ہر 5سیکنڈ میں ایک بچہ! پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا

Share this story

کراچی(این این آئی): پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا۔ چین، بھارت، امریکا اور انڈونیشیا کے بعد آبادی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

جرمن میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے کہاہے کہ پاکستان کی آبادی گیارہ جولائی 2020 میں 22 کروڑ دس لاکھ ہوگئی ہے جس کے بعد مملکت خداداد نے آبادی کے لحاظ سے برازیل کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 1950 سے جولائی 2020 تک پاکستان کی آبادی میں چھ گنا اضافہ ہوا، ملک کی موجودہ سالانہ شرح پیدائش دواعشاریہ 8 فیصد سے بھی زیادہ ہے، ماہرین کے مطابق آبادی میں اضافے سے ملکی وسائل پربوجھ میں اضافہ ہورہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ سات دہائیوں کے دوران ان کے ملک کی آبادی ناقابل یقین حد تک تیز رفتار اضافے سے تقریبا چھ گنا ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق قیام پاکستان کے تین سال بعد 1950 کے وسط میں پاکستان کی مجموعی آبادی 37.54 ملین یا پونے چار کروڑ سے کچھ ہی زیادہ تھی۔لیکن بیسویں صدی کے وسط سے لے کر اکیسویں صدی کے پہلے بیس سال تک کے دوران پاکستان کی آبادی میں اضافہ اتنی تیزی سے ہوا کہ اب اس بات کو بھی عشرے ہو گئے ہیں کہ ماہرین آبادی میں اس اضافے کے لیے “ٹائم بم” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

تشویش کی بات یہ ہے کہ آبادی سے متعلقہ امور کے ماہرین کے مطابق یہ “پاپولیشن بم” آج بھی ٹک ٹک کر رہا ہے اور ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین اس رکاوٹ کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ پاکستان میں سماجی ترقی، قومی وسائل اور اوسط فی کس آمدنی میں اضافہ اس رفتار سے نہیں ہو رہا۔ جس رفتار سے آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلقہ امور کے شعبے کے گزشتہ برس اگست میں سال رواں کے لیے لگائے گئے اندازوں کے مطابق آج سے دس روز پہلے، یعنی سال رواں کی دوسری ششماہی شروع ہونے تک پاکستان کی مجموعی آبادی یقینی طور پر تقریبا 220.9 ملین یا 22 کروڑ 10 لاکھ کے قریب ہو جانا تھی۔ اس کا مطلب ہے جولائی 1950 سے لے کر جولائی 2020 تک ملکی آبادی میں تقریبا چھ گنا اضافہ۔یہ اسی “پالولیشن بم” کا نتیجہ ہے کہ پہلے اگر پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک تھا تو آج مزید ایک درجہ اوپر آ کر یہ ملک دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔

اس وقت دنیا کی مجموعی آبادی 7.8 بلین کے قریب ہے اور عالمی سطح پر سالانہ شرح پیدائش دو فیصد سے زیادہ۔ خود اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں سالانہ شرح پیدائش 2.8 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

اس وقت دنیا میں صرف چار ممالک ایسے ہیں، جن کی آبادی پاکستان سے زیادہ ہے۔ پہلے سے چوتھے نمبر تک کے یہ چار ممالک چین، بھارت، امریکا اور انڈونیشیا ہیں۔ پاکستان برازیل کی جگہ اب پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ برازیل اب چھٹے نمبر پر ہے۔

عالمی آبادی اور اس میں تبدیلیوں پر نگاہ رکھنے والی ایک غیر سرکاری بین الاقوامی ویب سائٹ کنٹری میٹرز ڈاٹ انفو کی ڈیٹا بیس کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس 60 لاکھ 50 ہزار زندہ بچے پیدا ہوئے۔ یہ تعداد تقریبا ساڑھے سولہ ہزار روزانہ یا تقریبا سات سو فی گھنٹہ بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ 2019 میں پاکستان میں اوسطا ہر ایک منٹ میں 11 زندہ بچے پیدا ہوئے، یعنی تقریبا ہر پانچ سیکنڈ بعد ملکی آبادی میں ایک شہری کا اضافہ۔

واضح رہے کہ پاکستان کو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ حقیقت بدل چکی ہے۔ پاکستان کی آبادی میں اضافہ اتنا تیز رفتار ہے کہ جنوبی ایشیا کی یہ ریاست اب دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکی ہے۔ 

Share this story

Leave a Reply