روشن کہیں بہار کے امکان ہوئے تو ہیں – 2

Share this story

روشن کہیں بہار کے امکان ہوئے تو ہیں – 2

ارشاد احمد عارف

 

ویڈیو لنک پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا میں نے باری آنے پر یہ سوال داغ دیا کہ حکومت پورے ملک، ہر ضلع کے عوام کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے بجائے ان مخصوص علاقوں میں سخت لاک ڈائون پر توجہ کیوں نہیں دے رہی جہاں کورونا واقعی قیامت ڈھا رہا ہے اور بعض شعبوں میں کاروبار کی اجازت دینے کے باوجود یہ سوچنے سے کیوں قاصر ہے کہ ٹرانسپورٹ پر پابندی کے سبب ان شعبوں سے وابستہ کارکن اور مزدور تاحال گھروں میں بیٹھے ہیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر کے جواب سے اندازہ ہوا کہ پورے ملک میں جزوی لاک ڈائون کے مقاصد اور قباحتوں کا حکومت کو علم ہے اور وہ مزید پابندیوں کے بجائے نرمی اور آسانی کی پالیسی پر کاربند ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کی چھان بین اور آزادانہ نقل و حرکت کی نگرانی کے لئے بھی اس نے حکمت عملی وضع کی ہے ٹیسٹ، ٹریس اینڈ قرنطینہ کی اس پالیسی پر عملدرآمد کے لئے صوبائی حکومتوں کو کہہ دیا گیا ہے اور اگلے چند دنوں میں شائد بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندیاں بھی ختم کر دی جائیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی حکومتی منصوبے پر روشنی ڈالی۔

کورونا وائرس سے پاکستان کو معاشی شعبے میں ناقابل بیان نقصان اٹھانا پڑا، ٹیکسوں کی وصولی، برآمدات اور صنعتی پیداوار کے اہداف اڑنچھوہو گئے، کساد بازاری کا عفریت پوری دنیا کے سر پر منڈلا رہا ہے پاکستان کیسے محفوظ رہ سکتا ہے جو مقروض معیشت اور محدود وسائل کے سبب پہلے ہی گنجی نہائے گی کیا؟ اور نچوڑے گی کیا؟ کی کیفیت سے دوچار تھا، دو ماہ سے جن کے کاروبار بند ہیں اور مزید معلوم نہیں کتنا عرصہ بند رہیں گے، وہ اپنی جمع پونجی خرچ کر چکے جبکہ ریاست کو اپنے وسائل کا بیشتر حصہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کی بحالی، غریب طبقے کو امداد کی فراہمی اور کورونا کے خلاف طبی سہولتوں پر خرچ کرنے کی مجبوری لاحق ہے، قانون قدرت کے مطابق شر سے خیر یوں برآمد ہو رہا ہے کہ ریاست کے وسائل کا رخ خود بخود عام آدمی کی طرف مڑ گیا ہے اور قومی ترجیحات میں وہ شعبے اہمیت اختیار کر گئے ہیں جنہیں کئی عشروں تک جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا، مثلاً گزشتہ چار عشروں سے تعلیم و صحت کا شعبہ نجی ہاتھوں میں دے کر حکومت نے قومی وسائل موٹر ویز، ہائی ویز، انڈر پاسز، فلائی اوورز، اورنج ٹرین، میٹرو اور دیگر نمائشی منصوبوں کے لئے وقف کر دیے، سرکاری ہسپتال اور تعلیمی ادارے غریب اور متوسط طبقے کے لئے مختص ہوئے تو ان میں جدید سہولتوں کی فراہمی کا کسی کو خیال کیوں آتا؟ انہی کالموں میں بار بار توجہ دلائی کہ سرکاری تعلیمی اور طبی اداروں کی حالت بہتر بنانے کا واحد آزمودہ نسخہ یہ ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں اور سرکاری افسروں کے بچوں اور اہل خانہ پر نجی سکولوں کالجوں اور ہسپتالوں کے دروازے بند کر دیے جائیں، وہ اپنے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں اور ان کا علاج معالجہ بھی سرکاری ہسپتالوں سے ہو، تبھی یہ کٹھور بااختیار لوگ ان اداروں میں جدید تعلیمی و طبی سہولتوں کو یقینی بنائیں گے کہ یہ صرف اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے بارے میں سوچتے ہیں، ملک و قوم جائے بھاڑ میں، لیکن طوطی کی آواز آج تک نقار خانے میں کسی کو سنائی نہیں دی، عمران خان بار بار دوہرے نظام تعلیم اور نظام صحت کی بات کرتے ہیں مگر یہ پابندی لگانے کی جرأت وہ بھی نہیں کر سکے۔ آج یہ اعلان کر دیں اور پھر بے فکر ہو جائیں، منتخب عوامی نمائندے اور بیورو کریٹس خود ہی میو ہسپتال، جناح ہسپتال اور دیگر سرکاری ہسپتالوں کو معیار اور سہولتوں میں آغا خان، شوکت خانم اور دیگر مثالی ہسپتالوں کے برابر لاکھڑا کریں گے۔

