پابندیوں کو نہیں مانا جائے گا:علماء کا اعلان

Share this story

راولپنڈی اور اسلام آباد کے پچاس سے زائد علماء نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ وہ رمضان میں تراویح، نماز پنجگانہ اور جمعہ کی نمازوں پر تین سے پانچ افراد کی شرط کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

وفاق المدارس العربیہ، جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ، انصار امہ اور کالعدم سپاہ صحابہ سمیت مذہبی جماعتوں سے وابستہ کئی علماء نے کل بروز پیر ایک اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ایسی کسی شرط کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس اجلاس کی صدارت مولانا پیر محمد عزیز الرحمن ہزاروی نے کی، جس میں را ولپنڈی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پچاس سے زائد علما نے شرکت کی۔ اس موقع پر مولانا ہزاروی نے حکومت پر یہ بات واضح کی کہ مساجد کی تالا بندی، نماز جمعہ اور نماز تراویح کی بندش اہل وطن کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مساجد کی بندش کے حوالے سے عوام میں سخت بے چینی اوراضطراب ہے۔ “احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کی آبادی ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔ تمام حفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ نمازوں، جمعہ اور تراویح عبادات جاری رہیں گی۔”

واضح رہے پاکستان میں طبی ماہرین ہر قسم کے اجتماع کو کورونا کی وبا کے پیش نظر خطرناک قرار دے چکے ہیں۔ حکومت کو مذہبی اجتماعات اور نماز جمعہ کی تین سے پانچ افراد کے ساتھ ادائیگی والی پابندی کو نافذ کرنے میں سخت دشواری آرہی ہے۔ اسلام آباد میں گزشتہ جمعے جب نمازیوں نے کئی مساجد کو بند پایا تو انہوں نے مساجد کے باہر سینکڑوں لوگوں کے ساتھ نمازیں ادا کیں۔ جب کے ملک کے کئی حصوں کے اندورنی علاقوں میں بھی اس پابندی کو ہوا میں اڑا دیا گیا ہے جب کہ پولیس بھی اس پابندی کو نافذ نہیں کر سکی۔ کراچی میں تین گھنٹے کی سختی کے باوجود کچھ مساجد میں نمازیں ادا کی گئیں اور پولیس کو مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ملک کے کئی حلقے تبلیغی جماعت سمیت مختلف مذہبی حلقوں کو وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن علما کے اس اجلاس نے تبلیغی جماعت کا بھر پور دفاع کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کا میڈیا ٹرائل بند کیا جائے۔

اس اجلاس کی کارروائی کے حوالے سے جب ڈی ڈبلیو نے مولانا مفتی محمد اویس عزیز سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا، “ہم نے حکومت سے ہمیشہ تعاون کیا ہے اور ابھی بھی ہمارے انتظامیہ سے روابط ہیں۔ ہم نے کچھ اجلاسوں میں شرکت بھی کی ہے اور مزید میں بھی کریں گے لیکن ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نمازجمعہ یا تراویح میں تین یا پانچ بندوں کے ساتھ نماز ادا کرنے کی شرط ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے ارو ہم اس کو نہیں مانیں گے۔”

تحفظ ناموس رسالت محاذ کے ترجمان محمد علی نقشبندی کا کہنا تھا کہ انہیں تو مساجد آباد کرنی ہیں اور نمازیں پڑھانی ہیں۔ “تو اگر مسجد میں دس یا سو افراد آتے ہیں، تو ہم انہیں نہیں روکیں گے کیونکہ یہ کام ہمارا نہیں بلکہ حکومت کا ہے۔” اسی تنظیم کے سکریٹری جنرل رضائے مصطفٰی نے حکومت کو صرف مساجد کے حوالے سے اقدامات کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا، “وزیر اعظم خود دس دس سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس ہورہے ہیں اور بینک بھی کھلے ہوئے ہیں۔ لاک ڈاون کرنا ہے تو پھر جامع کریں، صرف مساجد کو ٹارگٹ کرنا مناسب نہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ یہ قبل از وقت ہے کہ ان کی تنظیم تراویح پر پابندی لگنے کی صورت میں کیا رد عمل دے گی۔ “ہم انتطامیہ سے بات کر رہے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ کوئی ایس او پی بنالیں۔ ہماری تنظیم کے ساتھ ہزاروں مساجد ہیں اور ہم صورت حال پر غور کرنے کے لیے اپنا اجلاس بلا رہے ہیں۔”

مذہبی رہنماوں کے اس رویے نے طبی ماہرین سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسویشن کے سابق عہدیدار ڈاکٹر عبید عثمانی نے اس صورت حال پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نماز جمعہ، تراویح اور دیگر مذہبی تقریبات پر پابندی نہ لگائی گئی تو ملک بہت بڑے طبی بحران سے دو چار ہوجائے گا۔ ” یہ مولوی حضرات لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کی اس ضد کا مذہب سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ مذہب تو انسانی جان کی حرمت کا درس دیتا ہے۔ دنیا بھر کے طبی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اسطرح کے اجتماعات صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ لہٰذا ریاست اپنی رٹ قائم کرے اور ایسے اجتماعات کو روکے ورنہ نہ صرف صحت کا پورا نظام بیٹھ جائے گا بلکہ اس سے ملک بھی بہت بڑی تباہی سے دو چار ہو سکتا ہے۔”

معروف سیاست دان سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا تھا کہ یہ بات سجمھ سے باہر ہے کہ ایسے اجتماعات کی کیونکر اجازت دی جائے۔ “خانہ کعبہ بند ہے۔ مسجد نبوی بند ہے۔ کئی مسلم ممالک میں مساجد بند ہیں۔ تو ایسے میں ان اجتماعات کی کیسے اجازت دی جا سکتی ہے، جو صحت کے نظام کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ حکومت فوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل اور دوسرے اداروں کو ان حضرات کو قائل کرنے کے لیے کہے۔”

Source DW.com

Share this story

Leave a Reply