کون کتنا ذہین؟ 30 امریکی صدور کے آئی کیو کا جائزہ

Share this story

لاہور: (اسپیشل فیچر) جب امریکہ میں یہ بحث چل ہی پڑی ہے کہ کون ذہین ہے اور کون بے وقوف، تو کیوں نہ ہم بھی اپنا حصہ ڈالتے ہوئے یہ دیکھ لیں کہ امریکہ میں حکومت کرنے والے صدور کتنے ذہین تھے۔

امریکا میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایک دوسرے پر ٹیکسوں کی چوری سمیت متعدد سنگین الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ پر انسانی کی پامالی کا الزام بھی لگا اور نسل پرستی کا بھی۔ جبکہ صدر ٹرمپ نے مخالف صدارتی امیدوارجو بائیڈن کو بے وقوف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوبائیڈن کا آئی کیو لیول ہی بہت نیچے ہے، اگر وہ امریکا کے صدر بن گئے تو میں امریکا سے ہی چلا جاؤں گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنا آئی کیو 156 بتایا جاتا ہے، کچھ رپورٹوں کے مطابق ان کا آئی کیو 145 ہے۔

بے وقوف اور ذہین صدور کا پتہ چلانے کے لئے ہمیں سب سے پہلے ان کے آئی کیو کو تلاش کرنا پڑا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ 30 کے قریب سابق صدور کا آئی کیو موجود ہے، اسی لئے ہم نے 30 سابق صدور کا جائزہ لینا ہی بہتر جانا۔

آئی کیو کے مطابق امریکہ بہت زیادہ ذہین لوگوں کا ملک نہیں ہے، اس سے زیادہ ذہین ممالک موجود ہیں۔ قوم کے مجموعی آئی کیو کے اعتبارسے ہانگ کانگ اور سنگاپور سب سے آگے ہیں جن کا مجموعی آئی کیو 108 ہے۔

تائیوان اور سائوتھ کوریا میں قوم کا مجموعی آئی کیو 106 ہے۔ جاپانی قوم کا آئی کیو 105، چینی قوم کا 104 اور سوئٹزر لینڈ اور نیدر لینڈز کا آئی کیو 102 ہے۔

آئس لینڈ، فن لینڈ اور کینیڈا کا آئی کیو 101 ہے۔ بیلجئم، جرمنی، برطانیہ، آسٹریا اور نیوزی لینڈ کا 100، ناروے، سویڈن، لگزمبرگ، ڈنمارک، چیک اور آسٹریلیا کا آئی کیو 99 ہے۔

فرانس، امریکہ اور ہنگری کا آئی کیو 98 ہے۔ اٹلی، لٹویا، سپین اور پولینڈ کا آئی کیو 97، روس کا 96، کروشیا، پرتگال اور یوکرائن کا 95، آئس لینڈ اور ویتنام کا 94، بیلا روس، ملائیشیا اور لیتھونیا کا 93، جارجیا اور نارتھ مقدونیہ کا 91، ارجنٹائن اور رومانیہ کا 90، ترکی ،تھائی لینڈ ،سربیا اور چلی کا 89، کمبوڈیا، میکسیکو کا 88، فلپائن اور بولیویا کا 85، کیوبا، البانیہ اور انڈونیشیا کا 84، مصر، میانمار، امارات اور برازیل کا آئی کیو 83 ہے۔ پاکستان الجیریا، شام، مراکش اور بوسنیا کا آئی کیو 82 اور انڈیا اور سعودی عرب کا آئی کیو 81ہے۔ اس حوالے سے صومالیہ اور سوڈان سب سے نیچے ہیں۔

آئی کیو 140ہو تو اسے ذہین مانا جاتا ہے۔ اس سے نیچے والے افراد کسی بھی ملک کے صدر تو بن سکتے ہیں لیکن قوم کو بہتر راستہ نہیں دکھا سکتے جبکہ 115 کے حامل افراد کو ایوریج سمجھا جاتا ہے۔

