کہتی ہے تجھے خلق خدا غائبانہ کیا

Share this story

کہتی ہے تجھے خلق خدا غائبانہ کیا

ارشاد احمد عارف

 

جوش خطابت میں مولانا طارق جمیل نے وہی کچھ کہا جو ہم سب اپنی نجی محفلوں میں کہتے اور اپنی حق گوئی کا ڈنکا بجاتے ہیں مولانا نے پوری قوم، تاجروں اور میڈیا کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جو زیادتی ہے مگر اچھنبے کی بات نہیں، کہ ہم اہل صحافت اس سے کہیں زیادہ تلخ باتیں قوم، اس کے من پسند لیڈران، تاجروں اور اپنے ہی شعبہ کے بارے میں کرتے اور ایک دوسرے کی طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ جھوٹ، مکروفریب اور دیگر سماجی برائیوں میں لت پت قوم کی تشخیص اور گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، بددیانتی کے مرتکب تاجروں کے بارے میں مولانا کے نقطہ نظر سے شائد کوئی اختلاف نہ کرتا مگر ہمالیہ جیسی غلطی یہ ہوئی کہ موصوف نے آزادی اظہار کے علمبردار اور ہر فرد اور ادارے سے حساب کتاب کے طلبگار طبقے کو بھی آئینہ دکھا دیا، یہ جرم نہیں، ناقابل معافی جرم ہے۔

سیاستدانوں نے ووٹ بٹورنے اور سادہ لوح قوم کو بے وقوف بنانے کے لئے ہمیشہ راگ الاپا کہ وہ دنیا کی ذہین، بااُصول، ایماندار، جفا کش اور ہر فن مولا اقوام میں سے ایک ہے، اپنی چکنی چپڑی باتوں سے وہ اقتدار میں آتے اور لوٹ مار، اقربا پروری، غلط بخشی کا بازار گرم کرتے ہیں مگر قوم نے بار بار دھوکہ کھانے کے باوجود اپنے آپ کو غلطیوں اور کمزوریوں سے مبرا سمجھا نہ اجتماعی سطح پر اظہار شرمندگی سے گریز کیا، جب بھی کسی مبلغ اور داعی نے غلطیوں کی نشاندہی کی، عامتہ الناس کی آنکھ سے ندامت کا آنسو ٹپکا اور توبہ و استغفار کی صدا بلند ہوئی، گناہگار سے گناہگار پاکستانی بھی اپنے اہل خانہ اور قریبی حلقہ احباب کے روبرو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا اور اپنی اولاد کو ہر ممکن اجتناب پر اکساتا ہے، معدودے چند سیہ بختوں کے سوا جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی، وہی رعونت آمیزڈھٹائی سے اپنی بداعمالی پر اتر اتے اور اپنے ہونہار جانشینوں کو نقش قدم پر چلتے دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے،

مولانا سے دوران دعا دو غلطیاں اور ہوئیں، عمران خان کو دیانتدار کہہ دیا اور وزیر اعظم ہائوس میں بیٹھ کر حدیث مبارکہ پڑھ دی، جن مذہب بیزاروں کو ابھی تک ضیاء الحق نہیں بھولا، ایوان صدر میں قرآن خوانی، میلاد النبی ﷺ اور نعت کی محفلیں اور پاکستان ٹیلی ویژن کی انائونسروں کے دوپٹے یاد کر کے جن کو غشی کے دورے پڑتے ہیں، انہیں ایک بار پھر وزیر اعظم ہائوس میں مولانا کی رقت آمیز دعا، قال اللہ و قال الرسولؐ کا ورد، کورونا کی ابتلا سے چھٹکارہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنے کی تلقین اور خواتین کو دینی و قومی اقدار کے مطابق لباس پہننے کی نصیحت سے کتنی تکلیف پہنچی ہو گی؟ کتنا صدمہ ہوا اس کا اندازہ صرف وہی کر سکتے ہیں جنہیں ہمارے لبرل سیکولر طبقے کے مزاج، انداز فکر سے شناسائی ہے، شیریں مزاری کی ٹویٹ اس کی مظہر۔ شیریں مزاری شائد عمران خان کو ایماندار کہنے پربھی برہم ہوں۔ یہ جرأت کسی میں بھی نہیں کہ دل کی بات زباں پر لا سکے، قوم، تاجروں اور شعبہ صحافت کی اہانت کا نعرہ لگا کر مولانا کا گھیرائو آسان تھا، کر دیا مگر مولانا زیادہ سیانے بلکہ، کائیاں نکلے، ایک کٹھ مُلاّ کی طرح بحث میں الجھے نہ کسی کو بات بڑھانے کا موقع دیا، یہ تک نہ کہا ” وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے “اور دس سال جلا وطنی کا معاہدہ کر کے دیار رسول ﷺ میں انکار کرنے والے لیڈراور ان کے صریح جھوٹ کا دفاع کرنے والے کروڑوں ووٹر، سپورٹر کس دیس کے باسی ہیں؟ رمضان المبارک کی آمد پر سبزیاں، پھل، گھی، پکوڑے، سموسے، چینی کئی گنا زیادہ داموں پر بیچنے والے تاجر کس ملک میں بستے ہیں؟ کورونا وبا پھیلتے ہی ماسک، سینی ٹائزر، دستانے، ادویات کس نے مہنگے بیچے؟ مضر صحت مشروبات اور کتوں کھچوئوں اور گدھوں کا گوشت کہاں بکتا ہے؟ جھوٹ اور دھوکہ دہی کے اس کاروبار سے میڈیا اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا۔ لٹیروں، ٹیکس چوروں، قرض خوروں اور قوم کا مستقبل تباہ کرنے والوں کا دفاع کون کرتا ہے؟ اور اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے سزا یافتہ قومی مجرموں کی پاکدامنی کی قسمیں کون کھاتا ہے؟ کسی سے مخفی نہیں۔”میرا جسم میری مرضی” کی بے ہودہ تحریک، ویلنٹائن ڈے کے کلچر اور انڈین ننگ دھڑنگ فلموں کو میڈیا کے سوا کس نے پرمُوٹ کیا؟ کچھ بھی نہ کہااور کہہ بھی گئے،

