مقبوضہ جموں و کشمیر میں اردو کو واحد سرکاری زبان کے طور پر ختم کرنے کا قانون منظور

Share this story

نئی دہلی (پاک جرگہ، 23rd September, 2020): بھارتی پارلیمنٹ نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں واحد سرکاری زبان کے طور پر اردو کی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے جموں و کشمیر سرکاری زبان بل Jammu and Kashmir Official Languages Bill 2020 منظور کر کیا ہے۔

یہ بل بدھ کے روز بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا، راجیہ سبھا میں ایک صوتی ووٹ کے ذریعہ منظور کیا گیا، جبکہ لوک سبھا نے پہلے ہی اس بل کو منظور کرلیا تھا۔

اس بل کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈوگری ، ہندی ، انگریزی، کشمیری اور اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہو گا۔

امور کشمیر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں پانچ مختلف سرکاری زبانیں متعارف کروانے کا فیصلہ سب سے پہلے اردو کی 131 سالہ قدیم حیثیت کو واحد سرکاری زبان کے طور پر ختم کرنے اور بعد میں اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی سازش ہے، کیونکہ ہندو فاشسٹ بی جے پی اور RSS اسے مسلمانوں کی زبان سمجھتے ہیں۔ یہ کشمیری عوام کی شناخت اور ثقافت کو ختم کرنے کے آر ایس ایس کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔

Share this story

Leave a Reply