قرآنِ کریم

Share this story

قرآنِ کریم

ہارون الرشید

 

توحید، رسالت اور قرآنِ کریم ہی ہمارا کل اثاثہ ہے۔ اس سے بے نیازی کا سبق دینے والے، اے اس سے بے نیازی کا سبق دینے والے!

خوابوں اور خیالوں میں آدمی جینے لگتاہے تو ایسی بات بھی کہہ دیتاہے، زندگی کی سچائیوں سے جس کا رتّی برابر بھی تعلق نہیں ہوتا۔ یونیورسٹیوں میں قرآنِ کریم کی تعلیم پر معترض محترم کو ہرگز اندازہ نہیں کہ پاکستانیوں کے زخموں پر وہ نمک چھڑکتے ہیں۔ ایک آدمی کا اعتقاداور طرزِ احساس اس کا اپنا مسئلہ ہے۔ لکم دینکم ولی دین۔ تمہارے لیے تمہارا راستہ اور ہمارے لیے ہمارا راستہ لیکن اتنا ہی بنیادی اصول یہ ہے کہ خلقِ خدا کو اذیت نہ دی جائے۔

کم کوش ہیں، خطا کار ہیں۔ قول و فعل کی دو عملی کا شکار ہیں۔ تاریخ کے چوراہے پر ہم سوئے پڑے ہیں۔ عصرِ رواں کے تقاضوں سے نا آشنا لیکن کیا اس کا سبب ہمارا ایمان ہے؟ اللہ، اس کے آخری پیغمبرؐ اور اس کی آخری کتاب پر ہمارا ایقان؟ پینتیس برس ہوتے ہیں، اسلام آباد، سپر مارکیٹ ڈی بلاک کے وسیع و عریض صحن میں ایک صاحب محفل جمایا کرتے تھے۔ ایک دن فرمایا: وہ قوم کیا ترقی کرے گی، دن میں پانچ بار جسے نماز پڑھنا ہوتی ہے۔ تب چین کی اوسط آمدن پاکستان سے آدھی تھی۔

سویت یونین میں ڈبل روٹی کے لیے قطاریں بنانا پڑتیں۔ چین میں کبھی سبزیاں نایاب ہو جاتیں، کبھی انڈے اورگھڑیاں۔ ان سے عرض کیا: کتنے لوگ نماز پڑھتے ہیں؟ اور کتنے نماز پڑھنے والے خستہ حال ہیں؟ بامِ عروج پر یہ قوم تب تھی، جب نہ صر ف لوگ پابندی اور خلوص سے نماز پڑھا کرتے بلکہ تلاوت کرتے اورراتوں کو بعض تہجد کے لیے جاگتے۔ ہاں، جھوٹ اور خیانت سے وہ گریزاں رہتے۔ ریاضت کیش تھے اور غور و فکر کرنے والے۔

کیا نمود اور فروغ کے لیے ملائیشیا والوں اور ترکوں کو مذہب ترک کرنا پڑا؟ سب جانتے ہیں کہ اقتصادی ترقی اور قوموں کے فروغ کا انحصار سول اداروں پر ہوتاہے۔ یہ فرق شمالی اور جنوبی کوریا میں دیکھا جا سکتاہے۔ میکسیکو کے اس شہر میں بھی، جس میں سے آدھا ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں واقع ہے۔ آمدنیوں میں کئی گنا تفاوت۔

صنعتی انقلاب نے معاشی زندگی کے انداز بدل ڈالے۔ افزائش کا انحصار اب صنعت پہ ہے۔ جدید تعلیم اور اس کے تقاضوں سے ہم آہنگی۔ مگر سب سے بڑھ کر وہی سول ادارے۔ اچھی پولیس، اچھی عدلیہ، حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ سول سروس، سیاسی جماعتیں اور تعلیمی ادارے۔۔۔ اور ظاہر ہے کہ ریاضت اور تنظیم۔ پھر یہ کہ اقوام ایک کم از کم اتفاقِ رائے میں نشوو نما پاتی ہیں۔ ذہنی خلفشار اور باہمی تصادم میں نہیں۔

ہندوستان کی تاریخ نے قائدِ اعظم سے بڑا سیاستدان نہیں جنا۔ نہ صرف وہ خود قرآن پڑھا کرتے بلکہ محترمہ فاطمہ جناح تلاوت کے ہنگام نکات لکھ لیتیں اور ان سے تبادلہ ٔ خیال کیا کرتیں۔ کہانی نہیں، یہ تاریخ ہے۔ اس آدمی کی اخلاقی خصوصیات کا منبع پروردگارِ عالم پہ کامل توکل کے سوا کیا تھا۔ دائم ایسی یکسوئی کہ سبحان اللہ۔ عمر بھر کسی سے مرعوب نہ ہوئے۔ عمر بھر کوئی بیان واپس نہ لینا پڑا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ پر ان کے ایمان کا کرشمہ تھا کہ عظمت آج تک ان پر ٹوٹ ٹوٹ کر برس رہی ہے۔

