متحدہ عرب امارات میں مزید 3 ہندوستانی اسلاموفوبک سوشل میڈیا پوسٹوں کے نتیجے میں ملازمت سے برطرف

Share this story

دبئی ، 03 مئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم مزید تین ہندوستانی شہریوں کو سوشل میڈیا پر اسلامو فوبک پوسٹس کرنے پر یا تو برطرف کردیا گیا ہے یا انھیں معطل کیا گیا ہے۔

گلف نیوز نے ہفتے کے روز بتایا کہ شیف راوت روہت ، اسٹور کیپر ، سچن کینیگولی اور ایک نقدی کا محافظ، جن کی شناخت ان کے آجر کی طرف سے مخفی ہے، ان نصف درجن ہندوستانیوں کی فہرست میں تازہ ترین اضافہ ہیں جنھیں اپنی اسلام اور مسلمان مخالف سوشل میڈیا پوسٹوں کے نتیجے میں کارروائی کا سامنا ہے-

اخبار کا مزید لکھنا ہے کہ “ایسا لگتا ہے کہ ہندوستانی مشن کے انتباہات بہروں کے کانوں پر پڑےہوں، کیونکہ سوشل میڈیا پر مذموم اسلامو فوبیک تبصرے کرنے والے ہندوستانیوں کی فہرست لمبی ہوتی جارہی ہے۔”

20 اپریل کو ، متحدہ عرب امارات میں ہندوستان کے سفیر پون کپور نے ہندوستانی تارکین وطن کو ایسی اشتعال انگیز پوسٹس اور تبصرے آن لائن شائع کرنے کے خلاف متنبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

عرب امارت کے شاہی خاندان کی طرف سے ہندوؤں کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے پر سخت الفاظ میں تنبیہ

رپورٹ کے مطابق، مختلف سوشل میڈیا صارفین کی جارحانہ پوسٹوں کو ان کے آجروں کے سامنے لانے کے بعد کم سے کم تین مزید افراد کو ملازمت سے برطرف یا معطل کردیا گیا ہے۔

اڈٹیا گروپ کے ترجمان جو دبئی میں ایک اعلی درجے کے اطالوی ریستوراں کی ایک چین، ایٹلی چلاتے ہیں،  نے اس بات کی تصدیق کی کہ روہت کو معطل کردیا گیا تھا اور انھیں تادیبی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا۔

شارجہ میں قائم نیومکس آٹومیشن نے بتایا  کہ انہوں نے مزید معلومات تک اپنے اسٹور کیپر کنیگولی کو معطل کردیا ہے۔

“ہم نے اس کی تنخواہ روک دی ہے اور اسے کام پر نہ آنے کو کہا ہے۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ ہم ان معاملات کو قطعی برداشت نہیں کرتے- کوئی  کسی کے مذہب کی توہین میں قصور وار پایا گیا تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔”

دبئی میں واقع ٹرانس گارڈ گروپ نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسے ملازم کو پکڑا  ہے جس نے اپنے فیس بک پیج پر وشال ٹھاکر کے نام سے متعدد اسلام دشمن پیغامات بھیجے تھے۔

ٹرانس گارڈ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ “داخلی تفتیش کے بعد ، اس ملازم کی اصل شناخت کی تصدیق ہوگئی- اس کے تمام اختیارات واپس لے کر ملازمت سے فارغ کردیا گیا اور کمپنی کی پالیسی کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کردیا گیا۔ اس بیان کے مطابق ، وہ دبئی پولیس کی تحویل میں ہے”-

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کی رکن شہزادی هند بنت فيصل القاسمي  نے  پہلے ہی تعصبی ہندؤں کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے پر  سخت الفاظ میں وارننگ دیتے هوئے کہا تھا کہ  “آپ اسی سرزمین سے روٹی کماتے ہیں ، آپ کی طرف سے تضحیک کا نوٹس لیا جائے گا”

Share this story

Leave a Reply