چاہے میری حکومت چلی جائے احتساب سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، عمران خان

Share this story
  • نوازشریف کو جانے دینا ہماری غلطی تھی، ان کی لندن میں سیاست دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے
  • سوئچ آن کرنے سے نیا پاکستان نہیں بنتا، وقت لگے گا
  • پاکستان فیٹف بلیک لسٹ میں گیا تو ذمہ دار اپوزیشن ، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر قانون پاس کرائینگے
  • کراچی کو خود مانیٹر کررہا ہوں

اسلام آباد(اے پی پی ، آن لائن، دنیا مانیٹرنگ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے چاہے میری حکومت چلی جائے لیکن احتساب سے پیچھے نہیں ہٹوں گا،پرویز مشرف نے کرسی بچانے کیلئے این آر او دیکر جرم کیا، جس کے باعث ملک کے قرضوں میں 4 گنا اضافہ ہوا، میں نے اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے، این آر او دے دوں تو 5 سال آسانی سے پورے کرسکتا ہوں، لیکن اپنے نظریے پر سمجھوتا نہیں کرسکتا،ہرکام کشتیاں جلا کر کرتا ہوں، اپوزیشن جتنا مرضی بلیک میل کر لے ، دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے لیکن میں این آر او نہیں دونگا۔

ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے و زیر اعظم نے کہا نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینا ہماری غلطی تھی، ہمیں انکی بیماری کے حوالے سے یہ حالات بتائے گئے تھے کہ نواز شریف شاید لندن بھی نہ پہنچ سکیں، اور ایساماحول بنایاگیاکہ یہ نہیں بچیں گے ۔

میڈیکل بورڈ نواز شریف کے بیرون ملک علاج کی سفارش نہ کرتا تو کبھی باہر نہ جانے دیتا۔لیکن نوازشریف باہر گئے تو وہاں سیاست شروع کردی۔لندن میں سیاست کرتادیکھ کرشرمندگی ہوتی ہے ،شریف فیملی کے بیرون ملک رابطے تو ہیں، ایک ملک کے بادشاہ نے کہا تھا نواز شریف سے ان کے تعلقات ہیں۔ شہبازشریف نے نوازشریف کی واپسی کی ضمانت دی۔ میں نے 60سال کاریکارڈعدالت میں جمع کرایا، لیکن نوازشریف نے جعلی قطری خط پیش کیا،نوازشریف پیسہ چوری کرکے باہرلے گئے اور ان کے پاس ایک دستاویزنہیں، جب تک ان کا احتساب نہیں ہوگا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔

چیئرمین نیب پی پی اور ن لیگ نے ملکرلگایا،95 فیصد کیسز ان کے دور میں بنے ،ہمارے دور میں شہباز شریف کی ٹی ٹیز کا کیس ہے ،اگر نیب میں کیسز میں نے بنائے ہیں تو کیا علیم خان ،سبطین خان کومیں نے گرفتار کرایا۔

وزیراعظم نے کہا پاکستان ایف اے ٹی ایف بلیک لسٹ میں چلا گیا تو ملک پر برے اثرات ہوں گے ،ایران جیسے معاشی حالات ہوسکتے ہیں، عالمی سطح پر معاہدے ختم ہوسکتے ہیں، روپے کی قدر گرے گی اور مزید مہنگائی آئے گی، بھارت کی پوری کوشش ہے پاکستان بلیک لسٹ میں چلا جائے ، اپوزیشن کو بھارتی سوچ کا علم ہے پھر بھی بل پر اعتراض کیا اور ڈرامہ رچایا، ان کی بلیک میلنگ کا مقصد این آر او لینا ہے ۔

اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کیلئے درکار قانون سازی کی آڑ میں منی لانڈرنگ اور نیب قوانین میں ترامیم چاہتی ہے تاکہ اپنی چوری بچا سکے ۔ ماضی میں کبھی کسی حکومت کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا گیا،مسلم لیگ(ن)کے دورمیں پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہوا۔ اب پاکستان کو اگر بلیک لسٹ میں ڈالا گیا تو اس کی ذمہ دار اپوزیشن ہو گی،آئندہ ہفتے پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلاکر فیٹف قانون پاس کرانے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا خارجہ پالیسی میں فوج کا عمل دخل نہیں ہوتا،مخصوص بھارتی لابی پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہے ۔ کراچی میں فوج مدد نہ کرتی تو تباہی مچ جاتی، حکومت کا پہلا سال بہت مشکل تھا۔غیروں سے قرض مانگنے پر سب سے زیادہ شرمندگی ہوتی تھی۔ پاکستان میں کبھی طاقتورکوقانون کے نیچے نہیں لایاگیا،تاہم اللہ کاشکرہے اب پاکستان درست سمت میں جارہاہے ۔ ماضی میں اتنے طاقتور لوگوں کو کبھی جیلوں میں نہیں ڈالا گیا۔ معاملات کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا ،ایسا نہیں ہوتا کہ نئی حکومت آئے ، سوئچ آن کرے اور نیا پاکستان بن جائے ۔

