متنازعہ ہمالیہ بارڈر پر ہندوستان اور چینی فوجیوں کا تصادم

Share this story
  • کشیدگی کم کرنے کے لئے فوری، اعلی سطح کی فوجی بات چیت جاری ہے
  • دونوں ممالک کے مابین کئی مہینوں کے تعطل کے بعد یہ تصادم ہوا ہے 

ہمالیہ  (پاک جرگہ، 31st August, 2020) کئی ماہ سے جاری تعطل کو ختم کرنے میں اعلی سطح کی عسکری قیادت بات چیت کے متعدد دوروں کے ناکام ہونے کے بعد ، ہندوستان اور چین کے تعلقات متنازعہ ہمالیائی سرحد پر تازہ تنازعے کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا ‘بلوم برگ’ کے مطابق  چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے پیر کو بریفنگ میں اس بات کی تردید کی ہے کہ چینی فوج ہندوستان کی حدود میں داخل ہوئی اور بتایا کہ بیجنگ، نئی دہلی کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ ژاؤ نے کہا ، “چین کی سرحدی فوج ہمیشہ لائن آف ایکچول کنٹرول کی سختی سے پابندی کرتی ہے۔”

پیر کو ہندوستان کی وزارت دفاع  نے کہا کہ ہفتے کے روز اس کے فوجی،  چینی فوجیوں کی طرف سے معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے اور مزید زمین کا دعوی کرنے کے سلسلے کو روکنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

پیر کی شام دیر گئے ایک بیان میں چین کے مغربی تھیٹر کمانڈ کے ترجمان، سینئر کرنل جانگ شویلی نے بتایا کہ بھارتی فوج نے دونوں فریقین کے مابین پچھلے کثیر سطحی مذاکرات میں اتفاق رائے کو ختم کیا اور ایک بار پھر پینگونگ کے جنوبی کنارے پر غیر قانونی طور پر لائن آف ایکچول کنٹرول کو عبور کیا۔ 

جانگ شویلی نے کہا ، “اس طرح کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے سرحد پر کشیدہ حالات پیدا ہوئے۔ ہندوستانی فریق کے اس اقدام نے چین کی علاقائی خودمختاری کی شدید خلاف ورزی کی ہے ، جس نے چین اور ہندوستان کے سرحدی علاقے کے امن و استحکام کو سخت نقصان پہنچا ہے۔”

تازہ ترین تصادم Pangong Tso کی جھیل کے ساتھ ہوا ہے، جو  14،000 فٹ کی بلندی پر ایکچول کنٹرول لائن سے  3،488 کلومیٹر فاصلے پر ہے۔ 

مئی میں فوجی تصادم کے بعد سے ہی ہندوستان اور چین دونوں نے ہزاروں فوجی، ٹینک، توپ خانے اور لڑاکا طیارے سرحد کے قریب منتقل کردیئے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ اختتام سے بہت دور ہے اور ہندوستان کو طویل جدوجہد کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

Share this story

Leave a Reply