قصور میرا ہے یا کہ تیرا

Share this story

قصور میرا ہے یا کہ تیرا

ہارون الرشید

 

سرخرو وہی ہوتے ہیں، عزم و ہمت کے علاوہ جو تدبر سے آشنا ہوں، ریاضت کر سکیں، خوئے انتقام سے اوپر اٹھ سکیں۔ عصرِ رواں کے تقاضوں کا ادراک رکھتے ہوں۔ اقبال کی نظم کا عنوان ہے زمانہ اور اس کا ایک شعر یہ ہے:

نہ تھا اگر تو شریک محفل، قصور میرا ہے یا کہ تیرا

میرا طریقہ نہیں کہ رکھ لوں کسی کی خاطر مئے شبانہ

آدمی فیصلہ کرتاہے اور تقدیر ہنستی ہے۔ امریکہ ہی واحد عالمی طاقت تھا۔ محترم رزاق داؤد ایسے ہزاروں لوگ ا ب بھی یہی سمجھتے ہیں۔ این جی اوز ہیں، کل کے کیمونسٹ اور آج کے لبرل۔ انگریزی اخبارات کے درجنوں دانشور ہیں۔ ان سب کا طرزِ احساس یہ ہے کہ اپنی دنیا بنانے کے بعد اللہ اسے بھول گیا یا آدم زاد کے حوالے کر دی۔ عامیوں کا کیا ذکر۔ بڑے بڑے فلسفی ہو گزرے ہیں، جو اور تو سب کچھ جانتے تھے مگر یہ نہیں کہ مالک کی مرضی کے بنا ایک پتہ بھی نہیں ہلتا۔

بے شک اس کے قوانین ہیں اور اٹل مگر ظاہر ہے کہ ان قوانین کا ادراک وہی کر سکتاہے، باری تعالیٰ پہ جس کا ایمان ہو۔ عالمِ اسلام نے ان قوانین کو نظر انداز کیااور لڑکھتا چلا گیا۔ سلیمان ذی شان کی فتوحات کے بعد بر صغیر سمیت آدھی دنیاپر جب ترک حکمران تھے، مسلمان یہ سمجھنے لگے کہ اب انہیں کبھی زوال نہ آئے گا، حالانکہ یہی وہ وقت تھا، جب یورپ جاگ اٹھا تھا۔ کوئی چیز دائمی نہیں مگر تبدیلی۔

کتاب میں لکھا ہے: قومیں تکبر میں مبتلاہو جائیں تو بچ نہیں سکتیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کے بغیر عرب حکومتیں ایک ہفتہ بھی قائم نہیں رہ سکتیں۔ اسرائیل کی خوشنودی کے لیے ایٹمی پروگرام پر ایران سے کیا گیا معاہدہ یک طرفہ طور پر منسوخ کر ڈالا؛حالانکہ حلیف یورپ اس کے حق میں نہیں تھا۔ ایران پر پابندیاں بڑھا دیں۔ بھارت، جاپان اور آسٹریلیاکے ساتھ مل کر وسطی ایشیا اور ایران سمیت مشرقِ وسطیٰ کا بڑا حصہ قطع کرنے کے بعد، بایزید ایسے جلیل القدر، بادشاہ کو ہرا دینے کے بعد صاحبقراں امیر تیمور گورگانی کو یقین تھا کہ عہدِ آئندہ اس کی اولاد کا ہے۔ دمشق کو فتح کیا تو شہر کو آگ لگا دی۔ بلندیوں پر بیٹھا ایک جلال کے ساتھ جلتی ہوئی عمارتوں کے گنبدوں پر نگاہ کرتا رہا۔

آخری ہدف چین تھا۔ شہرختا۔ ایک بار اس کی دیواروں کو چھو کر وہ لوٹ آیا تھا لیکن اب عزم سوا تھا اور لشکر بھی۔ آدھی مسافت بھی طے نہ ہوئی تھی کہ علالت نے آلیا۔ ایک توکل وہ ہے کہ خدائے واحد پر ایمان سے پیدا ہوتاہے۔ فتح شکست کی جس میں اہمیت نہیں ہوتی۔ ظفر مندی یا پسپائی، ایقان برقرار رہتاہے۔ ایک یقین وہ، جو ذاتی کامیابیوں سے پیدا ہوتاہے۔ نعمت نہیں یہ مہلت ہوتی ہے۔ آدمی کو یہ ڈھیل دی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ آخر کار آدمی تھکا دیاجاتا ہے۔ پھر جیسا کہ فرمان ہے، ہوتا وہی ہے، جو مالک کو منظور ہو۔

بیماری بڑھتی گئی مگر تیمور کا ارادہ تبدیل نہ ہوا۔

موت سرہانے کھڑی تھی۔ مورخ لکھتاہے کہ ستر سالہ فاتح کا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا، پلکیں ڈھلک آئی تھیں۔ اب بھی مگر یہ امید کہ لشکر جرار چین کو فتح کرسکتا ہے۔”میری موت کو خفیہ رکھنا” جنرلوں کو اس نے نصیحت کی۔”چین فتح کرنے کے بعد خبر دنیا کو دی جائے”۔ پھر اپنے پوتوں میں سے ایک کا نام لیا کہ وہ اس کا جانشین ہوگا۔ آواز مدھم ہوتی گئی لیکن لہجے میں وہی احتشام اور جلال : میرے بعد ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات میں الجھ نہ جانا۔ متحد رہے اور میری وصیت پہ عمل کیا تو دنیا کی کوئی طاقت تم پہ غالب نہ آ سکے گی۔

