قافلۂ حجاز میں ایک حسینؑ بھی نہیں

Share this story

قافلۂ حجاز میں ایک حسینؑ بھی نہیں

اوریا مقبول جان 

 

علامہ اقبال کے بعد جس شخصیت کے علمی کام نے انقلابِ اسلامی ایران کو علمی، تحریکی اور روحانی بنیاد فراہم کی وہ ڈاکٹر علی شریعتی تھے۔ ایک ایسا نابغۂ روزگار عالم جو صدیوں کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ تشیع کی تاریخ میں ایسی جاندار، پر مغز اور انقلاب آفریں شخصیت میری نظر سے نہیں گزری، جس نے کئی صدیوں کی سوئی ہوئی قوم کو اپنے انقلاب آفریں پیغام سے زندہ کر دیا ہو۔ زندگی کی چند ایک خوبصورت یادوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایران میں اپنی تعیناتی کے دوران میرا قیام شاہراہ شریعتی پر رہا اور روز شام کو سیر کے دوران میں جب شریعتی کے مدرسے “حسینیہ ارشاد” کے سامنے سے گزرتا تو اسے عقیدت بھری نگاہوں سے ضرور دیکھتا۔ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کی سیرت اور شخصیت پر اگر مجھے کوئی ایک جامع اور بھرپور کتاب ملی تو وہ ڈاکٹر علی شریعتی کی “فاطمہ فاطمہ است” ہے، جسے میں کبھی کبھی اداس اور مایوس لمحوں میں پڑھتا ہوں تو ایک ولولۂ تازہ ملتا ہے۔ پوری امت کے لیئے سیدہ فاطمہؑ کی سیرت کو جس طرح علامہ اقبال نے ماں، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے آئیڈیل اور مثالی شخصیت کے طور پر اپنی نظم میں پرویا ہے، شریعتی نے بھی اسی طرح آج کے جدید دور کے الحادی اور معاشرتی طوفان کے مقابلے میں سیدہ فاطمہؑ کی سیرت کو مسلمان عورتوں کی رہنما اور دنیاوآخرت دونوں کے لیئے نجات کا راستہ بتایا ہے۔ اقبال نے کہا تھا:

مریم ازیک نسبتِ عیسیٰ عزیز

ازسہ نسبت حضرت زہرا عزیز

نورِ چشمِ رحمتہ العالمین

آں امامِ اولین و آخرین

بانوئے آں تاجدارِ ھل اتیٰ

مرتضیٰ، مشکل کشا، شیرِ خدا

مادرِ آں مرکزِ پرکارِ عشق

مادرِ آں قافلہ سالارِ عشق

ترجمہ:(سیدہ مریم مجھے ایک نسبت سے محترم ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کی ماں ہیں، جبکہ سیدہ فاطمہؑ مجھے تین نسبتوں سے محترم ہیں۔ وہ رسول اکرمؐ جو اولین و آخرین کے امام ہیں ان کی آنکھوں کا نور ہیں۔ وہ اللہ کے منتخب کردہ شیرِ خدا، مشکل کشا کی اہلیہ ہیں اور وہ عشاق کے قافلہ سالار اور مکتب عشق کے دائرے کے مرکزی نکتے سیدنا امام حسینؑ کی ماں ہیں )۔ سیدہ فاطمہؑ کی ہی تربیت گاہ سے سیدنا امام حسینؑ کی شخصیت پروان چڑھتی ہے جو آج تک امت مسلمہ کے لیے حق گوئی و راست بازی پر استقامت اور جبر و استبداد کے سامنے سینہ سپر ہونے کی علامت ہے۔ اتنی بڑی شخصیت کی موجودگی اور اتنے بڑے رول ماڈل کے ہوتے ہوئے بھی یہ امت مسلسل ہر طرح کے جبر پر سمجھوتہ کیوں کرتی رہی ہے۔ بحثیت مجموعی اس امت نے راست بازی و حق گوئی کو پس پشت ڈال کر مصلحت کیوں اختیار کی۔ یہ کیفیت اور معاملہ پوری امت کا ہے۔ اس میں شیعہ سنی کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ چودہ سو برسوں میں چند آوازیں بلند ہوئیں، چند پرعزم شخصیات ابھریں جن کی قربانیوں سے سنتِ امام حسینؑ بار بار تازہ ہوتی رہی، لیکن بحثیت مجموعی ہماری تاریخ مصلحت کوشی، خاموشی اور جبر کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی تاریخ رہی ہے۔ اسی کیفیت کا ماتم تو اقبال نے کیا تھا:

قافلۂ حجاز میں ایک حسینؑ بھی نہیں

گرچہ ہے تابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات

یہ المیہ کیسے ہوا اور کس نے کیا، ڈاکٹر شریعتی کی تحریریں اسی المیے کا ماتم کرتی ہیں۔ ان کی مختصر سی کتاب “تشیع صفوی و تشیع علوی” اس تاریخی المیے کا نچوڑ ہے۔ ان کے نزدیک تشیع کی پوری تاریخ دو رویّوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک رویہ “تشیع علوی” ہے اور دوسرا رویہ “تشیع صفوی” ہے۔ وہ کہتے ہیں، “مصلحت دراصل ایک جھوٹا لبادہ ہے جو دشمنوں کو موقع دیتا ہے کہ سچ کو دفن کردیں۔ شریعتی نے تشیع صفوی کا خوبصورتی کے ساتھ تشیع علوی سے موازنہ بھی کیا ہے۔” پوری امت سنی ہو یا شیعہ انہوں نے کربلا کے سانحے پر ہمیشہ گریہ کیا ہے، لیکن سیدنا امام حسینؑ کا پرچم اٹھاکر شریعت محمدیؐ کے نفاذ کے لیے میدان میں نہیں نکلی۔ آج کے دور کی امتِ مسلمہ کے درد ناک المیے کے بارے میں شریعتی اپنی کتاب “فاطمہ فاطمہ است” میں کہتے ہیں، “ماضی میں شیعہ اور سنی اختلاف علمی اور اصولی اختلاف تھا۔ زمانہ حال میں اس اختلاف نے بے روح لفظی بحثوں اور فرقہ پرستی کی شکل اختیار کر لی ہے۔”ہم لوگوں کے نزدیک آئمہ کا کام فقط اتنا ہے کہ وہ دوسری دنیا میں ہماری دستگیری کریں، ہمیں عذاب جہنم سے بچائیں، ہمارے گناہوں کو بخشوائیں اور ہماری شفاعت کریں، لیکن ہم ان آئمہ ہدایت سے اپنی دنیا اور دنیاوی زندگی کی اصلاح کے لئے کوئی سبق نہیں لیتے”۔

اسی کتاب میں وہ اپنے علماء کی اس روش کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے امت میں بے عملی پیدا کی ہے۔ کہتے ہیں، “اگر ہمارے عوام کا عقیدہ یہ ہے کہ حبّ ِعلی ایسا اعتقاد ہے جو معرفت اور عمل سے تہی ہے مگر ایسی کیمیائی تاثیر رکھتا ہے، کوئی ایسا جادو ہے جو برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ اگر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خواہ انسان اس دنیا میں کتنے ہی گناہ کرتا رہے محض حبّ ِ علی قیامت میں اس کے لئیے ثواب اور بخشش کی ضمانت ہوگی، تو قصور کس کا ہے۔ اسی کیفیت میں وہ گریہ کی اثرپذیری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، “محبوب کی معرفت کے بغیر اس کے لئیے رونا، اس کے ایمان اور جذبے کی حرارت کو اپنے دل میں محسوس کئے بغیر اس کے لئیے نالہ کرنا محبوب سے عہد وفا کی علامت نہیں ہے، یہ رونا تو ایسا ہے جیسے خس وخاشاک سے پاک کرنے کے لئیے آنکھیں دھولی جائیں “۔ پھر وہ خود ہی ان سب کا جواب دیتے ہیں، “ایک لفظ میں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قصوروار “عالم” ہیں۔ لیکن کیسے؟ اس لئیے کہ اسلام محمد ﷺ، راہ علیؓ اور کارحسینؓ پر ہمارے ایمان کے بے ثمر اور بے نتیجہ ہونے کا واحد سبب یہ ہے کہ ہم دراصل ان عظیم ہستیوں کو پہچاننے سے معذور اور محروم ہیں۔ ہمیں ان سے عشق ہے لیکن ہم ان کا شعور نہیں رکھتے۔ ہم ان سے محبت کرتے ہیں لیکن ہمیں ان کی معرفت حاصل نہیں ہے۔ ہمارا دین جو حقیقتاً حیات تازہ بخشنے والا دین ہے۔ اگر ہمیں زندگی نہیں بخشتا تو اس کا سبب یہ ہے کہ ہم اس دین پر رسمی ایمان رکھتے ہیں، مگر اس دین کی حیثیت سے واقف نہیں “:

سبزوار کے خوبصورت علاقے میں پیدا ہونے والا شریعتی جو آغاز میں ایک استاد تھا، مذہب کی بنیادی تعلیم کے بعد اس نے فرانس سے ڈاکٹریٹ حاصل کی، لیکن اقبال کی طرح اس کی آنکھوں کو بھی جلوۂ افرنگ خیرہ نہ کرسکا کہ ان آنکھوں کا سرمہ بھی خاکِ مدینہ و نجف تھی۔ اس نے پیغامِ سیدنا حسینؑ کو زندہ کرنے کی کوشش کی، اسی میں تشیع کی بھی نجات ہے اور اسی میں تسنّن کی بھی نجات پوشیدہ ہے۔ سیدنا امام حسینؑ اس امت کا مشترکہ ورثہ اور مشترکہ علامت ہیں۔ اعلائے کلمۃ الحق کے پرچم بردار اور عشاق کے قافلہ سالار ہیں۔ کیا ہم سب اس ایک ورثے پر متحد ہو سکتے ہیں۔ کیا ہم کربلا کو سانحہ نہیں انقلاب کا راستہ بنا سکتے ہیں۔ ہمارا المیہ وہی ہے جو شریعتی نے بتایا ہے”ہمیں سیدنا امام حسینؓ سے عشق ہے لیکن ہم ان کا شعور نہیں رکھتے، ہم ان سے محبت کرتے ہیں، لیکن ان کی معرفت حاصل نہیں کرتے۔

Share this story

Leave a Reply