اکثر سابق امریکی صدور کا آئی کیو زیادہ نہیں تھا۔ کم آئی کیو والے صدور کی ریکٹنگ بھی کم رہی ہے۔ سابق امریکی صدر اولسس ایس گرانٹ کا آئی کیو 120 تھا، یعنی وہ اوسط درجے سے کچھ ہی اوپر تھے۔

غلامی کے خاتمے میں وہ ابراہام لنکن کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے لیکن ابراہام لنکن کے جانشین اینڈریو جانسن کے ساتھ ان کی نہ بن سکی۔ اینڈریو غلامی جاری رکھنے کے حق میں تھے جبکہ اولسس گرانٹ ابراہام لنکن کی طرح غلامی کا نام و نشان مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ1868ء میں صدر بنے۔ انہیں جنگی ہیرو مانا جاتا ہے۔

ابراہام لنکن کے قتل کے بعد صدر بننے والے اینڈریو جانسن کاآئی کیو 125 تھا، کچھ مورخین انہیں تاریخ کا بدترین صدر قرار دیتے ہیں۔کیونکہ انہوں نے غلامی کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں بھی کی تھیں ۔ ایوان زیریں نے مواخذے کی قرارداد منظور کی لیکن وہ سینٹ میں صرف ایک ووٹ سے بچ نکلے ۔سابق سوویٹ یونین سے الاسکا کی خریداری ان ہی کا کارنامہ ہے۔

ایک اور کم آئی کیو والے سابق صدر ولیم ہاورڈ ٹیفٹ (12 6)بھی تھے۔وہ1908ء میں صدر منتخب ہوئے تھے بعد ازاں انہوں نے چیف جسٹس کا عہدہ بھی سنبھال لیا تھا۔ان دو عہدوں پر فائز رہنے والے وہ واحد صدر تھے۔ 30ویں صدر کیلون کولیج (127)نے بطور گورنر میسا چوسسٹس بوسٹن میں پولیس کی ہڑتال ناکام بناکر شہرت حاصل کر لی تھی لیکن ان کا پورا دور سیکنڈلز کی زد میں رہا۔33 ویں امریکی صدر ہیری ٹرومین کا آئی یو 128 تھا۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملے ان کی پہچان ہیں۔وہ کورین وار میں بھی اقوام متحدہ کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔مغربی یورپ کی تعمیر نو کے لئے 12ارب ڈالر کامارشل پلان جاری کرنے کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

12ویں صد ر ایکرے ٹیلرکا آئی کیو 129 تھا،پیٹ کی مرض نے انہیں اقتدار کا دورانیہ پورا کرنے کی مہلت نہ دی اوروہ16مہینے حکومت کرنے کے بعد جولائی 1850ء میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔جیمز بکانن129 آئی کیو کے ساتھ امریکہ کے کمزور صدور میں شامل ہیں۔ ان کا عرصہ اقتدار 1857ء سے 1861ء تک ہے۔وہ امریکہ کے واحد غیر شادی شدہ صدر ہیں۔ان کے اقدامات کی وجہ سے ہی امریکہ میں خانہ جنگی پھوٹ پڑی تھی۔

امریکہ کے 40ویں صد رونالڈ ریگن کا آئی کیو 130 ہے۔انہوں نے   وار آن ڈرگس‘‘ سے بھی شہرت پائی ۔ 130آئی کیو کے حامل ولیم میکنلے 25 ویں صدر تھے خانہ جنگی انہیں ورثے میں ملی۔  امریکہ۔ سپین جنگ‘‘ کے دوران بھی انہوں نے ہی اپنے ملک کی قیادت کی۔رچرڈ نکسن 132 آئی کیو کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔ویتنام میں قیام امن ان کا ہی کارنامہ ہے۔1972 ء میں وہ بھاری اکثریت سے منتخب ہو گئے لیکن واٹر گیٹ سکنڈل ان کی   یاد گار‘‘ ہے جس میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز کیا گیا، 9 اگست 1974ء کوانہیں صدارت سے مستعفی ہونا پڑا۔