چین کی طرف کوچ کا تو سوال ہی نہ تھا۔ سردار مر چکا۔ اب کوئی دوسرا سردار نہ تھا۔ ہوتا بھی کیسے۔ برگد کے سائے میں برگد تو کیا، پیپل بھی نہیں اٹھتا۔ رہا جانشین تو مٹی میں پڑے آدمی کے حکم کی حیثیت کیا؟ تاشقند میں جو شہزادہ براجمان تھا، تخت پر جم کر بیٹھ گیا اور اپنا علم اس نے بلند کر لیا۔ باقی کیا اس سے کمتر تھے کہ کورنش بجالاتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیمور کی سلطنت ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ مورخ یہ کہتے ہیں اس کے ساتھ ہی دنیا بدل گئی۔

صدیوں بعد ظہیر الدین بابر اس کا جانشین ہوا؛حالانکہ تاتاری نہیں، وہ ازبک تھا، جسے مغل کہا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان میں بھی وسطی ایشیا کے بعض قوانین کو بابر کی اولاد نے ملحوظ رکھا لیکن یہ تیمور نہیں، چنگیز خان کے قوانین کا مجموعہ تھا، جسے “آسا” کہا جاتا۔

1970ء تک سوویت یونین واشنگٹن کا سب سے بڑا حریف تھا۔ ماسکو کا حلیف نہ ہونے کے باوجود چین بھی اتنا ہی بڑا دشمن تھا۔ چینی معیشت زیادہ سے زیادہ بھارتی معیشت کے برابر تھی۔ دانائی ماؤزوئے تنگ نے یہ کی کہ ایٹم بم بنایا، دور مار میزائل نصب کیے اور خوف پھیلا دیا۔

ہنری کسنجر واشنگٹن سے اسلا م آباد آئے اور خفیہ طور پر بیجنگ گئے۔ چین امریکہ مصالحت نے دنیا کو بدل ڈالا۔ عوامی جمہوریہ چین اب سلامتی کونسل کا مستقل ممبر تھا، ویٹو کا حامل۔ ماؤزے تنگ اور چو این لائی کی وفات کے بعد ڈنگ سیاؤ پنگ ابھرا۔ وہ جانتا تھا کہ ذاتی فائدے کی امید کے بغیر انسانی صلاحیت بروئے کار نہیں آتی۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ کیمو نزم انسانی فطرت سے متصادم ہے۔ پچھلی صدی کے آٹھویں عشرے میں اصلاحات کا اس نے آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کی تیسری عظیم معیشت بن گیا۔ پھر دوسری۔ اندازہ ہے کہ ایک ڈیڑھ عشرے میں سب سے بڑی اقتصادی قوت ہو جائے گا۔ امریکہ کے برعکس، جس کی پانچ چھ نسلیں آسودگی میں پلی ہیں، چینی ابھی سخت جان ہیں۔ افلاس، محرومی، غلامی اور مصائب کی کئی صدیوں کے اسباق نے ان میں وہ دوراندیشی پیداکی ہے، دیر پا منصوبہ بندی جس سے جنم لیتی ہے۔ پچھلے چند ہفتوں کے درمیان کئی محاذوں پر انہوں نے پیش قدمی کی۔ لداخ کی ہند چینی سرحد، نیپال اور ہانگ کانگ۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بنگلہ دیش کو بھی کوئی بڑی پیشکش کی جا سکتی ہے۔

 
ایران چین معاہدے کے بعد سخت گیر سودے باز جنونی بھارت کو ایران سے نکل جانا ہے۔ امریکہ کی سینٹرل ایشیا پالیسی سے پہلے ہی وہ بے دخل ہو چکا۔

سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ چین کے دوست تو ہم تھے۔ ہمارے مقابلے میں سات گنا سرمایہ کاری کا فیصلہ ایران میں کیوں کیا؟ سامنے کی بات ہے کہ پاکستان میں عدمِ استحکام کے سبب اپوزشین لیڈر ہر قیمت پر وزیرِ اعظم کو برطرف کرنے پر مصر ہوں ؛حتیٰ کہ جنرلوں کے پاؤں چھونے پر آمادہ۔ وزیرِ اعظم بدترین حالات میں ملکی معیشت کی بجائے جب مخالفین کی تذلیل پر تلے رہتے ہیں تو استحکام کہاں سے آئے؟

دنیا بدل رہی ہے، بہت تیزی سے بدل جائے گی۔ بھارت کمزور ہے اور کمزور تر ہوتا جائے گا، ایک مصنوعی ریاست۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں، یہ مصنوعی ریاست اپنے انجام کو پہنچے گی۔ اس سے مگر ہمیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا، اگر ہم اسی جنون، اسی ہیجان اوراسی خودشکنی کا شکار رہے۔

سرخرو فقط وہی ہوتے ہیں، عزم و ہمت کے علاوہ جو تدبر سے آشنا ہوں، ریاضت کر سکیں، جو خوئے انتقام سے اوپر اٹھ سکیں۔ عصرِ رواں کے تقاضوں کا وہ ادراک کر سکیں۔ اقبال کی نظم کا عنوان ہے زمانہ اور اس کا ایک شعر یہ ہے:

نہ تھا اگر تو شریک محفل، قصور میرا ہے یاکہ تیرا

میرا طریقہ نہیں کہ رکھ لوں کسی کی خاطر مئے شبانہ

Share this story

Leave a Reply