کورونا کی صورتحال سے ہماری معیشت جتنی تیزی سے نکلی ہے اتنی کسی ملک کی نہیں نکلی ، برآمدات بڑھی ہیں،سٹاک مارکیٹ اوپر جارہی ہے ،لوگوں کو امید نظر آئی ہے ۔اگلے مہینے ہائوسنگ کے حوالے سے خوشخبری ملے گی۔ بجلی فی یونٹ 17 روپے میں بنتی ہے جبکہ 14 روپے میں فروخت کرتے ہیں ،3 روپے کا اضافی بوجھ عوام پر نہ ڈالیں تو سرکلرڈیٹ بڑھ جاتا ہے ۔

ستمبر کے دوسرے ہفتہ میں قوم کے سامنے بجلی کے حوالے سے پلان لا رہے ہیں،آئی پی پیز کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ وہ معاہدوں پر نظر ثانی کیلئے مان گئے ،قصور تو ان کا ہے جنہوں نے مہنگے معاہدے کیے ڈومور کا مطالبہ کرنے والا امریکا امن میں پارٹنر بن چکا ہے ۔

امریکا،سعودی عرب،ایران،ترکی سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں،میں کوشش کررہا ہوں کہ ان ممالک کے اختلافات ختم ہوجائیں،میرے سب ممالک کے سربراہان سے رابطے ہیں۔

انہوں نے کہا کراچی بالکل کھنڈر بن چکا ہے ،این ڈی ایم اے کے ساتھ ملکر کراچی میں کام کر رہے ہیں ،کراچی اور لاہور میں میٹرو پولیٹن سسٹم لانا ہوگا، سندھ کے مسائل کا حل اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنا ہے ۔ قبل ازیں وزیراعظم نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ٹیلی فون کر کے کراچی میں بارشوں سے ہونیوالے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا صوبہ سندھ بالخصوص کراچی کے حالات سے واقف ہوں، ارکان قومی اسمبلی کراچی میں لوگوں کی مدد کیلئے حلقے میں نکلیں۔ گورنرسندھ لوگوں کو ریلیف کیلئے اقدامات کریں، متاثرہ شہریوں کو کھانے پینے کی اشیا بر وقت فراہم کی جائیں، نشیبی علاقوں میں متاثرین کو مناسب مقامات پر پہنچایا جائے ۔

ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کراچی کے عوام کی مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہیں ،میں ذاتی طور پر ریلیف اور ریسکیو آپر یشنز کو مانیٹر کر رہا ہوں اور گورنر سندھ کے علاوہ چیئرمین این ڈی ایم اے سے بھی مسلسل رابطے میں ہوں ۔

ہم سیلاب کا باعث بننے والے نالوں کی صفائی کے مسئلے کے مستقل حل، سیوریج سسٹم کی فکسنگ اور کراچی کے عوام کو پانی کی سپلائی جیسے بڑے چیلنج کے مستقل حل کیلئے جامع پلان کا جلد اعلان کریں گے ۔ بحران کی اس کھڑی میں ہم کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہائوسنگ اور تعمیرات کے شعبے میں ہونیوالی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تعمیرات کے شعبے کا فروغ ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے لہذا اس شعبے کا فروغ اور اس شعبے سے منسلک سرمایہ کاروں، بلڈرز اور ڈویلپرز کیلئے آسانیاں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔

اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے و دیگر حکام نے وزیر اعظم کو تعمیرات کے شعبے میں دی جانیوالی مراعات، کمرشل، رہائشی تعمیرات کے حوالے سے اب تک دی جانیوالی منظوریوں، مستقبل قریب میں شروع ہونیوالے منصوبوں، پارک انکلیو تھری منصوبے ، بلیو ایریا میں کمرشل پلاٹس کی نیلامی میں پیش رفت اور سی ڈی اے کی مکمل آٹومیشن پر بریفنگ دی۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے اجلاس بھی منعقد ہوا۔ جس میں وزیر اعظم کو آئی ٹی سیکٹر کا ملکی معیشت میں کردار، شعبے میں ملکی برآمدات اور شعبے کے فروغ کے حوالے سے درپیش رکاوٹوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں سٹیٹ بینک کی جانب سے فری لانسرز کے معاوضے کی حد پانچ ہزار ڈالر ماہانہ سے بڑھا کر پچیس ہزار ڈالر کر دی گئی ہے ۔

وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ملک کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے شعبے میں بے انتہا صلاحیت موجود ہے ۔ شعبے کے فروغ سے نہ صرف نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں مدد ملے گی اور نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اس سے ملکی برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے ممتاز مذہبی سکالر حافظ محمد طاہر اشرفی نے بھی ملاقات کی، جس میں اہم ملکی اور امت مسلمہ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

طاہر اشرفی نے اس موقع پر مسئلہ فلسطین کے بارے میں وزیر اعظم کے بیان کو سراہا اور اسے پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین مطابق قرار دیا۔

Share this story

Leave a Reply