یو این جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع، عالمی رہنماؤں کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے

Share this story

نیو یارک: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ورچوئل اجلاس شروع ہوگیا، امریکا اور چین کے صدور نے جہاں ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کیے، ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ امریکا کا اگلا لیڈر جو بھی ہوگا اسے ایران کے سامنے جھکنا ہوگا۔

عالمی رہنماؤں  نے اقوام متحدہ میں ایک اعلامیئے کی منظوری دی ہے جس میں آئندہ نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لئے عالمی اتحاد اور عزم پر زور دیا گیا ہے۔

اس اعلامیئے کی اقوام متحدہ کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پرایک اجلاس میں منظوری دی گئی جس میں عالمی رہنماؤں نے آن لائن شرکت کی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ورچوئل اجلاس کے پہلے ہی روز عالمی رہنماؤں نے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کر دیئے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکا کا اگلا لیڈر جو بھی ہوگا اسے ایران کے سامنے جھکنا ہوگا، ہم امریکی انتخابات میں بارگیننگ چپ کے طور پر استعمال نہیں ہونگے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو کورونا وائرس کا ذمہ دار قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ چین نے جان بوجھ کر وائرس کو دنیا بھر میں پھیلنے دیا، اقوام متحدہ کو چین سے جواب طلبی کرنی چاہیے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کا نام لیے بغیر تنبیہ کی کہ دنیا کو تہذیبوں کے تصادم کی جانب نہ دکھیلا جائے۔ چین کو سرد جنگ شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریز نے خبر دار کیا کہ تمام ممالک کو مل کر دنیا کو سرد جنگ میں جھونکنے سے بچانا ہو گا۔

Share this story

Leave a Reply