مولانا ناحق ناراض ہو رہے ہیں

Share this story

مولانا ناحق ناراض ہو رہے ہیں

اسداللہ خان

 

سچ پوچھیے تو اپوزیشن کے پاس حکومت کے خلاف بڑی تحریک چلانے کی گنجائش بھی کہاں ہے۔ حکومت کی حکمت عملی نے اپوزیشن کو تقریبا دیوار سے لگا دیا ہے۔ جب بھی حکومت کو اہم قانون سازی کے لیے اپوزیشن کی ضرورت پڑتی ہے ان کے پاس زیادہ پیش و پس کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ عین اسی وقت وہ اتفاق سے اپنے کیسز میں اس قدر الجھے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس کسی اور چیز میں الجھنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اب آپ اسے اتفاق ہی سمجھیے کہ 6 اگست کو رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد ہوئی، 7 اگست کو نیب نے غیر قانونی اراضی کیس میں مریم نواز کو طلب کر لیا، 11 اگست کو انہیں پیش ہونا ہے۔ 10 اگست کو پارک لین ریفرنس میں آصف زرداری پر فرد جرم عائد کی جائیگی۔ 6اگست کو نیب نے شاہد خاقان عباسی پر پی ایس او کیس میں فرد جرم عائد کر دی جبکہ اگلے ہی دن 7اگست کو نیب نے شاہد خاقان عباسی ہی کے خلاف ایک ضمنی ریفرنس بھی دائر کر دیا۔ دوسری طرف پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے ریفرنس میں نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے۔ اب آپ ہی بتائیے ایسے میں اگر7 اگست کو حکومت اہم قانون سازیوں میں اپوزیشن کی حمایت مانگ لے تو وہ کیا کرے، اپوزیشن کے لیے عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے نہ کہ چپ چاپ اہم قانون سازیوں میں حکومت کا ساتھ دے، نہ کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے مولانا کی باتوں میں آتی پھرے، مولانابات کو سمجھ نہیں رہے، ناحق ناراض ہو رہے ہیں۔

شریف خاندان جانتا ہے کہ اس نے اپنی حکومت کے دوران کیا گل کھلا رکھے ہیں اور نہایت باریک وارداتیں کس خوبصورتی سے ڈالی ہیں۔ اب آپ جاتی عمرہ میں 3568کنال کی اراضی خریدنے کی واردات کا عمل ہی ملاحظہ کریں۔ شریف خاندان چاہتا تھا کہ اپنی اراضی کے ارد گردکی تمام زمینیں خرید لے اور خریدے بھی سستے داموں۔ اس مقصدکے لیے2013 میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مبینہ طور پر احد چیمہ اور نورالامین مینگل کو ساتھ ملا کر اپنے ارد گرد کی ساری زمین کا سٹیٹس تبدیل کروایااور اسے برائون سے گرین لینڈ میں تبدیل کروالیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اب اس زمین پر تعمیرات نہیں ہو سکتیں پلازے، مارکیٹیں، ہائوسنگ اسکیمز اور فیکٹریاں تعمیر نہیں کی جاسکتیں۔ جیسے ہی اس زمین کا اسٹیٹس تبدیل ہوا توقع کے عین مطابق اس جگہ کی قیمت کئی گنا گر گئی۔ قیمت گرتے ہی شریف خاندان نے یہ زمین دھڑا دھڑ خریدنا شروع کر دی جس میں سے 1400 کنال مریم نواز نے خریدی جبکہ باقی زمین خاندان کے دیگر افراد نے خرید لی۔ ایسا ہی ایک کھیل دوسری جگہ پر کھیلا گیا، لاہور رنگ روڈ کے اطراف میں فالتو پڑی کم قیمت گرین لینڈ کو پہلے مبینہ طور پر شریف خاندان کے قریبی لوگوں نے کم قیمت میں خرید لیا اور پھر اس کا اسٹیٹس تبدیل کروا کے اسے برائون کر دیا گیا جس سے راتوں رات وہ جگہ کمرشل ہو کر نہایت مہنگی ہو گئی۔

