پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان قربت سے بھارت خوفزدہ

Share this story

ویب ڈیسک- پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں بہتری کی حوصلہ افزا امیدوں نے بھارت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، بھارت کو پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان تعلقات میں بہتری سے پریشانی ہونے لگی جس کا اظہار بھارتی وزارت خارجہ نے کردیا۔

ترجمان بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان قربت میں چین خفیہ کردار ادا کررہا ہے، نیپال ، سری لنکا اور مالدیپ کے بعد بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کا چوتھا ملک ہے، جس کیساتھ چین قریبی تعلقات بڑھا کر خطے میں اپنے سیاسی اثرورسوخ میں اضافہ کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔

بھارت کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب وزیرِاعظم عمران خان نے ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کی بنگلہ دیشی ہم منصب شیخ حسینہ واجد سے پندرہ منٹ کی گفتگو ہوئی۔

ہندوستان کے میڈیا ہاؤس این ڈی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بنگلہ دیش کی ہم منصب شیخ حسینہ کو فون کیا اور اسلام آباد سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ عمران خان نے ہندوستان کے پڑوس میں بدلتی ہوئی صورت حال اور چین کے ساتھ لداخ میں لائن آف اکچول کنٹرول پر ہونے والی جھڑپوں کے تناظر میں جموں و کشمیر کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حل طلب مسئلہ اب بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کیا اور بنگلہ دیش میں کرونا سے ہونے والی اموات پر اظہار افسوس کیا تھا ساتھ ہی شیخ حسینہ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی،بنگلہ دیشی نیوز ویب سائٹ کے مطابق عمران خان نے سارک کے ذریعے علاقائی تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری پر زور بھی دیا ۔

چند ہفتے قبل یکم جولائی کو بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ اے کے عبدالمومن اور ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی کے درمیان بھی ملاقات ہوئی،جس کا مقصد پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کیساتھ تعلقات میں بہتری کیلئے آمادگی تھی۔

بھارتی میڈیا نے عبدالمومن اور عمران صدیقی کے درمیان ملاقات پر بھی شک کا اظہار کیا تھا،پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ان ملاقات کو ٹیلی فونک رابطوں کو سفارتی حلقوں میں بھارت کی مشرقی سرحد پر تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Share this story

Leave a Reply