انہوں نے معذرت پر اکتفا کیا یہی کسی مبلغ کو زیبا ہے لیکن ہم میں سے کوئی سینے پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی جو حدیث مبارکہ مولانا طارق جمیل نے دوران دعا پڑھی، یہ معاشرہ اس پر عمل پیرا ہے؟ جھوٹ سے گریز، امانت و دیانت کی پاسداری، بے حیائی کی حوصلہ شکنی اور رزق حلال کی کدوکاوش، کیا کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد ہمارا چال چلن بدلا، بلا شبہ میڈیا میں ایسے پاکباز موجود ہیں کہ جو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں اور اپنے ہاتھ کی کمائی کو خلق خدا پر لٹانے، مشکل میں کام آنے، لنگر چلانے، گھروں میں راشن لے جانے والے تاجر اور اللہ سے ڈرنے دائم سچ پر قائم رہنے، رزق حلال کی جستجو میں سر گردان رہنے والے عامی بھی، مگر کوئی مبلغ ہو یاقوم کا حقیقی خیر خواہ سیاستدان، دانشور، صحافی اور تجزیہ کار جب کلام کرتا ہے تو معاشرے کا عمومی چلن اس کے مدنظر ہوتا ہے، رسول اکرمﷺ نے جب فاران کی چوٹی سے اہل مکہ کو مخاطب کیا تو معاشرے کی خوبیاں بیان کرنے کے بجائے، اجتماعی غلطیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی فرمائی، و کنتم علی شفا حفرۃ من النارفانقذکم(اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، پر تم کو اس سے نجات دی) اس تباہ حال اور منکر خدا مکّی معاشرے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت عثمان غنیؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور حضرت حمزہ ؓ جیسی سعید روحیں موجود تھیں۔ مگر بعثت نبویؐ سے قبل کے معاشرے کی عکاسی ابوجہل، ابو لہب، کعب بن اشرف اور دیگر دشمنان خدا و رسولؐ کی بداعمالیوں سے ہوتی ہے، یہی بدبخت قوم کو جہنم کے کنارے پر لے گئے تھے؟ ان کے اعمال و افعال سے چھٹکارے کی تلقین ہوئی۔ یہی کسی قوم کو راہ راست پر لانے کا نبوی ؐ طریقہ ہے۔

مولانا طارق جمیل نے کھلے دل سے معذرت کی، پوری قوم اور میڈیا کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے پر معذرت سے ان کا قد بلند ہوا، مداحوں کو صدمہ پہنچا اور ناقدین خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں۔ مگر ان کے خطبے سے بحیثیت قوم اپنے گریباں میں جھانکنے کا جو ہمیں موقع ملا تھا وہ خلط مبحث نے گنوا دیا، ثابت یہ ہوا کہ ہمارے طبقاتی مفادات بالاتر ہیں، تنقید کے باب میں ہم دو عملی کا شکار ہیں، عدلیہ اور فوج تو درکار ہم مذہب کو بھی نہیں بخشتے، قوم کے مذہبی جذبات و احساسات اور اخلاقی اقدار و روایات پر تنقید اور بحث مباحثے کو پیدائشی حق سمجھتے ہیں، مگر ہمیں کوئی سچ بولنے، جھوٹے سے بچنے کی تلقین کرے، گردن زدنی ہے، سرعام پھانسی کا مستحق نہ سہی، غیر مشروط معافی کا مکلّف بہرحال۔ میرے لئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ میڈیا کی برہمی اور مولانا کی معذرت پر خلق خدا کا ردعمل اہل صحافت کے خلاف رہا، اتنا زیادہ خلاف کہ خدا کی پناہ۔ چاہیں تو اسے آواز خلق سمجھیں ورنہ کسی میڈیا سیل کی کارستانی، مولانا کی معذرت پر گلیلیو یاد آیا، وہی گلیلیو جس نے سورج کے گرد زمین کی گردش کا نظریہ پیش کیا تو عدالت نے حکم دیا وہ توبہ کرے اور یہ یقین دہائی کرائے کہ آئندہ یہ نہیں کہے گا “زمین سورج کے گرد گھومتی ہے” جان بچانے کے لئے گلیلیو نے کہہ دیا کہ زمین سورج کے گرد نہیں گھومتی، عدالت سے باہر نکل کر گلیلیو مسکرایا اور کہنے لگا “میرے یہ مان لینے سے زمین کون سا سورج کے گرد گھومنا بند کر دے گی” اب یہ عدالت جانے اور زمین جانے۔

Share this story

Leave a Reply