وزیر اعظم سے ایک سوال

Share this story

وزیر اعظم سے ایک سوال

ہارون الرشید

 

“عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر سڑکوں، پلوں، انڈر پاسوں کی بجائے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انسانوں پر سرمایہ کاری کریں گے۔ کیا یہی وہ سرمایہ کاری ہے؟

میں یہ نہیں کہتا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں اورنج لائن جیسا کوئی بڑا منصوبہ تباہ کیا جا رہاہے۔ میری گزارش یہ ہے کہ حکومت پنجاب کا محکمہ سکول ایجوکیشن ایک اور شاندار منصوبے کی بربادی کے درپے ہے۔ جی ہاں، میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی بات کر رہا ہوں جس کی بنیاد چودھری پرویزا لٰہی کی وزارت اعلیٰ میں رکھی گئی۔ یہ منصوبہ جہاں بچوں کو بہترین تعلیم دینے کے لئے تھا، وہاں سرکاری اخراجات میں بھی اسی فیصد تک کمی ہوئی، اسی فیصد۔ کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف کے سامنے اس منصوبے کی تفصیلات رکھی گئیں تو وہ بے حد متاثر ہوئے۔ اس قدر متاثر کہ اپنے دور میں اسے دس گنا تک بڑھا دیا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایمرجنسی ایمبولینس سروسز اورٹریفک کنٹرول کے لئے وارڈن سسٹم۔ یہ بھی چوہدری پرویز الہی کے منصوبے تھے۔ جب پرویز الٰہی کا عہد مکمل ہوا تو پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن PEF سے منسلک سکولوں میں ساڑھے تین لاکھ بچے تھے۔ شہباز شریف کے دس سالہ اقتدار میں یہ تعداد 31 لاکھ تک پہنچ گئی۔

پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ہے۔ یہ مشہورزمانہ پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ سے مختلف ہے۔ انڈوومنٹ فنڈ میں منافع کی رقم سے باصلاحیت مگر مستحق طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات سرکاراٹھاتی ہے۔ پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن میں نجی ادارے سکول قائم کرتے ہیں یا پہلے سے قائم نجی سکول اس نظام سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ اب ان طلبہ کی فیس صوبائی حکومت ادا کرتی ہے۔ اس پرائیویٹ سکول کو تعلیم و تدریس کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ان سکولوں کے میٹرک کے نتائج سامنے آئے۔ اتنے شاندار کہ ٹوئیٹر پر مبارکباد کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ ان سکولوں کی طالبات مہک منیر، سہلا وقاص، عالیہ الطاف اور عروبہ نثار وغیرہ نے مختلف بورڈوں میں اعلیٰ ترین پوزیشنیں حاصل کیں۔ یہاں ششماہی امتحانوں میں نتائج کی اوسط 83 فیصد رہی۔ اس طرح سکولوں کی سطح پر دنیا کا سب سے بڑا نجی اور سرکاری اشتراک کا منصوبہ بن گیا۔ اسی طرح بہترین نتائج پر دنیا بھر میں اس کی ستائش کی گئی۔

پنجاب ایجو کیشن فائونڈیشن میں داخلے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وزیر تعلیم مراد راس، چودھری پرویز الٰہی کا منصوبہ تباہ کرنے پر کیوں تلے ہیں؟ اس پر بات کرنے سے پہلے کیوں نہ سرکاری اور پیف سکولوں کا موازنہ کر لیا جائے۔

سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد ایک کروڑسترہ لاکھ، بائیس ہزار جبکہ پیف سکولوں میں اٹھائیس لاکھ ہے۔ سرکاری سکولوں کا بجٹ 383 ارب جبکہ پیف سکولوں کا صرف بیس ارب ہے یعنی حکومت اپنے سکولوں میں ہر برس ایک بچے پر 32663 روپے خرچ کرتی ہے۔ پیف سکولوں میں یہی سالانہ خرچ 7142روپے ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ کہ سرکاری سکول میں ایک بچے پر ہر ماہ 2722روپے خرچ ہوتے ہیں۔ جب کہ پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کے زیر سایہ نجی سکولوں میں 595روپے ماہوار بنتا ہے۔ گذشتہ برس جب سرکاری اور پیف سکولوں کی مانیٹرنگ کے نتائج سامنے آئے تو پیف سکولوں میں طلبا و طالبات کی حاضری نوے فیصد تھی۔ سرکاری سکولوں میں 59 فیصد۔