سابق صدر ڈی آئزن ہاورکا آئی کیو 132تھا۔ان کا شمار چین مخالف صدور میں کیا جاتا ہے، اسی لئے ان کے دور میں امریکہ پاکستان تعلقات نچلی ترین سطح پر آ گئے تھے۔ انہوں نے 1953ء میں چین پر حملہ کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی تھی۔ انہوں نے 1955 ء میں تائیوان کا دفاع کرنے سے متعلق بل بھی منظور کر لیا تھا۔ جارج ڈبلیو بش ( 139) 43ویں صدر تھے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ ان کی شناخت ہے۔ 2001ء میں افغانستان پر دھاوا بولنے کے بعد انہوں نے2003ء میں عراق پر جنگ مسلط کر دی۔یہ سب کوششیں انہیں2008ء کے بدترین مالی بحران سے نہ بچا سکیں۔ 38 ویں صدر جیرالڈ فورڈکا آئی کیو 140تھا۔وہ گریٹ ڈپریشن کی صورت میں ورثے میں ملنے والے بدترین مالی بحران پر قابو پانے میں کامیاب رہے۔ سابق صدر نکسن کو واٹر گیٹ سکینڈل میں استثنیٰ دینے پر وہ بھی مخالفین کی تنقید کا نشانہ بنے ۔

امریکہ کے بانی جارج واشنگٹن کا آئی کیو140تھا لیکن وہ ملک آزاد کرانے میں کامیاب رہے انہوں نے ہی ملک کو بحران سے نکالا اور ایک راہ پر ڈالا۔انہیں   فادر آف ہز کنٹری ‘‘کہا جاتا ہے۔لڈن بی جانسن (140) جان ایف کینڈی کے قتل کے بعد صدر بنے تھے۔وہ   غربت کے خلاف جنگ ‘‘ کر کے لاکھوں افراد کو غربت سے نکالنے میں کامیاب رہے۔

16ویں صدرابراہام لنکن (140) امریکہ میں تبدیلی لانے میں کامیاب رہے، 13ویں ترمیم کے ذریعے غلامی کے خاتمے کا سہرا ان کے سر ہے۔یہی وجہ ہے انتہا پسند نے ان کی 1865ء میں جان لے لی۔ 41ویں صدر جارج ایچ ڈبلیوبش (بش سینئر) کا آئی کیو 143 ہے۔ تھیوڈور روز ویلٹ ( 143) امریکہ کے 26 ویں صدر تھے۔انہوں نے نئی خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی۔

پاناما کینال کی تعمیر شروع کرائی۔کلیو لینڈ (144) دو مختلف ادوار میں منتخب ہونے والے واحد امریکی صدر ہیں۔ انہوں نے سیاست کو بدعنوانی سے پاک کرنے کی کوششوں سے شہرت پائی۔44ویں صدر براک اوباما (155) نوبل انعام حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ افغانستان میں فوج بڑھانے کے علاوہ انہوں نے لیبیا کا بھی فوجی حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔

جمی کارٹرکا آئی کیو 156 ہے۔ وہ 1977ء سے 1981ء تک صدر رہے، افغانستان میں روسی فوج ان کے دور میں ہی داخل ہوئی اور انہوں نے پاکستان کی مدد سے افغانستان کو بڑی تعداد میں روسی فوجوں کا قبرستان بنا دیا۔ بل کلنٹن امریکہ کے ذہن صدور میں شامل ہیں۔

مونیکا لیونسکی کیس ان کے دور کا ایک اہم سیکنڈل ہے ،سینٹ میں مطلوبہ حمایت نہ ملنے کی وجہ سے ان کے خلاف مواخذے کی تحریک ناکام ہو گئی تھی۔35ویں صدر فٹز جیرالڈ کینیڈی کا آئی کیو 160 تھا۔ وہ 1961ء میں قتل کر دیئے گئے تھے۔ تھامس جیفرسن ( 160) امریکہ کے تیسرے صدر تھے۔ سات زبانوں پر عبور رکھنے والے جان کوئینسی ایڈمزکا آئی کیو175تھا۔ مورخین انہیں 1812ء میں دوران جنگ قیام امن کیلئے بہترین مذاکرات کرنے کا کریڈٹ دیتے ہیں۔

تحریر: صہیب مرغوب – بشکریہ روزنامہ دنیا 

Share this story

Leave a Reply