دلی میں مسلم کش فسادات میں 13 افراد جاں بحق، ہندو انتہا پسندوں کا مسجد پر حملہ‎

Share this story

نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر بھارتی پولیس اور انتہا پسند ہندوؤں کے مسلمانوں پر بدترین تشدد کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق ہوگئے۔

بھارتی گجرات کے قصاب مودی نے مرکزی علاقوں میں بھی آگ لگادی۔ پولیس کی سرپرستی میں بی جے پی کے رہنماؤں اور انتہا پسند ہندوؤں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہلی میں متنازع شہریت قانون کے خلاف پرامن دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں خوفناک فسادات پھوٹ پڑے۔

دہلی میں جگہ جگہ اور گلی گلی ہنگامے چھڑ گئے۔ لوگوں کو روک روک کر ان کا مذہب پوچھا جانے لگا۔ بھارتی پولیس کی سرپرستی میں مسلمان مظاہرین پر بدترین تشدد کیا گیا۔

انتہا پسند ہندوؤں نے دہلی کے علاقے اشوک نگر کی مسجد پر حملہ کردیا اس دوران چند انتہا پسند مسجد کے مینار پر چڑھ گئے اورانہوں نے وہاں بھارتی جھنڈے کے ساتھ ہندوؤں کے مذہبی رنگ والا پرچم لہرادیا۔  

ہنگاموں میں 13 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ سیکڑوں دکانیں اور املاک نذرآتش کردی گئیں۔

ان واقعات کی درجنوں ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی پولیس کے سامنے چند لاشیں پڑی ہیں جبکہ پولیس اہلکار دم توڑتے مسلم نوجوانوں کو مارتے ہوئے ان سے جے شری رام کے نعرے لگانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

حملہ آور ہندوؤں نے مسلم مخالف متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کا شامیانہ اکھاڑ پھینکا اور ببانگ دہل کہا کہ انہیں پولیس کی مدد حاصل ہے۔

Share this story

Leave a Reply