گلاب چہرے پہ جھیل آنکھیں

Share this story

گلاب چہرے پہ جھیل آنکھیں

ارشاد احمد عارف

 

“اے میری سرگزشت پڑھنے والو!جان لو کہ میں، جو امیر تیمور ہوں اور دنیا والے جس کا نام سن کر تھر تھر کانپنے لگتے ہیں تو مجھ جیسا گیلان کے علاقے سے سرپہ پائوں رکھ کر بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔ جس چیز نے مجھے بھاگنے پر مجبور کیا وہ گیلان کی حد سے زیادہ خوبصورت عورتیں تھیں۔ میں نے دنیا کے کسی خطے میں گیلان ایسی خوبصورت اور دلربا عورتیں نہیں دیکھیں اور اگر یہ کہوں کہ گیلان ایک بہشت ہے جہاں حوریں ہی حوریں ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ گیلان کی تمام عورتیں سفید رنگ اور پھولوں کی طراوت ایسے چہرے کی مالک ہیں۔ ان کی آنکھیں اور ابرو سیاہ اور بعض کی آنکھیں نیلے رنگ کی ہوتی ہیں۔ ان کے سڈول جسم میں بلا کی کشش ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ ان کے سفید رنگ اور خوبصورتی کا راز اس میں ہے کہ وہ چاول اور مچھلی بکثرت استعمال کرتی ہیں۔ میں نے کہا تو پھر گیلان کے مرد ایسے کیوں نہیں حالانکہ وہ بھی چاول اور مچھلی کھاتے ہیں لیکن ان کی طرح سفید اور خوبرو کیوں نہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ گیلانی عورتوں کے خمیر میں ضرور کوئی ایسی چیز ہے جو انہیں دوسری عورتوں سے ممتاز بناتی ہے۔ اسی لئے وہاں کی تمام عورتیں انتہائی خوبرو اور پرکشش ہیں۔

جب میں گیلان میں داخل ہوا تو اسی وقت سمجھ گیا کہ میں اپنے پیروں پر چل کر ایسی جگہ چلا آیا ہوں جہاں میرے اور میرے سپاہیوں کی بربادی کا سامان پوری طرح مہیا ہے۔ آج سے سالوں قبل، جیسا کہ بتا چکا ہوں کہ میں نے خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کیا تھا کہ میں شہروں میں قیام نہیں کروں گا مگر بوقت ضرورت اور وہ بھی مملکت کے اہم امور کی انجام دہی کے لئے۔ میں خدا سے یہ عہد کر چکا ہوں کہ ہمیشہ اپنے سپاہیوں کے ساتھ دشت و بیاباں میں زندگی گزاروں، اپنے جسم کو عیش اور آرام کی عادت نہ ڈالوں، عورتوں سے دوری کروں سوائے ان کے جو ماوراء النہر میں میری بیویاں ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ عیش و عشرت کی عادت اور عورتوں سے میل جول کی لت ایک جنگجو مرد کواتنا ذلیل کرتی ہے کہ وہ آخر کار مکمل طور پر برباد ہو جاتا ہے۔ لیکن گیلان کی پری چہرہ عورتیں میرے اور میرے سپاہیوں کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے ڈال رہی تھیں اور اگر میں اس گھڑی نفس انسانی کے ہاتھوں مغلوب ہو کر گیلان میں ٹھہرا رہتا تو اپنی جنگی قدرو قیمت کھو بیٹھتا اور میرےسپاہی بھی میری طرح سست اور بے ارادہ ہو کر کسی کام کے نہیں رہتے۔ میری شان و شوکت والی فوج دلیر سپاہیوں کی بجائے دل باختہ مجنوئوں کا ٹولہ بن جاتی۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے گیلان میں انتہائی مختصر قیام کا فیصلہ کیا اور اپنے سپاہیوں کو گیلانی عورتوں کی کشش سے بچانے کے لئے فوج میں انتہائی دقیق اور سخت نظم و ضبط برقرار کیا اور حکم دیا کہ فوجی چھائونی ایسے علاقوں میں قائم کی جائے جو گیلان کے شہروں سے بہت دور ہوں تاکہ سپاہی عورتوں کو تاکنے کے لئے شہر نہ جا سکیں!

