’نواز شریف کیخلاف بغاوت کی ایف آئی آر پر وزیراعظم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا‘

Share this story

لاہور: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو کوئی علم نہیں تھا جب میں ان کے علم میں لایا کہ اس طرح ایک FIR ہوئی ہے جس میں نواز شریف اور دیگر لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے انھوں نے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بغاوت کے مقدمے بنانا ہماری پالیسی نہیں ہے، یہ نواز شریف کے دور کی باتیں ہیں۔ تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے سیاست کی شطرنج پر ابھی ہماری چال باقی ہے۔

 انہوں نے مزید لکھا کہ مسلم لیگ ن پیادے بچائے شاہ اور وزیر کا کھیل ابھی دور ہے، ابھی کھیل شروع ہوا ہے جلدی کیا ہے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف سے متعلق درج کی گئی ایف آئی آر وزیر اعظم کو کوئی علم نہیں تھا جب میں ان کے علم میں لایا کہ اس طرح ایک FIR ہوئی ہے جس میں نواز شریف اور دیگر لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے انھوں نے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا، ہو سکتا ہے کسی نے کاروائی ڈالنے کیلئے ایسا کیا ہو دیکھتے ہیں۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کیلئے بینظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کے ہمدرد کو اپنا لیڈر قبول کرنا مشکل ہے، پیپلز پارٹی کی قیادت کا فیصلہ ذولفقار بھٹو اور بےنظیر کے نظریات سے متصادم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو قیادت پر دباؤ بڑھانا چاہئے کہ اس اتحاد سے باہر نکلیں جو دراصل انتشارکاایجنڈا ہے۔

اُدھر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیاسی لوگوں پر غداری کے مقدمے بنانے کہ حق میں نہیں ہے۔ یہ کام ن لیگ کیا کرتی تھی اور ہم اس پر اعتراض کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ایف آئی آر میں غداری کی کوئی دفعہ شامل نہیں ہے۔ اس میں sedition کی دفعات شامل ہیں۔ جو غداری کا جرم نہیں۔sedition کی definition لف کر رہا ہوں۔

دوسری طرف رد عمل دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ہر بات ٹی وی سے پتہ چلتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روپے کی ڈیویلیویشن ہو تو پتہ نہیں، تیل کی قیمت 25 روپے لیٹر بڑھے تو پتہ نہیں، بغاوت کا مقدمہ بنے تو پتہ نہیں- آخر ملک چلا کون رہا ہے؟ کیا ملک آٹو پائلٹ پر تو نہیں چل رہا؟

This article originally appeared on Dunya News

Share this story

Leave a Reply