تعلیم اور صحت کا بیڑا مختلف حکومتی پالیسیوں نے غرق کیا، مقروض قوم کی سنگدل قیادت نے یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ صحت مند اور تعلیم یافتہ شہری ہی کسی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، جاہل، پسماندہ، لاغر اور بیمار آدمی کو موٹر وے پر لگژری بس میں بٹھا دو یا اورنج ٹرین اور ایئر کنڈیشنڈ میٹرو پر سوار کر دوقوم و ملک تو درکار اپنے خاندان کے لئے مفید ثابت نہیں ہو سکتا، چین نے اس راز کو بروقت پایا، ایک صحت مند اور تعلیم یافتہ قوم کو ڈینگ سیاوپنگ نے غیر ضروری پابندیوں سے آزاد معیشت سدھارنے کا ٹاسک دیا صرف تیس سال پینتیس سال میں کایا پلٹ دی، آج امریکی صدر ٹرمپ حسد کا شکار ہے اور کورونا کی وبا کو چین کی معیشت کے آگے بند باندھنے کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرنے کا خواہش مند۔ خدا کا شکر ہے کہ کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لئے حکمرانوں میں اپنے وسائل اور صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی سوچ ابھری، ہم ماسک، ٹیسٹنگ کٹس، وینٹی لیٹر اور سینی ٹائیزر مقامی طور پر بنانے کے قابل ہوئے اور بیرونی انحصار کی پالیسی پر نظرثانی کا موقع ملا، لاک ڈائون کے ضمن میں بھی حکمرانوں نے مقامی حالات اور قومی ضرورتوں کو مدنظر رکھا اور کافی حد تک فائدے میں رہے، کورونا کے صدقے ہماری ہئیت مقتدرہ کو اٹھارہویں ترمیم کی تباہ کاریوں سے آگہی ملی، تعلیم اور صحت کے شعبے پر اٹھارہویں ترمیم کے مُضر اثرات کا مشاہدہ ہم سب گزشتہ دس سال سے کر رہے ہیں کہ صوبوں کو ملنے والے وسائل فضول خرچی، نمود و نمائش اور کرپشن کی نذر ہو گئے اور سرکاری تعلیمی و طبی ادارے میں اُلو بولنے لگے، ایک وائس چانسلر نے چند سال پیشتر تاسف سے بتایا کہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمشن میں جو فائل ایک ہفتے میں کلیر ہوا کرتی تھی اب صوبوں کا محکمہ تعلیم چھ ماہ میں بھی کر دے تو ہم مٹھائی بانٹتے ہیں بائیسویں گریڈ کا وائس چانسلر اٹھارہویں گریڈ کے سرکاری افسر کے روبروہاتھ باندھ کر کھڑا نہ ہو تو اپنا منصب بمشکل بچا پاتا ہے۔

کئی سرکاری جامعات کے وائس چانسلر سرکاری افسروں کی ریشہ دوانیوں کے طفیل زنداں کو سدھارے۔ وفاق قرضے لے کر نہ صرف سابقہ قرضوں کی قسطیں چکاتا، قومی دفاع کے لئے وسائل فراہم کرتا بلکہ تنگدستی کے باوجود صوبوں میں کھربوں روپے کے فنڈ بانٹتا مگر ہمیشہ تنقید کا ہدف بنتا اور طعنہ سنتا کہ ہم سے سوتیلی ماں کا سلوک کر رہا ہے۔ صوبے اپنی جملہ نااہلی کا ملبہ وفاق پر ڈال کر عوام کے روبرو سرخرو اور شاد کام۔ رمیزہ نظامی نے اسد عمر سے میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کے حوالے پوچھا تو انہوں نے اٹھارہویں ترمیم کی قباحتیں بیان کئے بغیر سیاسی جماعتوں کو دعوت فکر دی یہ بھی طرفہ تماشہ ہے کہ جو احباب آئین میں ایسی اسلامی شقوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہیں جو قومی اتفاق رائے اور عوامی جذبات و احساسات کی مظہر ہیں، اٹھارہویں ترمیم کا نام سن کر حواس کھو بیٹھتے ہیں۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ میاں نواز شریف نے تیسری بار وزیر اعظم بننے اور آصف علی زرداری نے ہمیشہ اقتدار میں رہنے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کے متفقہ وفاقی پارلیمانی آئین کی جڑوں میں اٹھارہویں ترمیم کا ڈائنامیٹ رکھا اور اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی، رضا ربانی ایسوں کو خوش کیا، جنہیں محمد علی جناح کو قائد اعظم کہتے موت پڑتی اور پاکستان و دستور پاکستان کے اسلامی تشخص سے چڑ ہے۔ کورونا کے طفیل اگر ریاست کی ترجیحات بدل جائیں، وسائل کا رخ عوام کی طرف مڑے اور آئین اٹھارہویں ترمیم جیسی مکروہات سے پاک ہو جائے تو یہ شر سے خیر کا ظہور ہو گا ہم خوش، ہمارا خدا خوش، عددے شر برانگیز و کہ خیر، درآں باشد۔

Share this story

Leave a Reply