نیویارک میں مسلمانوں کی تدفین مسئلہ بن گئی‎

Share this story

امریکہ میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر شہر نیویارک میں مسلمانوں کی تدفین سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔ نیویارک میں متعدد مسلمان کرونا وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں جن میں بیشتر بنگلادیشی اور دو پاکستانی بھی شامل ہیں۔

نیویارک میں واقع الریان مسلم فیونرل ہوم کے ڈائریکٹر امتیاز احمد نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ اب تک ایک پاکستانی خاتون اور ایک مرد کی میت ان کے پاس لائی جاچکی ہے۔ ان کے علاوہ وہ تین بنگلہ دیشی میتوں کی بھی تدفین کرچکے ہیں۔ انھوں نے انتقال کرنے والوں کی شناخت نہیں بتائی اور کہا کہ پاکستانی اور مسلم کمیونٹی میں اگر کوئی کرونا وائرس کا شکار ہوتا ہے تو اسے چھپایا جاتا ہے۔ ان میتوں کے لواحقین ان کی شناخت عام نہیں کرنا چاہتے۔

امتیاز احمد نے کہا کہ حال میں ان کے واقف ایک پورے خاندان کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے۔ اسی طرح ایک اور پاکستانی جو اوبر چلاتے ہیں، وہ وائرس میں مبتلا ہوئے اور ان کے بعد نہ صرف ان کی بیوی اور بچے بلکہ ان کے والدین بھی بیمار ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم کمیونٹی میں یہ وائرس اس لئے تیزی سے پھیل رہا ہے کہ لوگ اسے چھپارہے ہیں اور کچھ لوگ بے خبری میں اس کا شکار ہورہے ہیں۔ اسی وجہ سے مریض اور ہلاک ہونے والے مسلمانوں یا پاکستانیوں کے درست اعداد و شمار سامنے نہیں آرہے۔

امتیاز احمد نے کہا کہ کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی میت کو اسپتال سے ایک پلاسٹک بیگ میں پیک کرکے دیا جاتا ہے۔ اسے کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ وہ اس میت کو فیونرل ہوم لاتے ہیں جہاں اسے غسل نہیں دیا جاسکتا۔ پلاسٹک کے اوپر کفن ڈال کر تابوت میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اس تابوت کو قبرستان روانہ کیا جاتا ہے۔ کرونا وائرس سے مرنے والوں کا ان کے اہلخانہ دیدار نہیں کرتے۔

انھوں نے بتایا کہ مسلم میتوں کی تدفین سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ ایک میت کو سنھبالنے کے لئے چار سے چھ افراد کی مدد درکار ہوتی ہے۔ جو لوگ برسوں سے یہ کام کررہے ہیں، وہ کرونا وائرس کا نام سن کر بہانہ بناکر چلے جاتے ہیں۔

امتیاز احمد نے کہا کہ میت کو کفن پہنانے اور تابوت میں ڈالنے کے لئے وہ دستانوں کے ساتھ ڈسپوزایبل ایپرن اور ماسک پہنتے ہیں۔ اس کے باوجود میت کو ہاتھ لگانے والے مزدور نہیں مل رہے۔ اسی لئے بعض مسلم فیونرل ہوم براہ راست اسپتالوں سے میت کو کفن پہناکر تابوت میں قبرستان روانہ کردیتے ہیں جہاں ان کی تدفین ہوجاتی ہے۔

انھوں نے نیویارک میں وبا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر نئے دن ان کے پاس پہلے سے زیادہ میتیں آرہی ہیں۔ انھیں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں زیادہ جانی نقصان ہوسکتا ہے۔ مسلم کمیونٹی میں اموات کی زیادہ شرح بنگلہ دیشیوں میں ہے جس کی وجہ شائد یہ ہے کہ چھوٹی سی جگہ میں پورا خاندان اکٹھا رہتا ہے اور ان کے ہاں معمر لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔

امتیاز احمد نے بتایا کہ ایک میت کی تدفین پر چھبیس سو سے چھ ہزار ڈالر تک خرچ آتا ہے لیکن اگر کوئی انتہائی ضرورت مند ہو تو وہ فیونرل ہوم کا معاوضہ نہیں لیتے۔ انھیں صرف قبرستان کا معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتے تو مسلمان فلاحی تنظیم اکنا ریلیف ادائیگی کردیتی ہے۔

Share this story

Leave a Reply