کرتارپور راہداری بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی اتحاد کی حقیقی علامت ہے: پاکستان

Share this story

اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی اتحاد کی ایک حقیقی علامت ہے۔ سکھ مذہب میں کرتارپور کی خصوصی اہمیت ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آج کرتارپور راہداری کے تاریخی افتتاح کا پہلا سال مکمل ہو گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پوری دنیا سے سکھ برادری کی دیرینہ خواہش کو پورا کرتے ہوئے بابا گرو نانک کی 550 ویں یوم پیدائش کے موقع پر 09 نومبر 2019ء کو اس راہداری کا تاریخی افتتاح کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سکھ مذہب میں کرتارپور کی ایک خاص اہمیت ہے کیونکہ سکھ مذہب کے پہلے گرو بابا گرونانک صاحب نے کرتارپور میں اپنی زندگی کے آخری سال گزارے تھے۔ کرتارپور راہداری جسے “امن کوریڈور” بھی کہا جاتا ہے، بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی اتحاد کی ایک حقیقی علامت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری سکھ برادری سمیت اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے بھی کرتارپور کا دورہ کرتے ہوئے اسے” امید کی راہداری“ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے اس اہم اقدام کو بے حد سراہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تاہم کووڈ 19 وبائی امراض کی وجہ سے یہ راہداری 16 مارچ 2020ء کوعارضی طور پر بند کر دی گئی تھی لیکن جیسے ہی دنیا بھر میں مذہبی مقامات بتدریج کھلنا شروع ہوئے، پاکستان نے بھی 29 جون 2020ء کو صحت سے متعلق ضروری حفاظتی پروٹوکول کے ساتھ راہداری کو دوبارہ کھول دیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت نے ابھی تک اپنی طرف سے راہداری دوبارہ نہیں کھولی ہے۔

This article originally appeared on Dunya News

Share this story

Leave a Reply