اب سالانہ نتائج کا ایک جائزہ۔ سرکاری سکولوں کے نتائج بیس سے پچاس فیصد کے درمیان ہیں۔ پیف سکولوں کے 75 سے سو فیصد۔ پیف کے 75 فیصد سکول دیہات اورقصبوں میں قائم ہوئے اور ہر تین میں سے ایک بچہ معاشرے کے سب سے غریب خاندان کا ہے۔ جب ایک چوتھائی سے بھی کم خرچ پر دوگنے بہتر نتائج مل رہے ہیں تو مسئلہ کہاں ہے۔ یہ کنٹینر اندازِ فکر میں ہے۔ آپ نے ہر چیز میں لازمی طور پر کرپشن ثابت کرنی ہے۔ گذشتہ برس پیف نے ایک اندرونی آڈٹ کرایا۔ پتہ چلا کہ اٹھائیس لاکھ طلبہ میں سے 289000ہزار کے قریب طالب علم یا تو موجود نہیں یا ان کے ریکارڈ میں غلطیاں ہیں . جیسے اکثر شناختی کارڈ نمبر غلط ہوجاتا ہے یا والد کا نام. کہیں ایک کی تصویر دوسرے پر چسپاں ہوجاتی ہے۔ نئی حکومت نے اس پر کرپشن، کرپشن کا شور مچا دیااور فنڈز کا اجرا روک دیا گیا حالانکہ پرائیویٹ پارٹنرز کے ساتھ معاہدہ یہ تھا کہ اسی فیصد حاضری پر امداد روکی جائے گی نہ کٹوتی ہوگی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ رپورٹ یک طرفہ طور پر مرتب ہوئی تھی۔ سکولوں کی انتظامیہ کا موقف معلوم تک نہ کیا گیا۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ کسی سکول میں سوفیصد بچے حاضر نہیں ہوتے۔ چلیں فرض کیجیے کہ دس میں سے دو، چار فیصد بچوں کا اندراج غلط ہوگا۔ دوسری طرف سرکار نے سکولوں میں مسلمہ طور پر موجود تین لاکھ 30ہزار بچوں کی فیسیں روک رکھی ہیں کہ پیسے نہیں آرہے۔ فرماتے آپ یہ ہیں کہ 289000طلبہ کے اندراج ناقص ہیں اور ادائیگی تین لاکھ تیس ہزار کی پہلے سے روک رکھی ہے۔

سکول ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ نے پیف کے سکولوں میں داخلوں پر پابندی عائد کر دی ہے جس کی وجہ سے اکتیس لاکھ کی تعداد پہلے کم ہو کر اٹھائیس اور اب دوسرے برس چوبیس لاکھ تک آ پہنچی ہے۔ پنجاب کے کروڑوں بچے اب بھی تعلیم سے محروم ہیں۔ پیف جیسے منصوبوں کے تحت ہی انہیں سکولوں میں لایا جا سکتا ہے۔ ان سکولوں کے بچوں کی بڑی تعدادمیڈیکل کالجوں اور تعلیم کے دوسرے اعلیٰ اداروں میں دمک رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سکول ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ، پیف کے ساتھ یہ بدسلوکی پر کیوں تلا ہے؟ پہلی وجہ تو کرپشن کا شور مچانے کی آرزو ہے۔ مبینہ طور پر جو چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کے سامنے بھی ثابت نہیں کی جا سکی۔ ثانیاً ٹمنٹ ان رقوم کو کسی دوسرے منصوبے میں استعمال کرنا مقصود ہے۔ مثلا پنجاب میں کرائے کی عمارتیں لے کر ایک ہزار سکول قائم کئے جا رہے ہیں جن کی کامیابی کے بارے میں شدید ترین تحفظات اور خدشات پائے جاتے ہیں۔ پندرہ برس سے جاری شاندار منصوبے کی افادیت واضح ہے۔ پھر ایک نیا تجربہ کیوں؟

میں نہیں جانتا کہ میں کس کو مخاطب کر رہاہوں۔ شاید وزیراعظم کو، چیف جسٹس یا آرمی چیف کو۔ چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ پیف سکولز والوں کی تنظیم اور وزیر تعلیم مراد راس کے ایک سے زائد مرتبہ مذاکرات ہو چکے۔ کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ سکول ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ وہ اس منصوبے کو تباہ کرنے پر کیوں تلا ہے۔ محکمہ جس مانیٹرنگ رپورٹ کی بات کرتا ہے وہ یک طرفہ ہے اورپیف سکولوں کی کارکردگی کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھاتی۔ یہاں ایک اور تکنیکی نکتہ یہ ہے کہ پیف خود مختار اور بااختیار ہے ادارہ ہے۔ اس کے باوجود سکول ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ کے محترم وزیر اس کے فنڈز ہڑپ کرنے کے لئے اس کے معاملات میں غیر آئینی اور غیر قانونی مداخلت کے مرتکب ہیں۔ وہ سکول جن کے داخلوں میں میں پی ٹی آئی کے برسر اقتدار آنے سے پہلے 133 فیصد اضافہ ہو ا، اب کمی آتی جا رہی ہے۔ رقوم جاری نہ ہونے سے لاکھوں اساتذہ کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ گئے۔ پیف کے پارٹنرز کی بڑی تعداد مڈل کلا س سے تعلق رکھتی ہے جو نہ بڑی سرمایہ کاری کر سکتی ہے اور نہ ہی بڑے نقصان کی تاب رکھتی ہے۔ عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر سڑکوں، پلوں، انڈر پاسوں کی بجائے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انسانوں پر سرمایہ کاری کریں گے۔ کیا یہی وہ سرمایہ کاری ہے؟ “

دعاگو!

پروفیسر عدنان

چیرمین آل پیف۔ پارٹنرز اتحاد پنجاب

پس تحریر : کالم نگار کو موصول ہونے والے اس خط میں زبان کو عام فہم بنانے اور اسلوب کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے چند الفاظ تبدیل کر دیے گئے یا انگریزی سے اردو میں منتقل۔

Share this story

Leave a Reply