کبھی بحیلۂ مذہب، کبھی بنامِ وطن

Share this story

کبھی بحیلۂ مذہب، کبھی بنامِ وطن

ہارون الرشید

 

تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے، معاشروں کو تعلیم و تربیت کی، ورنہ وہی ریوڑ کے ریوڑ۔ صدیوں پہلے جو کبھی بادشاہوں اور پادریوں کا مارایورپ تھا، جو آج ہم ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے، کورونا کے باب میں اہلِ لاہور کی لاپرواہی کی شکایت کی تو کچھ لوگ ناراض ہوگئے۔ یہی گلہ وزیرِ اعظم سے ہوااور بلاول بھٹو نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ عوام کو جاہل کہنے والوں کو الیکشن میں مزہ چکھایا جائے گا۔ مطلب یہ کہ ہم انہیں بھڑکانے کی کوشش کریں گے۔ عوام کے جذبات سے کھیلیں گے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اور وزیرِ اعظم نے کون سی قابلِ اعتراض بات کہی ہے۔ حکومت کی کوتاہیاں اپنی جگہ مگر اس میں کیا شبہ کہ اکثر نے احتیاطی تدابیر کو پرکاہ برابراہمیت نہیں دی۔

دو ماہ ہوتے ہیں، ایک بڑی یونیورسٹی کے ایک ممتاز پروفیسر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ موسم خوشگوار تھا بلکہ جامعہ کی ہریالی میں سحر انگیز۔ اتنے میں ایک اور معززاستاد آپہنچے۔ آتے ہی مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور ارشاد کیا: اس کورونا ورونا کو ہم کچھ نہیں سمجھتے۔ کسی کے سمجھنے یا نہ سمجھنے سے کیا ہوتاہے۔ زندگی کے حقائق اور قدرت کے قوانین کو بدلا نہیں جا سکتا۔ سرِ موْ بھی بدلا نہیں جا سکتا۔ ان سے آہنگ اختیار کرنا ہوتاہے ورنہ شب و روز میں اضطراب گھلتا ہے اور کبھی تو تباہی آتی ہے۔

انگریز ی میں کہتے ہیں Face it۔ کوئی مسئلہ یا چیلنج پیدا ہو تو اس کا سامنا کرو۔ فرار اختیار کرنے والے اس کبوتر کی طرح ہوتے ہیں، جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں یا شترمرغ کی طرح ریت میں سر چھپا لیں۔

غلامی تو کسی کو بھی راس نہیں۔ اللہ نے انسانوں کو آزاد پیدا کیا اور آزادی ہی میں حیات پھلتی پھولتی ہے۔ انسانی صلاحیت چمک ہی نہیں سکتی، اجتماعی حیات اگر زنجیروں میں جکڑی ہو۔ ایک چیز مگر حقیقت پسندی بھی ہوتی ہے اور ایک چیز ڈسپلن بھی۔ صدیوں بلکہ ہزاروں برس کی غلامی نے بر صغیر کے مزاج میں لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کوٹ کوٹ کے بھردی ہے۔ اس کی فطرتِ ثانیہ بنا دی۔ یہی روش ہے، جواسے ابھرنے نہیں دیتی۔ جبر ہو تو لوگ چیختے ہیں کہ شرفِ آدمیت سے محروم کر دیے گئے۔ آزادی عطا ہو تو وحشت اور ہیجان کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ابتدا میں کورونا کا مسئلہ کچھ ایسا سنگین نہ تھا۔ تب یہ تاویل تھی کہ ہم برصغیر کے لوگ غیر معمولی قوتِ مدافعت کے حامل ہیں۔ ایک دلیل یہ بھی تھی کہ ملیریا کے ٹیکوں نے انسانوں کو فولاد بنا دیا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ سارے فلسفے ہوا میں اڑگئے۔ اب ہر طرف خوف کی حکمرانی ہے۔ چترال سے کراچی تک صفِ ماتم بچھی ہے۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، خود معالج اور بڑے بڑے لیڈر ڈھے پڑے ہیں۔

شہباز شریف کے مداح شاکی ہیں کہ نیب کی وجہ سے وہ وائرس کا شکار ہوئے۔ ان سب لوگوں کو اللہ صحت عطا کرے۔ نیب کا وائرس سے کیا تعلق۔ میاں صاحب سے کس نے کہا تھا کہ کارکنوں کا ہجوم لے کر جائیں۔ جلوس نکالیں اور اس پر گل پاشی کا اہتمام کریں گویا کوئی کارنامہ انجام دے کر آئے ہوں۔ ناجائز ذرائع سے سات ارب روپے کمانے کا الزام ہو، جو ٹی ٹی کے ذریعے ایک سے دوسرے کھاتے میں منتقل ہوتے رہے۔ تھیلوں میں بھر بھر کے جو ایک سے دوسرے مقام پر پہنچائے گئے۔ تنہا شہباز شریف ہی نہیں، ان کی گاڑی میں سوار دوسرے سب لوگ محترمہ مریم اورنگزیب، پروفیسر احسن اقبال اور جنابِ شاہد خاقان عباسی بھی مرض کا شکار ہو گئے بلکہ فدائین کی اکثریت۔ ذمہ دار نیب والے ہیں، جن کے تفتیش کرنے والوں نے ہر احتیاط روا رکھی۔ تفتیش کے ہنگام سات فٹ کے فاصلے کا اہتمام کیا اور بیچ میں غالباً شیشے کی دیوار بھی حائل تھی۔

