متحدہ عرب امارات کو ایف 35 طیارے حاصل کرنے میں 6-7 سال لگیں گے: امریکی سفیر

Share this story

U.S. Air Force photo by Master Sgt. Donald R. Allen

اسرائیل (پاک جرگہ، 25th September, 2020) اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین متحدہ عرب امارات کو F-35 جیٹ طیارے کی فروخت پر تنقید کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس سے اسرائیلی دفاعی حکام کو خدشہ ہے کہ وہ اسرائیل کی فوجی برتری کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ڈیوڈ فریڈمین نے بدھ کے روز کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا جیٹ، جس  نے اسرائیل کی خطے میں فوجی برتری کے امکانات کو نقصان پہنچنے پر تشویش پیدا کردی ہے، حاصل کرنے میں چھ سے سات سال لگیں گے۔

فریڈمین نے یروشلم پوسٹ اخباری کانفرنس کے دوران ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ “اماراتی چھ یا سات سالوں سے ایف -35 حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فریڈمین نے یروشلم پوسٹ اخباری کانفرنس کے دوران ایک انٹرویو کے دوران کہا ، “اگر انہیں طیارے خریدنے کے لئے منظوری مل بھی گئی تو ان کی فراہمی میں شاید اب سے مزید چھ یا سات سال کا وقت درکار ہو”۔

یاد رہے کہ ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا جیٹ کی فراہمی رسمی طور پر اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین حالیہ معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔

2008 کا قانون اور دہائیوں پرانی پالیسی مشرق وسطی کے ممالک کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے سے روکتا ہے، اگر پینٹاگون یہ طے کرتا ہے کہ ایسا کرنے سے اسرائیل کی نام نہاد “فوجی برتری” کو نقصان پہنچے گا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیل کے وزیر دفاع Benny Gantz نے طیاروں کی فروخت پر سینئر امریکی صدارتی مشیر جیرڈ کشنر کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا، جو متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ معاہدے کروانے والے معاملات کے اہم معمار ہیں۔

اسرائیل کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ، بینی گنٹز اور جیرڈ کشنر نے “خطّے میں توازن اور اسرائیل کی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانے سمیت دیگر معاملات طے کررہے ہیں اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ اسرائیل کے دفاعی معیار کی برتری برقرار رہے”۔

وہائٹ ہاؤس نے اس ملاقات کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Share this story

Leave a Reply