گلگت بلتستان انتخابات میں تحریک انصاف نے میدان مار لیا

Share this story

گلگت بلتستان انتخابات، 23 حلقوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف سب سے زیادہ سیٹیں جتنے میں کامیاب

اسکردو: گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق 24 میں سے 23 حلقوں کے مکمل نتائج سامنے آئے ہیں جن میں سے پی ٹی آئی 9، پیپلزپارٹی 4، ایم ڈبلیو ایم 1 اور 7 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این)، پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم (پی ایم ایل کیو)، جمیعت علماء اسلام فضل الرحمان (جی یو آئی ایف)، جماعت اسلامی (جے آئی)، مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم)، ایم کیو ایم پاکستان، آل پاکستان مسلم لیگ سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں نے 23 حلقوں پر ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کی کُل 24 نشستیں ہیں جن میں سے ایک حلقے گلگت 3 میں امیدوار کے انتقال کی وجہ سے الیکشن کو ملتوی کیا گیا۔

گلگت بلتستان میں 1160 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں سے 418 کو انتہائی حساس جبکہ 311 کو حساس قرار دیا گیا تھا، 23 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں 330 امیدواران نے حصہ لیا۔

گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ بنانے کے لیے کسی بھی پارٹی کو کم از کم 13 نشستوں کی ضرورت ہوگی، جس پارٹی کے اتنے یا اس سے زیادہ امیدوار کامیاب ہوئے قانون ساز اسمبلی اور صوبے میں اگلا وزیراعلیٰ اُس کا ہوگا۔

الیکشن کا عمل بغیر کسی وقفے کے صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پولنگ سٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔ دس اضلاع کے 23 حلقوں سے 7 لاکھ سے زائد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ گلگت حلقہ 3 میں تحریک انصاف کے صدر جعفر شاہ کی اچانک موت کے بعد اس حلقے میں انتخابات 22 نومبر کو ہونگے۔

پولنگ سٹیشن کے 100 میٹر حدود کے اندر پوسٹرز اور بینرز لگانے اور چار سو میٹر کے اندر انتخابی مہم چلانے پر بھی پابندی عائد تھی۔ انتخابات کو صاف، شفاف، غیر جانبدار اور پرامن بنانے کیلئے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان اور صوبائی حکومت نے تمام تر انتظامات مکمل کئے تھے۔

اس سلسلے میں 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے پولنگ سٹیشنز پر خدمات سرانجام دیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کے دیگر صوبوں سے بھی پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے خصوصی دستوں نے بھی یہاں خدمات سر انجام دیں۔

انتخابات کیلئے ایک ہزار ایک سو ساٹھ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے جن میں سے 311 کو حساس اور 428 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور مقامی پولیس کے دس ہزار اہلکارڈیوٹی پر تعینات کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پیراملٹری فورسز نے بھی فرائض انجام دیے۔

سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان میں بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ حکمران جماعت پی ٹی آئی، پی پی اور نواز لیگ نے جلسے، ریلیوں اور کارنر میٹنگز میں خوب جان ماری۔ امیدواروں نے کامیابی کے دعوے بھی کئے۔

کورونا صورتحال کے پیش نظر تمام پولنگ سٹاف، سکیورٹی اہلکاروں اور ووٹرز کو ماسک بھی مہیا کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ عملے کو حفاظتی سامان کے آٹھ ہزار بیگ تقسیم کئے گئے تھے۔ حفاظتی سامان میں ماسک، گلوز، ہیڈ سینی ٹائزر، معلوماتی پوسٹر اور پلاسٹک فیس کور شامل تھے۔ پولنگ سٹیشنوں کے اندر ووٹرز ایک دوسرے سے چھ فٹ کے فاصلے پر رکھا گیا۔

کچھ مقامات پر پولنگ کے عمل میں سست روی کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ انتخابی عمل اور سیکیورٹی کا جائزہ لینے کیلئے چیف الیکشن کمشنر نے مرکزی کنٹرول روم اور پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا۔

چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے انتخابی عمل اور سیکورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام ذمہ داری کیساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان میر افضل خان کا کہنا ہے کہ عوام میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کیلئے شعور اجاگر ہوا۔ مثالی الیکشن کا انعقاد یقینی بنایا۔

Share this story

Leave a Reply