تاریخ نے کوئی دوسرا شاعر نہیں جنا، جس نے اپنے عہد کو اتنا متاثر کیا ہو، جتنا کہ اقبالؒ نے۔ قرآنِ کریم ان کی فکر کا واحد سرچشمہ تھا۔ سحر اٹھتے تو دیر تک تلاوت کیا کرتے۔ کبھی آنسو بہہ نکلتے اور مصحف کو دھوپ میں رکھ کر سکھانا پڑتا۔ لاہو روالے کہانیاں گھڑنے کے شوقین ہیں۔ ان میں سے بعض سرگوشیوں میں اقبالؔ کی بادہ نوشی کی بات کرتے۔ پروفیسر منور مرزا نے برسوں اس پر تحقیق کی۔ ایک دن وہ مرحوم کے پسندیدہ خادم کے پاس گئے اور کہا: علی بخش، تم تو جانتے ہو، ہم تو علامہ کے مرید ہیں۔ کم از کم ہمیں تو بتا دو۔ علی بخش رو پڑا۔ کہا: دن میں پانچ سات بار، کبھی دس بارہ بار قرآنِ کریم منگواتے۔ کچھ دیر اس کے اوراق میں کھوئے رہتے؛حتیٰ کہ چہرے پر اطمینان اترنے لگتا اور لوٹا دیتے۔ خود ارشاد کیا تھا:مالک! میری فکر کا منبع اگر قرآن نہیں تو روزِ جزا مجھے مصطفیؐ کے بوسۂ پا سے محروم کر دینا۔

امام خمینی کی بے پایاں شجاعت اور مستقل مزاجی کا راز کیا تھا؟ ایک آدھ نہیں، سینکڑوں اور ہزاروں بھی نہیں، لاکھوں مثالیں ہیں کہ جو دل سے ایمان لایا، اخلاقی عظمت نصیب ہوکر رہی۔ اہلِ فسق کی بات دوسری ہے۔ ان کی بات دوسری ہے، جن کے دل میں دنیا آباد ہے اور زبان میں دین۔ جنہوں نے قرآن، سیرت اور حدیث سے کچھ سیکھا اور نہ تاریخ سے۔ آدمی نہیں، حیوان۔ اقوام نہیں، ریوڑ۔ قرآنِ کریم ان کے بارے میں کہتا ہے: بدترین جانور، جو غور و فکر نہیں کرتے۔

گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے محمد علی جوہر برطانیہ گئے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا: مجھے آزادی دو۔ اگر نہیں تو کسی آزاد سرزمین میں قبر کی جگہ۔ بیت المقدس میں تدفین ہوئی۔ اقبالؔ نے لکھا

خاک ِ قدس او را بہ آغوشِ تمنا در گرفت

سوئے گردوں رفت زاں را ہے کہ پیغمبرؐ گزشت

اس کی آرزو کا نخل سرزمینِ قدس میں بار آور ہو گیا۔ اس راہ سے اس کی روح آسمانوں میں گئی، جس سے خاتم المرسلینؐ عرشِ بریں پہ تشریف لے گئے تھے۔ محمد علی اقبالؔ سے ملنے آتے تو ایسی بے تکلفی سے بات کرتے کہ دیکھنے والے تعجب کرتے۔ ایک بار کہا: اقبالؔ تمہاری نظمیں پڑھ کر ہم جیل چلے جاتے ہیں۔ تم یہاں حقہ گڑگڑایا کرتے ہو۔ جواب ملا: کبھی قوال کو بھی وجد آیا ہے؟ اکثر چارپائی پر بیٹھنے والے اقبالؔ پاؤں سے ٹٹول رہے تھے کہ محمد علی جوہر نے ان کا جوتا سامنے رکھا اور کہا: اقبالؔ کیا یاد کرو گے کہ محمد علی نے تمہاری جوتیاں سیدھی کیں۔ بے تکلف دوست نے کہا: محمد علی آنے والی نسلوں کے سامنے تم اس پر فخر کر سکو گے کہ تم نے اقبالؔ کی جوتیاں سیدھی کیں۔ جوہر کو یہ مرتبہ کیونکر نصیب ہوا؟ ذاتِ باری تعالیٰ پر غیر متزلزل ایمان کے طفیل۔ خود لکھا:

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

مسلم لیگ کی مجلسِ عاملہ میں، قائدِ اعظمؒ نے یہ بات بااندازِ دگر کہی تھی:میں یہ چاہتا ہوں کہ مروں تو میرا ضمیر مطمئن ہو کہ میں نے مسلمانوں کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔ متحدہ ہندوستان کی وزارتِ عظمیٰ ٹھکرانے پر ایک امریکی اخبار نویس نے سوال کیا: اس سے بڑھ کر آپ کیا چاہتے ہیں۔ فرمایا: اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ اللہ کے حضور پیش کیا جاؤں تو وہ مجھ سے کہے۔ Well done Muhammad Ali۔ توحید، رسالت اور قرآنِ کریم ہی ہمارا کل اثاثہ ہے۔ اس سے بے نیازی کا سبق دینے والے، اے اس سے بے نیازی کا سبق دینے والے!

Share this story

Leave a Reply