات اورایوارڈز تقسیم کئے۔

Share this story

Leave a Reply