اگرچہ گیلان کا مرکز لاہیجان نامی شہر ہے مگر وہاں ایک اور شہر بھی ہے جو اسپہبدان کے نام سے مشہور ہے (یہ شہر بھی بندرگاہ گوتم کی طرح آج موجود نہیں ہے۔ مترجم)جب میں اسپہبدان میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کے مرد اور عورتیں بلا امتیاز سفید پوش ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس شہر کے باشندے جس دن سے دنیا میں آئے ہیں تو مرنے کے دن تک سفید کپڑے کے علاوہ اور کوئی لباس زیب تن نہیں کرتے حتیٰ کہ سوتے وقت بھی صرف سفید بستر پر لیٹتے ہیں۔ اگر گیلان کو حوروں کی سرزمین کہا جائے تو اسپہبدان کو اس کا حسین ترین غرفہ کہلانے کا مستحق ہے۔ اس شہر کے مرد بھی عورتوں کی طرح انتہائی خوبصورت ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہاں حوروں کے پہلو میں غلمان کی کمی پوری ہو گئی ہے! مذکورہ شہر میں سب سے عجیب بات یہ تھی کہ میں نے وہاں ایک بھی ایسا باشندہ نہ دیکھا جس کی آنکھیں سیاہ ہوں۔ وہاں کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں کی آنکھیں نیلے رنگ کی ہوتی ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ یہاں کے باشندے غیر لوگوں سے وصلت نہیں کرتے۔ صرف اپنی ہی قوم میں شادیاں کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نسل میں غیر نسل کی آمیزش نہیں ہوتی اور چونکہ مقامی نسل کی آنکھیں نیلی ہیں اسی لئے یہاں کے مرد اور عورتیں نیلی آنکھوں والے ہیں۔

مجھے بتایا گیا کہ قدیم زمانے میں اس علاقے میں ایسے امراء حکومت کرتے تھے جنہیں اسپہبدان کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس شہر کے نام کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے۔ اہل اسپہبدان کا کاروباری مشغلہ ریشم کے کیڑے پالنا اور ریشمی کپڑا بننا ہے۔ اسی لئے وہاں ایک بھی زراعت کار نظر نہیں آتا۔ اس شہر کے سارے باشندے کیا مرد، کیا عورتیں، ریشم کے کیڑے پالنے اور ریشمی کپڑا بننے کے ماہر ہیں۔ مجھے ان کی کارگاہ دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔

میں نے وہاں حوروں جیسی عورتوں کو کھڈیوں پر کپڑا بنتے دیکھا اور مشاہدہ کیا کہ وہ اپنے نرم و گداز ہاتھوں سے انتہائی لطیف اور نازک ریشمی کپڑا بن رہی ہیں۔ میں جب بھی کسی کارگاہ میں قدم رکھتا تو دل ہی دل میں اس بات کی تصدیق کرتا کہ ایسا خوبصورت کپڑا بننے والی اپنے ہاتھوں سے بنی ہوئی مصنوعات سے کہیں زیادہ خوبصورت اور پرکشش ہیں۔ میں جب بھی ایسا سوچتا تو مجھے “مولوی” (مولانا روم) کے وہ الفاظ یاد آ جاتے جو اس نے اپنی کتاب مثنوی میں کہے تھے کہ ہمیشہ ایک تخلیق، اپنے تخلیق کار سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ اگر مثنوی کے لکھنے والا بقید حیات ہوتا تو میں اسے قونیہ سے گیلان لاتا اور وہاں سے اسپہبدان بھیج دیتا تاکہ وہ ریشمی کپڑا بنانے والی کارگاہوں کا چکر لگائے اور اپنی آنکھوں سے اپنا مقولہ غلط ہوتا دیکھ لے اور اس پر ثابت ہو جائے کہ وہاں کا تخلیق کار، اپنی تخلیق سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے! وہاں کی عورتوں کے نرم و گداز ہاتھوں سے تخلیق ہونے والی شے، گرچہ ازحد خوبصورت اور پرکشش ہے مگر بے جان ہے۔ اس کی آنکھیں بھی نہیں جو انسان کو دیکھ سکیں لیکن اتنی خوبصورت مصنوعات بنانے والیوں کے جسم میں روح بھی ہے اور چہرے پر دو آنکھیں بھی جو تمہیں دیکھ سکتی ہیں مگر تم نیلی اور گہری آنکھوں کی طرف بھولے سے بھی نہ دیکھنا ورنہ تمہارا دل تمہارے بس میں نہ رہے گا اور تم لڑائی کی خو بھول کر دوسروں کا سینہ چاک کرنے کی بجائے اپنا گریبان تار تار کرنے کی سوچنے لگو گے!

یہی وجہ تھی کہ میں اسپہبدان میں دو دن سے زیادہ نہ رکا اور اپنی فوج کے ساتھ گیلان کے علاقے سے نکل گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر اس جنت نما مقام پر ہمارا قیام جاری رہا تو کہیں میری فوج تتر بتر نہ ہو جائے اور میں بھی نفس انسانی کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہیں دھرنا مار کر نہ بیٹھا رہوں۔ چنانچہ ہم تیزی سے گیلان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے طالش نامی سرزمین پر داخل ہو گئے۔”(امیر تیمور گرگانی کی خود نوشت “میں ہوں تیمور” کا ایک ورق)

Share this story

Leave a Reply