گستاخانہ خاکوں کی وجہ سےمسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے، وزیرخارجہ

Share this story

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ فرانسیسی میگزین کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے،گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف پاکستان نے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی پر زور مذمت کرتے ہوئے حکومت فرانس کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا۔

اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کخلا ف اپنے ویڈیو پیغام میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ فرانسیسی میگزین کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ،لوگ مشتعل ہیں،اس حرکت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کا رحجان دنیا میں بڑھتا چلا جا رہا ہے، پاکستان نے ہر عالمی فورم پر اس مسئلے کی نشاندہی کی۔

یہ بھی پڑھیے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کا گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کا اعلان

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر مل بیٹھ کر یہ سوچنا چاہیئے کہ ایسے رحجانات کو کیسے روکا جائے جو دوسروں کے جذبات مجروح کرتے ہوں، توقع ہے کہ عالمی برادری فی الفور اس مسئلے کا تدارک کرے گی اور ایسے رحجانات کی بیخ کنی کرے گی۔

وزیر خارجہ نے مزیدبتایا کہ حکومت پاکستان نے حکومت فرانس کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے، امید کرتے ہیں کہ ذمہ داران کو کٹرہے میں لایا جائے گا اور ایسی گستاخانہ حرکت نہیں دہرائی جائے گی،آزادی ء اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے ہاتھ دوسروں کی دل آزاری کا لائسنس آ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے  فرانسیسی صدر کا حضرت محمدﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کی مذمت سے انکار

واضح رہے کہ فرانسیسی صدر گزشتہ روز بیان دے چکے ہیں کہ وہ حضرت محمد ﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کی مذمت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں آزادی اظہار رائے کا حق ہے، جمہوریہ کے کسی صدر کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا کہ وہ صحافی یا نیوز روم کے ادارتی انتخاب کے بارے میں فیصلہ دے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے پیغمبر اسلام ﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے تازہ بیان نے کروڑوں مسلمانوں کی جذبات کو نہ صرف مجروح کیا ہے بلکہ ان کے غم و غصے میں بھی اضافہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کی مذمت نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے ملک میں آزادی اظہار رائے کا سب کو حق ہے۔

 

Share this story

Leave a Reply