وفاقی کابینہ: پائلٹس کی ڈگریاں ، مکمل تصدیق کے بعد تفصیلات سامنے لانے کا فیصلہ

Share this story

اسلام آباد: باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارت ہوا بازی کی جانب سے پائلٹس کے جعلی لائسنس کے معاملے کو غلط طریقے سے ٹیک اپ کرنے کے معاملہ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس ایشو پر خاصی دیر تک بحث ہوتی رہی تاہم کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

وزیراعظم نے پائلٹس کے ایشو پر دوبارہ رپورٹ طلب کرلی۔ وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس ایشو پر دوبارہ بات ہو گی اور اس معاملہ پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے پی آئی اے پر لگائی گئی پابندیاں ختم کرانے کیلئے متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے بات چیت کرنے کا ٹاسک وزیر داخلہ شاہ محمود قریشی کو دے دیا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں مختلف امور سمیت پائلٹس کے لائسنس منسوخ کرنے سے متعلق طویل بحث ہوئی۔ پاکستانی پائلٹس کی جعلی ڈگری اور لائسنس کے معاملے کو غلط طریقے سے ہینڈل کرنے پر وفاقی وزراء نے بھی خوب تنقید کی ہے۔

وفاقی کابینہ اجلاس میں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر جعلی لائسنس اور ڈگری کے معاملے پر نے حکومتی حکمت عملی سے اختلاف کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ معاملہ بہتر طریقے سے ہینڈل کیا جاسکتا تھا، اسد عمر نے کہا کہ پائلٹس کی اہلیت اور ڈگریوں کا معاملہ حساس ہے اسے فہم و فراست سے حل کرنے کی ضرورت تھی تاہم اجلاس میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کابینہ کے ارکان کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے بیشتر ارکان کا مؤقف تھا کہ پائلٹس کے لائسنس کے معاملے کو غلط انداز طور پیش کیا گیا جس سے یورپی یونین سمیت دیگر ممالک کی ایجنسیوں کو کارروائی کرنے کا موقع مل گیا وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شاہ محمود اور اسد عمر نے کہا کہ پی آئی اے میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کا معاملہ آیا ہے اس سے پاکستان کی بدنامی اور جگ ہنسائی ہوئی۔ اس معاملے کو بہتر انداز میں ٹیک اپ کیا جاسکتا تھا

فواد چوہدری نے بھی کہا کہ پائلٹس کے معاملے پر پورا ادارہ تو بند نہیں ہوسکتا، اگر ڈگریوں کا معاملہ تھا تو اس کو ائیرلائنز سے منسوب کرنا درست نہیں۔ اس موقع پر شاہ محمو قریشی نے کہا کہ وہ پائلٹس کے معاملے پر پورپی یونین سے بات کررہے ہیں۔

کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے بتایا کہ حکومت نے سول ایوی ایشن اور تمام فضائی کمپنیوں میں اصلاحات کے جامع عمل کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت تمام اقدامات اور پائلٹس کو لائسنس کے اجراء میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے جہازوں کو جو پائلٹ چلا رہے ہیں وہ مکمل چھان بین کے مرحلے سے گزرنے کے بعد جہاز اڑانے کیلئے سوفیصد اہلیت کے حامل ہیں۔

انہوں نے جمعرات کی شام اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قومی ایئرلائن کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے تمام ممکنہ کوششیں کر رہی ہے۔

وزیر اطلاعات نے دو گزشتہ حکومتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پی آئی اے کو پہنچائے گئے ناقابل تلافی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

اس موقع پر بحری امور کے وزیر علی زیدی نے کہا کہ حکومت نے محکمہ ہوابازی اور پی آئی اے کو تحفظ کے حوالے سے دنیا کے مثالی ادارے بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن کے پائلٹس کو لائسنس جاری کرنے والے ادارے میںبے ضابطگیوں کے سدباب کیلئے بڑے پیمانے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2010ء میں لائسنس کے اجراء کا نیا نظام وضع کیا گیا تھا جس کے تحت 236 پائلٹس کو 2018ء تک گراؤنڈ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی لائسنسنگ اتھارٹی کے پانچ عہدیدار بھی معطل ہیں۔

Share this story

Leave a Reply