سرکارؐ نے فرمایا تھا: آخر کار ہر وہ کام میری امت کرے گی، بنی اسرائیل جس کے مرتکب ہوئے۔ وہی بنی اسرائیل، جنہوں نے کہا تھا: موسیٰؑ لڑے اور اس کا رب۔ وہی بنی اسرائیل، جن کے بارے میں ان کے جلیل القدرپیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ ان جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔

تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ قومیں وہی سرخرو ہوتی ہیں، جنہیں تعلیم دی جائے اور جن کی تربیت کی جائے۔ برصغیر کا مزاج یہ ہے کہ جبر اور غلامی میں مقابلہ کرنے کی بجائے روتے پیٹتے ہیں، خودترسی کا شکار ہوتے اور تقدیر کا گلہ کرتے ہیں۔ آزادی عطا ہو تو قانون شکنی میں حظ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ برصغیر کا عمومی مزاج یہ ہے کہ زندگی کے حسن و قبیح کا انحصار فقط حکمرانوں پر ہوتاہے۔ عام آدمی کی کوئی ذمہ داری ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ عام آدمی سے زیادہ اشرافیہ اس کی ذمہ دار ہے، جو غوریوں، لودھیوں، سوریوں، مغلوں اور سکھوں کی ویسی ہی اطاعت کرتی آئی ہے، جیسی اب اپنے سیاسی دیوتاؤں کی۔ جاگیرداروں کے ستم سہتی ہے، ملّا سے فریب کھاتی ہے اور ان ترقی پسندوں سے، مرعوبیت کے سوا جن کا کوئی اثاثہ نہیں۔ جو کبھی سویت یونین کے گیت گایا کرتے، اب امریکہ کے نخچیر ہیں۔ اقبالؔ نے کہا تھا: اے کشتۂ سلطانیٔ و ملّائی و پیری۔

ایک کے بعد دوسرا شعبدہ باز لیڈر اٹھتا اور قوم کو فریب دیتاہے۔ ایک نسل کو ذوالفقارعلی بھٹو نے دھوکہ دیا۔ دوسری کو نواز شریف اور تیسری کو عمران خان نے۔ اچھے بھلے لیڈر دکھائی دیتے ہیں لیکن پھر دربار سجا لیتے ہیں اور خود کو ظلِ الٰہی سمجھنے لگتے ہیں۔ بادشاہوں کی پرستش برصغیر کے خمیر میں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان سے کہا تھا کہ انہیں ملک کا مستقل حکمران ہونا چاہئیے۔ اس سے پہلے سکندر مرزا کے نام ایک خط میں انہوں نے لکھا کہ ان کی خدمات قائدِ اعظم سے بڑھ کر ہیں۔ ایوب خان کو وہ ایشیا کا ڈیگال اور کبھی صلاح الدین ایوبی کہا کرتے۔ مادرِ ملت کو غدار قرار دینے والے ایوب خان کی پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے اور ایوب خان کے متبادل امیدوار۔ ایوب خان ناراض ہو گئے تو وہ باغی بن کر ابھرے۔ حبِ وطن کا پرچم اٹھایا۔ غریبوں کے دکھ درد پہ سینہ کوبی کی۔ بھارت کو للکارا، کسانوں کو زمین اور مزدوروں کو کارخانہ عطا کرنے کا اعلان کیا اور مغربی پاکستان کو بہا لے گئے۔ ازل سے آدمی کے ساتھ یہی ہوتاآیا ہے۔

امیرِ شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے

کبھی بحیلۂ مذہب، کبھی بنامِ وطن

نواز شریف جنرلوں کی گود میں پروان چڑھے اور ایوانِ اقتدار تک پہنچے۔ اب انہیں حریت پسندی کا ایک لہکتا ہوا استعارہ بنا کر پیش کیا جاتاہے۔ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آئے اور اب وہ خود اس پہ شرمسار دکھائی دیتی ہے۔ کورونا الگ، دوسرے مسائل ہی اتنے ہیں، گویا ہم ایک وسیع و عریض جنگ میں کھڑے ہوں اور راستہ نامعلوم۔ تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے، معاشروں کو تعلیم و تربیت کی، ورنہ وہی ریوڑ کے ریوڑ۔ صدیوں پہلے جو کبھی بادشاہوں اور پادریوں کا مارایورپ تھا، جو آج ہم ہیں۔

Share this story

Leave a Reply