پہلی پرواز: امریکی اور اسرائیلی حکام کو لے کر اسرائیلی طیارہ متحدہ عرب امارات پہنچ گیا

Share this story

‘نارملائزیشن’ معاہدے کو مستحکم کرنے کے لئے اعلی سطحی وفود اسرائیل سے متحدہ عرب امارات روانہ ہوئے۔

ابوظہبی (پاک جرگہ، 31st August, 2020) اسرائیل اور امریکہ کے اعلی سطحی وفود مشرق وسطی کے ممالک کے مابین پہلی بار تجارتی پرواز کے ذریعے متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں تاکہ نئے تعلقات کو قائم کرنے کے لئے ایک متنازعہ معاہدے کو حتمی شکل دی جاسکے۔

تل ابیب سے براہ راست پرواز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو کے معاونین پیر کے روز اسرائیل کے پرچم بردار جہاز  El Al سے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی پہنچے۔

سعودی عرب کی طرف سے اتوار کے روز اسرائیلی درخواست پر راضی ہونے کے بعد فلائٹ  LY971 کی پرواز سعودی عرب کی فضائی حدود سے گزر کر ابوظہبی پہنچی۔ یہ پول موقع ہے جب اسرائیلی تجارتی طیارے نے سعودی حدود کو طویل فاصلہ طے کرنے کے لیے  استعمال کیا۔

امریکی اور اسرائیلی وفود کو ابوظہبی لے جانے والے اس طیارے میں انگریزی ، عبرانی اور عربی زبان میں “امن” کا لفظ لکھا ہوا ہے۔ اس کا نام Kiryat Gat کے نام پر بھی رکھا گیا ہے، جو فلسطینیوں کی نسل کشی کے بعد یہودی آباد کاری کے لیے عراق المنشیہ اور الفلوجہ کی باقیات پر تعمیر کی گئی تھی۔

فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتية  نے اس پرواز کو “بہت تکلیف دہ” قرار دیا اور “عرب اسرائیل تنازعہ کے بارے میں عربوں کی پوزیشن کی واضح اور صریح خلاف ورزی” کے طور پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا ، “ہم نے امید کی تھی کہ ایک اماراتی طیارہ آزاد یروشلم میں اترتے ہوئے دیکھیں گے ، لیکن ہم ایک مشکل عرب دور سے گزر رہے ہیں۔”

13 اگست کو اعلان کیا گیا کہ “نارملائزیشن” معاہدہ کسی عرب ملک اور اسرائیل کے مابین 20 سال میں پہلی ایسی کوشش ہے، اور اس کوشش کے پیچھے ایران کا مشترکہ خوف اثر انداز ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسن نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کا معاہدہ اماراتی عوام کے مؤقف کے خلاف ہے ، اور یہ “صرف صیہونی مفادات میں ہے … اس خطے میں اختلافات کو ہوا دینے والا”۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ وہ تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں- خاص طور پر اسرائیل کو اماراتی تیل کی فروخت اور متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی ٹیکنالوجی کا فروغ۔ اس کے علاوہ براہ راست فضائی روابط قائم کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ وہ دفاع ، طب ، زراعت ، سیاحت اور ٹیکنالوجی میں تعاون پر غور کررہے ہیں۔

Share this story

Leave a Reply