چھکا یا کیچ

Share this story

چھکا یا کیچ

ارشاد احمد عارف

 

لگتا ہے کپتان “پولی پولی” بولنگ سے تنگ آ گیا اور اس نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں ہٹ لگا دی، یہ سوچے، پروا کئے بغیر کہ نتیجہ کیا ہو گا، چھکا یا کیچ۔ واجد ضیا رپورٹ پر اپوزیشن کا ردعمل حسب معمول ناقدانہ تھا، ماضی میں مجھے یاد نہیں کہ کسی تحقیقاتی رپورٹ کو دن کی روشنی دیکھنا نصیب ہوئی، حمود الرحمن کمشن رپورٹ، بھارت میں چھپ گئی پاکستان میں چالیس سال تک چھپائی جاتی رہی، اوجھڑی کیمپ رپورٹ محمد خاں جونیجو کی حکومت کو ہڑپ کرگئی مگر پردے سے باہر نہ آئی، سانحہ ماڈل ٹائون کی باقر نجفی رپورٹ کا ایک ایک لفظ اخبار نویسوں کے علم میں ہے مگر مسلم لیگی حکومت کے لئے ایم ڈی تاثیر کا نامہ اعمال بن گئی ؎

داور حشر مرا نامہ اعمال نہ دیکھ

اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے میاں شہباز شریف نے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے استعفیٰ لے لیا مگر باقر نجفی رپورٹ میں جب سارے پردہ نشینوں کا ذکر ہوا تو انہیں بحال کر دیا، میاں نواز شریف کے دوسرے دور میں آٹے کا شدید بحران آیا، اس قدر شدید کہ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا “شیر آٹا کھا گیا” یہ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی نشان پر گہرا طنز تھا مگر مجال ہے کہ کسی ایک وزیر، مشیر، بیورو کریٹ سے تعرض کیا گیا ہو، غالباً 2015ء میں پٹرول بازار سے غائب ہو گیا، ایک ایک لیٹر پٹرول حاصل کرنے کے لئے گھنٹوں خوار ہونا پڑتا تھا، تحقیقاتی کمیٹی بنی، رپورٹ تیار ہوئی اور پھر سرد خانے کی نذر۔ وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی گزشتہ روز عمران خان کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے تو مجھے پٹرول کا بحران یاد آ گیا جس کی ذمہ داری انہوں نے قبول کی نہ وفاقی وزیر خسرو بختیار اور صوبائی خوراک سمیع اللہ چودھری کی طرح اپنی وزارت سے استعفیٰ دیا، مطلوبہ اخلاقی جرأت کا فقدان تھا یا مسلم لیگ کے وزیر مشیر اپنے آپ کو معصوم عن الخطا سمجھتے تھے۔

عمران خان کی وفاقی اور سردار عثمان خان بزدار کی صوبائی حکومت اتحادیوں کے سہارے قائم ہے ایک اتحادی اور پارٹی کے دو چار ارکان اِدھر اُدھر ہو جائیں تو حکومت ختم، خسرو بختیار جنوبی پنجاب محاذ کے اہم لیڈر ہیں اور وفاقی و صوبائی پارلیمانی پارٹی میں ان کا اثرورسوخ کسی سے مخفی نہیں، جہانگیر خان ترین کو مخالفین “کنگ میکر” قرار دیتے ہیں مگر عمران خان نے واجد ضیاء رپورٹ منظر عام پر لا کر نہ صرف جہانگیر خان ترین اور خسرو بختیار کے لئے سبکی کا سامان کیا بلکہ وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی خسرو بختیار اور صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری کے رضا کارانہ استعفوں سے حکومت کے لئے خطرات میں اضافہ ہو گیا، وفاقی کابینہ میں ردوبدل اور بااثر بیورو کریٹس کی اپنے مناصب سے جبری علیحدگی بھی معمولی بات نہیں، حکومت کی رخصتی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے اور وزیر اعظم عمران خان کی برطرفی یا استعفے کی تاریخیں دینے والی اپوزیشن کے لئے یہ صورتحال بلی کے بھاگو چھینکا ٹوٹا کے مترادف ہے۔ چودھری برادران عمران خان کے ساتھ ہیں مگر بذریعہ مولانا فضل الرحمن اپوزیشن سے بھی رابطے میں، ایم کیو ایم مشکل سے کابینہ میں واپس آئی ہے اور اختر مینگل؟ ۔ ع

جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

ایسے میں رپورٹ کو پبلک کرنے کے بعد بااثر وزیروں اور بیورو کریٹس کے خلاف کارروائی؟ لگتا ہے عمران خان فارم میں آ گیا ہے، اپنا کرپشن مخالف اور دلیرانہ تشخص بحال کرنے کا سنہری موقع عمران خان کو ملا اور اس نے نتائج کی پروا کئے بغیر چھکا لگا دیا، اب کوئی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ حکومت برقرار رکھنے کے لئے وہ سمجھوتے پر سمجھوتے کئے چلا جا رہا ہے اور اُسے اپنی ساکھ سے زیادہ اقتدار و اختیار عزیز ہے۔

اگر جہانگیر خان ترین، خسرو بختیار اور سمیع اللہ چودھری میں سے کوئی بغاوت کا راستہ اختیار نہیں کرتا، پارٹی ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے، عمران خان کے فیصلوں کے سامنے سر جھکاتا اور اعلیٰ اخلاقی اُصولوں کی پاسداری کرتا ہے تو یہ ہماری سیاست میں نیا اور خوشگوار رجحان ہے جس کا کریڈٹ ان تینوں سیاستدانوں کے ساتھ عمران خان کو جائے گا، اپوزیشن اگر صورتحال سے فائدہ نہیں اٹھا پاتی تو یہ اس کی نالائقی ہے یا بے بسی، اور عمران خان حکومتی کشتی کو آٹے چینی بحران کی منجدھار سے بہ سلامت نکالنے میں کامیاب رہے، مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن کے اندازوں اور بعض ٹی وی اینکرز کے تجزیوں کے برعکس حکومت یہ سال بھی خوش اسلوبی سے نکال گئی تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہو گا کہ پاکستانی سیاست بلوغت کی طرف گامزن ہے اور جنہیں مسلم لیگی قائد میاں نواز شریف خلائی مخلوق قرار دیتے رہے وہ سیاسی معاملات سے اپنے آپ کو واقعی الگ تھلگ کرچکے ہیں، پاک فوج اور خفیہ اداروں کے مخالفین کھسیانی بلی کی طرح محض کھمبا نوچتے رہے اور مولانا فضل الرحمن نے غلط اُمید یں وابستہ کر کے اپنے آپ کو دھوکہ دیا۔

محمد خان جونیجو نے کرپشن کے الزام میں اپنے دو وزیروں پرنس محی الدین بلوچ اور دانیال عزیز کے والد چودھری انور عزیز کو کابینہ سے برطرف کیا تھا، اس کے بعد کسی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کو یہ توفیق نہ ہوئی، عمران خان 25اپریل کے بعد اگر آٹا چینی بحران کے ذمہ داروں سے ان کے شایان شان سلوک کرتے ہیں تو یہ نئے عہد کا آغاز ہو گا، کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قانون شکنی کے خاتمے کی طرف اہم پیش رفت، کیا عمران خان یہ سب کچھ کر پائیں گے؟ 25اپریل دور نہیں اور رپورٹ میں نامزد دیگر افراد بھی قانون کی دسترس میں ہیں، فی الحال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی خوشی کے شادیانے بجا رہی ہے، واجد ضیاء کی رپورٹ کو عمران خان کے خلاف پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرنے کے درپے۔ کہیں کل کلاں کو یہ اپوزیشن کے گلے کا پھندا نہ بن جائے۔ سنا ہے، عمران خان اور اس کے طاقتور اتحادیوں کو بھی سیاست آ گئی ہے، تازہ شاٹ چھکا ہے یا کیچ؟ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔

Share this story

Leave a Reply