پاک فوج منتخب جمہوریت حکومت کے پیچھے کھڑی ہے،وزیراعظم

Share this story

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف بھارت کی ایماء پر پاک فوج کو کمزور کرنے کا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔

ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کیساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاک فوج منتخب جمہوری حکومت کے پیچھے کھڑی ہے اور اس ادارے کو کمزور کرنے کی کوشش سے بھی پاکستان کو نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فوج ہی ہے جس نے ہمارا تحفظ کیا ہے ورنہ پاکستان بھارت کے مذموم عزائم کے مطابق تین حصوں میں بٹ چکا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کیساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی ہرممکن کوشش کی تاہم بدقسمتی سے بھارت میں بی جے پی کی حکومت کے نظریات پاکستان کیخلاف ہیں جس پر ہمیں گہری تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی غیرقانونی طریقے سے حاصل کی گئی دولت کے تحفظ کیلئے دباؤ ڈالنے کیلئے ہمارے اداروں بالخصوص فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک سوال پر عمران خان نے کہا کہ بری فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے میری اجازت سے گلگت بلتستان سے متعلق سلامتی کے امور پر غور کیلئے حزب اختلاف کے قائدین سے ملاقات کی۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہاں کے عوام کی محرومیوں کو دور کیا جا سکے۔

انہوں نے میڈیا ہاؤسز پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت زیادتی کے مجرموں کو عبرت ناک سزائیں دینے کیلئے قانون سازی کر رہی ہے جن میں کیمیائی طریقے سے نامرد بنانا اور سزائے موت بھی شامل ہیں۔

 

پروگرام کے میزبان ندیم ملک کی عمران خان سے آرمی چیف سے ہونے والی ملاقاتوں سے لے کر حساس ادارے کے لوگوں کی سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں سمیت تمام معاملات پر کھل کر گفتگو ہوئی۔

انٹرویو سے متعلق ندیم ملک کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے 30 سالہ کیرئر میں کسی وزیراعظم سے اتنے سخت اور براہ راست سوالات نہیں کیے، جتنے اس انٹرویو میں عمران خان سے کیے۔

سوال نمبر 1: باس کون ہے؟ آپ يا جنرل باجوہ۔

سوال نمبر 2: عمران خان کو یہی کال آئے کہ استعفیٰ ديديں، تو ديديں گے؟

سوال نمبر3: عاصم باجوہ پر سنگين الزامات ہيں؟ آپ نے کلين چٹ ديدی، کيوں؟

انٹرویو سے متعلق سینیر اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ ایسے بہت سے سوالات پر وزیراعظم سے سول ملڑی تعلقات پر کھل کر گفتگو کی۔ آئی ایس آئی کیساتھ ان کے معاملات جو ماضی میں چلتے رہے ہیں، یا موجودہ جو حالات چل رہے ہیں، ان سب موضوع پر کھل کر بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیراعظم نے اتنا کھل کر کسی ٹی وی انٹرویو پر بات نہیں کی۔ عمران خان کی جانب سے کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی کہ یہ سوال کرنا ہے یا یہ سوال نہیں کرنا۔ جو سوال پوچھا گیا، انہوں نے اس سوال کا جواب دیا، جس سوال پر مجھے لگا کہ انہوں نے جواب نہیں دیا میں نے اسے گھما کر پھر پوچھا اور انہوں نے اس کا بھی جواب دیا۔

ندیم ملک کا کہنا تھا کہ سوالات اور اس پر عمران خان کے جوابات پر یہ وزیراعظم کا ایک بڑا انٹرویو ہے۔ جس میں انہوں نے بڑے واضح طریقے سے بات کی۔ میڈیا کی آزادی ہو یا اپوزیشن کی آرمی چیف سے ملاقاتیں، حساس ادارے کی دیگر اداروں یا معاملات میں مداخلت ہو، اس سب چیزوں پر بڑی تفصیل کے ساتھ براہ راست گفتگو کی۔

Share this story

Leave a Reply