متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ہو گیا

Share this story

ویب ڈیسک- متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا، یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات جلد ہونگے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زایدالنہیان اور اسرائیلی وزیر اعظم نے اتفاق کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی اور توانائی شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

دونو ممالک کئی شعبوں میں پہلے ہی تعاون کرتے آئیں ہیں،فریقین اسرائیل فلسطین تنازع پر قرارداد کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے، اسرائیل اور یو اے ای ایک دوسرے کے ملک میں سفارتخانے کھولیں گے، دونوں ممالک کے وفود آئندہ ہفتوں میں دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

دونو ں ممالک کے وفود سرمایہ کاری ، سیاحت ، براہ راست پروازوں اور سیکیورٹی شعبوں میں معاہدے پر دستخط کریں گے،ٹیلی مواصلات ، ٹیکنالوجی ، توانائی، صحت ، ثقافت اور ماحولیات سمیت دیگر شعبوں سے متعلق بھی معاہدے ہونگے۔

اسرائیل نے یو اے ای کے اس مطالبے کو تسلیم کیا ہے کہ مغربی کنارے کے مزید علاقوں پر قبضہ نہیں کرے گا۔

دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے پر مبارک باد دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے عوام کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان قربتیں بڑھنے لگیں ہیں،یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات جلد ہونگے۔

ٹرمپ  نے معاہدے کو اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہاکہ ابوظہبی ، متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرلیےہیں۔ یواے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا ہے،معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں امن کو فروغ ملے گا۔

خیال رہے کہ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد سے کسی عرب ملک کی جانب سے باضابطہ طور پر یہ تیسرا معاہدہ ہے، اس سے قبل مصر نے 1979 اور اردن نے 1994 میں اسرائیل سے امن معاہدہ کیا تھا۔

شدید تحفظات اور مخالفت

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات شروع ہونے کے بعد ایران اور فلسطینی قیادت نے معاہدے کو مسترد کر دیا۔

عرب خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسترد کرتے ہیں، یہ فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرت اور عوام کے حقوق کو نظرانداز کرتا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والا معاہدہ فلسطینی عوام کی پیٹھ میں غدارانہ وار کے مترادف ہے۔ یو اے ای فلسطینی مقصد کے لئے اپنی قومی، مذہبی اور انسانیت سوز ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے ممبر حنان ایشوری کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ معاملات پر کھل کر سامنے آیا ہے۔ فلسطین میں آج تک جو کچھ غیر قانونی طور پر ہوا یو اے ای اسرائیل معاہدے کا مقصد یروشلم کو نوازنا ہے۔

فلسطین کی اسلامک جہاد موومنٹ نے بھی اس معاہدے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ یہ امن معاہدہ مستقبل میں فلسطینیوں کے لیے مزید مسائل پیدا کرے گا۔ یہ معاہدہ اسرائیل کو موقع فراہم کرے گا کہ وہ مسلمانوں اور عرب ممالک کے قریب ہو اور فلسطینیوں کے مسائل کو پس پشت ڈال دے گا، اسرائیل صرف اپنا مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور یو اے ای کی ڈیل کے بعد فوری طور پر فلسطینی سیاسی لیڈر شپ کیساتھ تبادلہ خیال کرنے کے لیے اجلاس بلا لیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے معاہدے کو شرمناک قرار دیا ہے۔

Share this story

Leave a Reply