چین اور بھارت کی جانب سے غیر اعلانیہ جنگ کا خطرہ ہے، ماہرین کا انتباہ 

Share this story

ہندوستان (پاک جرگہ، 6th September, 2020) بھارت اور چین کے مابین متنازعہ سرحد پر  ایک ماہ سے جاری فوجی تنازعہ اور جھڑپوں کے حوالے سے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک، جو پچھلی کئی دہائیوں میں ہونے والے موجودہ خونی ترین تصادم میں برسر پیکار ہیں، غیر ارادی اور غیر  اعلانیہ جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دونوں ممالک کشمیر کے ہمالیائی خطے کے مشرقی کنارے پر سرحد کے ساتھ 45 سالوں سے بے شمار تحریری اور غیر تحریری معاہدوں کی وجہ سے ایک (غیر اطمینان بخش) جنگ بندی کو برقرار رکھے ہوۓ ہیں۔ لیکن پچھلے کچھ مہینوں سے جاری جھڑپوں نے صورتحال کو غیر متوقع بنا دیا ہے، اور اس خطرے کو بڑھا دیا ہے کہ کسی بھی طرف سے کوتاہی اور غلط اندازے قائم کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جو اس خطے سے باہر تک پھیل جائیں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا ، جو سن 2014 سے 2016 کے دوران ہندوستانی فوج کے ناردرن کمانڈ کے سربراہ تھے،  کا کہنا ہے کہ “زمین پر صورتحال بہت خطرناک ہے اور یہ قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔” بہت سارے معاملات اس بات پر منحصر ہوں گے  کہ دونوں فریقین غیر مستحکم صورتحال پر قابو پا لیتے ہیں یا نہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ لڑائی دوسرے علاقوں تک نہ پھیلے۔

دونوں ایشیائی طاقتوں  نے متعدد ناکام مذاکرات کیے ہیں جن میں فوجی کمانڈر بھی شامل تھے۔ ایسے اشارے ملے ہیں کہ یہ مذاکرات اب سیاسی سطح کی طرف جارہے ہیں- 

دونوں ممالک کے وزرائے دفاع نے جمعہ کے روز روسی دارالحکومت میں اس تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کے سلسلے میں ملاقات کی۔ چار ماہ قبل لداخ میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد فریقین کے مابین یہ پہلا اعلی سطح کا براہ راست رابطہ تھا۔

Share this story

Leave a Reply