آپ غور کیجئے کہ یہ واردات 2013میں ڈالی گئی یعنی حکومت بنانے کے فورا بعد یہ کام ترجیہی بنیادوں پر کیا گیا۔ پھر بھی سابق خادم اعلیٰ اگر یہ کہیں کہ ہم نے دل وجان سے عوام کی خدمت کی ہے تو آپ کیا کہیں گے۔ شریف خاندان جانتا ہے کہ اس نے کیسی کیسی وارداتیں اپنے دور حکومت میں ڈال رکھی ہیں۔ ایسے میں شہباز شریف کے پاس کیا آپشن ہے، وہ کیسے اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کے لیے بات چیت پر راضی ہونے کا اعلان نہ کریں۔ سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنے ساتھیوں کی اس کمزور پوزیشن کو کیوں نہیں سمجھ پا رہے اور کیوں بضد ہیں کہ سب مل کے ان کے ساتھ احتجاج کے لیے نکل کھڑے ہوں۔

اپوزیشن کے متحد ہو کر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا ویسے تو پہلے بھی کوئی امکان نہ تھا، اگر تھا بھی تو پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں ہونے والی لڑائی کے بعد صاف ہو گیا ہے کہ مولانا اور پیپلز پارٹی کے درمیان دوریاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ظاہری رکھ رکھائو کا لحاظ بھی نہیں رہا۔ غصے میں آ کر مولانا فضل الرحمن کی جماعت سے تعلق رکھنے والے رہنمائوں کا پیپلز پارٹی کی قیادت پر چیخنا چلانا، انہیں ان کے منہ پر کرپٹ کہنا اور طعنہ دینا کہ تمہیں صرف بلاول کی پروا ہے اور تم لوگ اپنے لیے سودے بازی کرنا جانتے ہو، اس کے بعد کوئی امکان باقی نہیں رہا کہ مولانااور پیپلز پارٹی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو پائیں گے، ہو بھی گئے تو اس کی حیثیت دکھاوے سے زیادہ نہ ہوگی۔

رہی شہباز شریف اور بلاول کے مل کر تحریک چلانے کی بات تو یہ کچھ دن پہلے ہی ظاہر ہو گیا تھا جب دونوں ایک دوسرے کومستقبل کے کسی احتجاج کی قیادت سونپتے نظر آئے جس سے صاف ہو گیا کہ دونوں ایک دوسرے کو قیادت کی ذمہ داری سونپ نہیں رہے بلکہ اپنی اپنی جان چھڑا رہے ہیں۔

جان چھڑانا اس وقت مفاد میں ہے، آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے حکومت کو این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کے سلسلے میں اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کے لیے اپوزیشن کی حمایت درکار ہو۔ عقل مندی کا تقاضا یہی ہو گا کہ اپوزیشن ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرے اور لچک دکھاتے ہوئے اس قانون سازی کا بھی حصہ بن جائے۔ اپوزیشن کو پیغام تو مل چکا ہے کہ لچک دکھا کر ہی لچک کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ یقینا پیری اور بیماری کے عالم میں آصف زرداری کے لیے جیل کاٹنا آسان نہیں ہو گا۔ حیرت کی بات ہے مولانا یہ باتیں کیوں نہیں سمجھ پا رہے اور کیوں ضد پہ اڑے ہیں۔

عوام خاطر جمع رکھیں، اپوزیشن اور حکومت دونوں ایک دوسرے کی کمزوریوں سے کھیلتے رہیں گے۔ نہ تو اپوزیشن حکومت کے خلاف بڑی تحریک چلائے گی اور نہ ہی حکومت اپوزیشن کا صحیح معنوں میں احتساب کا وعدہ پورا کر پائے گی۔ بس ہم ہیں کہ دونوں طرف سے کھڑے تالیاں بجاتے رہیں گے۔

Share this story

Leave a Reply